Tuesday, 11 April 2023

قدم رک گئے ہیں جبیں جھک گئی ہے

 عارفانہ کلام، حمد، نعت، منقبت


قدم رک گئے ہیں، جبیں جُھک گئی ہے نہ جانے یہ کیسا مقام آ گیا ہے

نگاہوں میں باب السلام آ گیا ہے، زباں پر محمدﷺ کا نام آ گیا ہے

میں مکے سے جس دم مدینے چلا ہوں کرشمہ یہ معجز نما دیکھتا ہوں

محمدﷺ کے در پہ ادا سجدہ کرنے، میرے ساتھ بیت الحرام آ گیا ہے

کبھی گرد روضے کے میں گھومتا ہوں، کبھی روضے کی جالیاں چومتا ہوں

محمدﷺ کا دیوانہ کہتے ہیں مجھ کو، یہ دیوانہ پن میرے کام آ گیا ہے

جدھر دیکھتا ہوں ادھر ہیں چمکتے، محمدﷺ کے حسنِ منور کے جلوے

کسے تاب ہے جو کہ نظریں اٹھائے، حسینانِ گُل کا امام آ گیا ہے

کہیں انبیاءؑ بھی مؤدب کھڑے ہیں، فرشتے کہیں سر جُھکائے پڑے ہیں

مچی دُھوم ہر سُو؛ مقامِ ادب ہے کہ دربارِ خیرالانامﷺ آ گیا ہے

یہ سب کملی والے کا لطف و کرم ہے کہ چھایا ہوا ہر سُو ابرِ کرم ہے

پیو بادہ نوشو یہ پینے کا دن ہے کہ گردش میں کوثر کا جام آ گیا ہے

امیرِ خزیں جب مدینے میں پہنچا, مچی دھوم ہر سُو ہوا ہے یہ چرچا

چلو چل کے دیکھیں محمدﷺ کے در پر جو بے دام بکنے غلام آ گیا ہے


امیر بخش صابری

No comments:

Post a Comment