Monday, 10 August 2020

امیر شہر اس اک بات سے خفا ہے بہت

امیرِ شہر اس اک بات سے خفا ہے بہت
کہ شہر بھر میں سگ‌ درد چیختا ہے بہت
ہر ایک زخم سے زخموں کی کونپلیں پھوٹیں 
جو باغ تم نے لگایا تھا، اب ہرا ہے بہت 
ذرا سی نرم روی سے پہنچ گئے دل تک
تناؤ تھا تو سمجھتے تھے فاصلہ ہے بہت
جو دَم گھٹے تو شکایت نہ کیجیئے صاحب
کہ سانس لینے کو زہروں بھری ہوا ہے بہت
مماثلت کے حوالوں میں مت تلاش کرو
عمومیت سے ہماری غزل جدا ہے بہت

ظفر صہبائی

No comments:

Post a Comment