مرحلہ یوں تو دور چھت کا ہے
اک تصور ضرور چھت کا ہے
کتنا لازم ظہور چھت کا ہے
بے گھروں کو شعور چھت کا ہے
خالقِ ابر ⛈ ایک گستاخی
تُو جو دھتکارتا ہے پیڑوں🌴 کو
تیرے سر میں فتور چھت کا ہے
چھتریوں نے کبھی ڈھکے ہیں عیب
ظرف یہ بھی حضور چھت کا ہے
پارس مزاری
No comments:
Post a Comment