سامنے جب کوئی بھرپور جوانی آئے
پھر طبیعت میں مِری کیوں نہ روانی آئے
کوئی دریا بھِی کبھی اسکی طرف رخ نہ کرے
کسی دریا کو اگر پیاس بجھانی آئے
میں نے حسرت سے نظر بھر کے اسے دیکھ لیا
اس کی خوشبو سے کبھی میرا بھی آنگن مہکے
میرے گھر میں بھی کبھی رات کی رانی آئے
زہر بھی ہو تو وہ تریاق سمجھ کر پی لے
کسی پیاسے کے اگر سامنے پانی آئے
عین ممکن ہے کوئی ٹوٹ کے چاہے مجھ کو
کبھی اک بار پلٹ کر تو جوانی آئے
ساقی امروہوی
No comments:
Post a Comment