Monday, 10 August 2020

اے ہمسفر یہ راہبری کا گمان چھوڑ

اے ہم سفر یہ رہبری کا گمان چھوڑ
کس نے کہا ہے تجھ سے قدم کے نشان چھوڑ
پھر دیکھ زندگی کے مزے تجربوں کے رنگ
باہر قدم نکال، ذرا سائبان چھوڑ
اب دوستی نہیں نہ سہی، دشمنی سہی
کوئی تو رابطے کی کڑی درمیان چھوڑ
اس کی وفائیں صرف ہواؤں کے ساتھ ہیں
یہ اعتمادِ دوستیٔ بادبان چھوڑ
تلوار کی زبان سمجھنے لگے ہیں لوگ
اب یہ مہاتماؤں کا طرزِ بیان چھوڑ
باقی جو بچ رہے ہیں وہ سرکس کے شیر ہیں
مُردہ ہوا یہ دشت، شکاری مچان چھوڑ

ظفر صہبائی

No comments:

Post a Comment