Saturday, 26 March 2022

مکاں سے لپٹی سسکتی ہوئی صدا کیا ہے

مکاں سے لپٹی سسکتی ہوئی صدا کیا ہے

گلی گلی میں ہے جو ان دنوں بلا کیا ہے

ہر ایک شخص ہے اپنا علم اٹھائے ہوئے

کوئی بتاتا نہیں آخرش ہوا کیا ہے

بس اک روش پہ جیے جا رہے ہیں برسوں سے

یہی ہے سچ تو بتاؤ کہ ارتقا کیا ہے

کوئی بھی چہرہ یہاں بے شکن نہیں لگتا

کوئی بھی کہتا نہیں آج یہ ہوا کیا ہے

درست بات تھی ہم اختلاف کیا کرتے

موافقت کی بھی اتنی بڑی سزا کیا ہے

عجیب بحر ہے مجھ سے ہی پوچھتا ہے اثر

کسی بھی موج کو چہرہ کوئی ملا کیا ہے


ایم کے اثر

محمد خدادین

No comments:

Post a Comment