Monday, 10 August 2020

بے گھروں کو شعور چھت کا ہے

مرحلہ یوں تو دور چھت کا ہے
اک تصور ضرور چھت کا ہے
کتنا لازم ظہور چھت کا ہے 
بے گھروں کو شعور چھت کا ہے
خالقِ ابر ⛈ ایک گستاخی 
اب کے بھی کیا قصور چھت کا ہے
تُو جو دھتکارتا ہے پیڑوں🌴 کو 
تیرے سر میں فتور چھت کا ہے
چھتریوں نے کبھی ڈھکے ہیں عیب
ظرف یہ بھی حضور چھت کا ہے

پارس مزاری

No comments:

Post a Comment