Tuesday, 11 April 2023

کٹتا ہے وقت کیسے بتا دوں جناب کا

 کٹتا ہے وقت کیسے بتا دوں جناب کا 

قصہ سنایا کرتے ہیں عہد شباب کا 

تم آ گئے خوشی ملی آنسو ٹھہر گئے 

گزرا کٹھن زمانہ مرے اضطراب کا 

تاروں کے درمیان ہے جو امتیاز چاند 

درجہ ہے گلستاں میں وہی تو گلاب کا 

ململ کا استعمال بجا ہے مگر یہ کیا 

چرچا ہے انجمن میں ابھی تک نقاب کا 

اتنی خطا تھی نذر تمہیں سرنگوں نہ تھے 

ڈولا گزر رہا تھا جو عزت مآب کا 


نذر فاطمی

No comments:

Post a Comment