اے ہم سفر یہ رہبری کا گمان چھوڑ
کس نے کہا ہے تجھ سے قدم کے نشان چھوڑ
پھر دیکھ زندگی کے مزے تجربوں کے رنگ
باہر قدم نکال، ذرا سائبان چھوڑ
اب دوستی نہیں نہ سہی، دشمنی سہی
اس کی وفائیں صرف ہواؤں کے ساتھ ہیں
یہ اعتمادِ دوستیٔ بادبان چھوڑ
تلوار کی زبان سمجھنے لگے ہیں لوگ
اب یہ مہاتماؤں کا طرزِ بیان چھوڑ
باقی جو بچ رہے ہیں وہ سرکس کے شیر ہیں
مُردہ ہوا یہ دشت، شکاری مچان چھوڑ
ظفر صہبائی
No comments:
Post a Comment