Wednesday, 31 December 2025

جو زخم ملا ہے وہ قرینے سے ملا ہے

 جو زخم ملا ہے وہ قرینے سے ملا ہے

چاہت کا صلہ تیرے سفینے سے ملا ہے

تھی تیری محبت تو اذیت کا گھروندا

الفت کا نشہ دشت میں جینے سے ملا ہے

ہوتے ہیں جو الفاظ رقم میرے قلم سے

یہ صدقۂ احمدﷺ ہے مدینے سے ملا ہے

یہ کیسا ظلم ہوا کیسا احتساب ہوا

 یہ کیسا ظلم ہوا کیسا احتساب ہوا

کہ مجھ سے کفر کے جیسا ہی کچھ حساب ہوا

یہ کیسا عشق ہے اور کیسی رسمِ اُلفت ہے

کہ اب تو بات بھی کرنے سے اجتناب ہوا

کہ تجھ سے عشق ہوا اب مرا نہیں سنتا

ستم شتاب ہوا جو یہ دل خراب ہوا

کوئی جا کر یہ کہہ دے روضۂ محبوبِ سبحان پر

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


کوئی جا کر یہ کہہ دے روضۂ محبوبِ سبحاں پر

ترحم یا نبی اللہﷺ کسی بیمار ہجراں پر

جھکے پڑتے ہیں گیسوئے معنبر روئے قرآں پر

گھٹائیں رحمتوں کی چھا رہی ہیں صحنِ بُستاں پر

میں مٹ مٹ کر بہاریں لُوٹتا ہوں زندگانی کی

تڑپتا ہے مِرا لاشہ زمینِ کُوئے جاناں پر

زندہ رہنے میں ہوں شامل اور نہ مر جانے میں ہوں

 زندہ رہنے میں ہوں شامل اور نہ مر جانے میں ہوں

صورت تصویر میں بھی آئینہ خانے میں ہوں

یا بہ شکل جنس ہوں حصہ کسی بازار کا

یا کسی کردار کا مانند افسانے کا ہوں

ایک پل ہوں سکۂ رائج بہ تزک و احتشام

دوسرے پل کوڑیوں کے مول بک جانے کو ہوں

بن میرے تمہیں روز خفا کون کرے گا

 بن میرے تمہیں روز خفا کون کرے گا

اے دوست! پسندیدہ خطا کون کرے گا

تم ہی نہ کرو گے تو وفا کون کرے گا

آداب محبت کے ادا کون کرے گا

خود کچھ نہ کہے کوئی بھی خواہش نہ ہو جس کی

ہر وقت تمہارا ہی کہا کون کرے گا

ہم سمجھے تھے دنیا جس کو کچھ اور نہ تھا ویرانہ تھا

 "جو کچھ دیکھا اک خواب ہی تھا اور جو بھی سنا افسانہ تھا"

ہم سمجھے تھے دنیا جس کو کچھ اور نہ تھا ویرانہ تھا

سر پھوڑ لیا فرہاد ہوا،۔ مجنوں بن کر بدنام ہوا

کی جس نے قائم رسمِ وفا زاہد وہ نہ تھا دیوانہ تھا

مندر کی گھنٹی بلاتی رہی، مسجد سے اذاں بھی آتی رہی

پر جس نے قدم روکے میرے کچھ اور نہ تھا میخانہ تھا

تنہائی کا زخم تھا کیسا سناٹوں نے بھرا نمک

 تنہائی کا زخم تھا کیسا سناٹوں نے بھرا نمک

ایسا چھلکا زخم کہ سارا پلکوں سے بہہ گیا نمک

حلوے مانڈے سب میٹھے تھے کھا پی کر وہ بھول گئے

تلخ عناصر کا سنگم تھا رگ رگ میں رہ گیا نمک

زخموں کے گل کیا دھوئے گی رت رسیا برسات جہاں

ہر موسم ہر آن بکھیرے چلتی پھرتی ہوا نمک

Tuesday, 30 December 2025

دلوں سے جب دور ہو گی نفرت نظر نظر میں خوشی ملے گی

 دلوں سے جب دور ہو گی نفرت نظر نظر میں خوشی ملے گی

جہاں سے تاریکیاں مٹیں گی قدم قدم روشنی ملے گی

جہاں ہیں طوفاں کے تیز دھارے چھپا ہوا ہے وہیں پہ ساحل

فنا کی پر خوف وادیوں میں تمہیں نئی زندگی ملے گی

دلوں میں جن کے ہے عزم محکم انہیں ملیں گے نشان منزل

بھٹک رہے ہیں جو ظلمتوں میں انہیں نہ منزل کبھی ملے گی

مال و زر کی قید نہیں یہ ان کے کرم کی باتیں ہیں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


مال و زر کی قید نہیں یہ ان کے کرم کی باتیں ہیں

طیبہ کو جاتے ہیں وہ عاشق سرکار جنہیں بلاتے ہیں

ان کا میلاد مناتے رہو محفل ان کی سجاتے رہو

جن کی محفل سجاتے ہو تم وہ آقا تشریف لاتے ہیں

لجپال کے کرم سے سب کو ملتا ہے جہاں بھر میں

جس پر دورود پڑھتے ہو تم اسی کا صدقہ کھاتے ہیں

آہ کو نغمہ کہ نغمے کو فغاں کرنا پڑے

 آہ کو نغمہ کہ نغمے کو فغاں کرنا پڑے

دیکھیے کیا کچھ برائے دوستاں کرنا پڑے

اہل محمل غور سے سنتے رہیں روداد دل

کیا خبر کس لفظ کو کب داستاں کرنا پڑے

رکھ جبین شوق میں محفوظ گرمئ نیاز

کون جانے تجھ کو اک سجدہ کہاں کرنا پڑے

قربان کرتے ہیں اپنی انا فقیر لوگ

 قربان کرتے ہیں اپنی انا فقیر لوگ

مانگتے ہیں سب کا بھلا فقیر لوگ

اُن کے اعمال ہی سے قائم ہے یہ دنیا

زیر لب رکھتے ہیں دعا فقیر لوگ

دامان میں رکھتے ہیں وفا کی دولت

کرتے ہیں عجب عہد وفا فقیر لوگ

سنا گئیں تری یادیں کہانیاں کیا کیا

 سنا گئیں تری یادیں کہانیاں کیا کیا

تڑپ اٹھی ہیں نگاہوں میں بجلیاں کیا کیا

بہت قریب سے گزرے تھے زندگی کے کبھی

حسین خوابوں نے بخشے تھے آشیاں کیا کیا

سوال آج بھی کرتی ہے گردش دوراں

حسین لمحوں کی تھیں نشانیاں کیا کیا

Monday, 29 December 2025

کیا بتلاؤں کیسے دن میں کاٹ رہا ہوں

 کیا بتلاؤں کیسے دن میں کاٹ رہا ہوں

موتی ہوں اور رستے میں بیکار پڑا ہوں

لمبی لمبی کاروں والوں سے اچھا ہوں

روکھی سوکھی جو ملتی ہے کھا لیتا ہوں

بادل پربت دریا چشمے جنگل صحرا

کیوں بھاتے ہیں میں ان سب کا کیا لگتا ہوں

رات کا وقت ہے آہوں کا دھواں ہو جیسے

 آخری خط


رات کا وقت ہے آہوں کا دھواں ہو جیسے

چاند خاموش ہے روٹھی ہوئی قسمت کی طرح

سرمئی طاق میں مٹی کا دیا جلتا ہے

کروٹیں لیتی رہی اونگھتے کمرے کی فضا

کروٹیں لیتی رہی اونگھتے کمرے کی فضا

اور میں رات کے روتے ہوئے سناٹے میں

ہو سیرت سرور سے یا رب ہمیں آگاہی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ہو سیرتِ سرورﷺ سے یا رب! ہمیں آگاہی

دے جنتِ عالی میں سرکارﷺ کی ہمراہی

جب تک نہ ہو مولاؐ کے رستے کا کوئی راہی

کُھلتے نہیں سالک پر اسرارِ خود آگاہی

بے ساختہ الفت ہو، بےطرح عقیدت ہو

آقاﷺ سے مؤدّت میں ہو جائے نہ کوتاہی

خوبیاں کردار کی بتلائیں کیوں

 خوبیاں کردار کی بتلائیں کیوں

جو نہیں سمجھے اسے سمجھائیں کیوں

اک ادائے خاص سے جیتے ہیں ہم

خواہشوں سے سر اپنا ٹکرائیں کیوں

جس گلی میں ایک بھی اپنا ناں ہو

اس گلی میں ٹھوکریں ہم کھائیں کیوں

نامہ بر کہنا مرا پہچان لیں گے نام سے

 نامہ بر کہنا مرا پہچان لیں گے نام سے

بن ترے کٹتی ہے رنج و درد سے آلام سے

آج کی محفل بڑی پُر سوز تھی لیکن اگر

ساتھ تم ہوتے تو کٹ جاتی بڑے آرام سے

کشمکش ہے زندگی کا نام اے میرے عزیز

آدمی کو کام رہتا ہے ہمیشہ کام سے

زندگی ہے کہ کوئی صحرا ہے

 زندگی ہے کہ کوئی صحرا ہے

روشنی کا نگر اندھیرا ہے

چلتے رہتا ہوں جانے کس جانب

کوئی منزل نہ کچھ بسیرا ہے

دل کی گہرائیوں میں آ جاؤ

زخم دل میرا اور گہرا ہے

Sunday, 28 December 2025

مرتے دم تک ترے بیمار نے رستہ دیکھا

 محو حیرت ہوں مرا خار نے رستہ دیکھا

ایک کردار کا کردار نے رستہ دیکھا

کون کہتا ہے طلبگار نے رستہ دیکھا

ایک بیدار کا بیدار نے رستہ دیکھا

کم نصیبی کہ ملاقات سے محروم رہے

خوش نصیبی کہ مرے یار نے رستہ دیکھا

اے چارہ گر غم نہ دوا دے نہ دعا دے

 اے چارہ گر غم نہ دوا دے نہ دعا دے

جو رُوٹھ گیا ہے مجھے تُو اس سے ملا دے

اے ذوقِ طلب! تُو جو ذرا ساتھ مِرا دے

خود بھُولنے والا مجھے اُٹھ اُٹھ کے صدا دے

مانا کہ مئے ناب، مئے ناب ہے ساقی

تُو ہاتھوں سے دے اپنے تو کچھ اور مزا دے

یہ زمیں یہ آسماں اے رحمت الالعالمین

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


یہ زمیں، یہ آسماں اے رحمت الالعالمین

آپ کے مدحت کناں، اے رحمت ا لالعالمین

نام لوں میں آپ کا گر نطق زم زم سے دُھلے

با وضو ہو لے زباں، اے رحمت ا لالعالمین

ڈر ہو کیوں ہم عاصیوں کو اے شفیع المجتبیٰ

آپ کا دامن اماں اے رحمت ا لالعالمین

راہ حیات میں دل ویراں دہائی دے

 راہ حیات میں دل ویراں دہائی دے

دشمن کو بھی خدا نہ غم آشنائی دے

میں صاحب قلم ہوں مجھے اے شعور فن

آئے نہ جو گرفت میں ایسی کلائی دے

دنیا فریب رشتۂ باہم نہ دے مجھے

جو بھائی چارگی کا ہو پیکر وہ بھائی دے

در در پھرتے لوگوں کو در دے مولا

 در در پھرتے لوگوں کو در دے مولا

بنجاروں کو بھی اپنا گھر دے مولا

جو اوروں کی خوشیوں میں خوش ہوتے ہیں

ان کا بھی گھر خوشیوں سے بھر دے مولا

ظلم و ستم ہو ختم نہ ہو دہشت گردی

امن و اماں کی یوں بارش کر دے مولا

ہاتھ میرے ہیں بندھے ہاتھ ملاؤں کیسے

 ہاتھ میرے ہیں بندھے ہاتھ ملاؤں کیسے

پاس ہو کر بھی تیرے پاس میں آؤں کیسے

میرے اندر بھی مچلتا ہے سمندر لیکن

تیرے ہونٹوں کی ابھی پیاس بجھاؤں کیسے

وقت نے ڈال دی زنجیر میرے پیروں میں

دوڑ کر تجھ کو گلے یار لگاؤں کیسے

Saturday, 27 December 2025

ویران دل میں رونق کاشانہ بن کے آ

 ویران دل میں رونق کاشانہ بن کے آ

اے یاد یار جلوۂ جانانہ بن کے آ

حاصل ہوں تلخیوں میں بھی لذات اے حیات

بزم جہاں میں گردش پیمانہ بن کے آ

دونوں کی ظلمتوں کو ضرورت ہے نور کی

شمع حرم، چراغ صنم خانہ بن کے آ

چھوڑے ہوئے زمانہ ہوا اپنا گھر مجھے

 چھوڑے ہوئے زمانہ ہوا اپنا گھر مجھے

اب تو وبالِ جاں ہے مسلسل سفر مجھے

کرتے نہیں ہیں کھل کے کبھی دل کی بات وہ

ملتے تو ہیں وہ روزِ رہگزر مجھے

ہر ایک چیز گھر کی تھی کل کس قدر عزیز

اب اجنبی سے لگتے ہیں کیوں بام و در مجھے

نظر میں ہے در خیرالوریٰ بحمداللہ

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


نظر میں ہے درِ خیرالوریٰ بحمداللہ

قبول ہو گئی میری دُعا بحمداللہ

چلی ہے ان کے کرم کی ہوا بحمد اللہ

ہر ایک سانس ہے محوِ ثناء بحمد اللہ

درِ حضورؐ پر جب بھی دعا کو لب کھولے

ملا ہے مجھ کو طلب سے سوا بحمداللہ

اب کوئی توقع کسی عنواں نہیں رکھتے

 اب کوئی توقع کسی عنواں نہیں رکھتے

ہم اہل طلب ہو کے بھی داماں نہیں رکھتے

کچھ اور نکھر آئے تری یاد کے پہلو

اب دل کو اداس آنکھ کو گریاں نہیں رکھتے

دیکھیں تو ذرا میرے در و بام تمنا

وہ لوگ کہ جو شوق چراغاں نہیں رکھتے

مکیں کے ساتھ مکاں سوگوار ہے بھائی

 مکیں کے ساتھ مکاں سوگوار ہے بھائی

نواحِ جاں میں عجب انتشار ہے بھائی

یقیں کی موج سے نکلوں تو کس طرح نکلوں

کسی صدا کا مجھے انتظار ہے بھائی

میں اپنے آپ کا شاہد ہوں لوگ کہتے ہیں

کہ سب کو مجھ پہ یہاں اعتبار ہے بھائی

سراپا درد ہے ہر لفظ اس غمگیں کہانی کا

 سراپا درد ہے ہر لفظ اس غمگیں کہانی کا

نہ قصہ سن سکو گے تم مری شام جوانی کا

وہی جان حزیں میری جو نکلی تھی محبت میں

بدل کر بھیس آئی ہے حیات جاودانی کا

پرانے ہو چکے ہیں لیلیٰ و مجنوں کے افسانے

سنو تو میں سناؤں اک نیا ٹکڑا کہانی کا

ہنسے بھی جاتے ہیں غم بھی اٹھائے جاتے ہیں

ہنسے بھی جاتے ہیں غم بھی اٹھائے جاتے ہیں

سند ہم اپنی محبت کی لائے جاتے ہیں

ہم ان کو درد دل اپنا سنائے جاتے ہیں

وہ سنتے جاتے ہیں اور مسکرائے جاتے ہیں

کسی کی بزم میں جب ہم بٹھائے جاتے ہیں

تو بیٹھتے ہی وہاں سے اٹھائے جاتے ہیں

Friday, 26 December 2025

چمن تو کیا ہے ادھر سایۂ شجر بھی نہیں

 چمن تو کیا ہے ادھر سایۂ شجر بھی نہیں

یہ کیا سفر ہے کہ اب کوئی ہمسفر بھی نہیں

اگر یہ ترکِ تعلق نہیں تو پھر کیا ہے؟

کہ اس کو آج مِرے حال کی خبر بھی نہیں

ابھی تلک نہیں آیا کوئی پیام اس کا

اور آج اس کی نظر سے ملی نظر بھی نہیں

اقراء سے لے کے گفتگوئے مصطفیٰ تلک

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


اقراء سے لے کے گفتگوئے مصطفیٰؐ تلک

اک سلسلہٴ علم ہے لا منتہا تلک

ہر کائناتی راز کے وارث بھی آپ ہیں

حٰم، ق، ن، قلم سے نساء تلک

ہے ماورائے ہوش و خرد بات عشق کی

پھیلی ہوئی ہے داستاں، کرب و بلا تلک

تجھ سے ملنا اگر نہیں ہو گا

 تجھ سے ملنا اگر نہیں ہو گا

دل سنبھلنا مگر نہیں ہو گا

شام کو آیا کر خیالوں میں

شام کو کوئی گھر نہیں ہو گا

تو قدم سے قدم ملا کے چل

پھر میسر سفر نہیں ہو گا

ہم نے بنا کے عشق کا معیار رکھ دیا

 ہم نے بنا کے عشق کا معیار رکھ دیا

دل کو حضورِ سنگِ درِ یار رکھ دیا

جب بھی سنی ہے اس سے ملاقات کی خبر

ہم نے بھی اپنے ہاتھ سے اخبار رکھ دیا

تقسیمِ جائیداد کی ایسی ملی خوشی

اس نے بھُلا کے باپ کا کردار رکھ دیا

دل شکن درد کی تفسیر کہاں سے آئی

 دل شکن درد کی تفسیر کہاں سے آئی

میری قسمت کی یہ تحریر کہاں سے آئی

میں نے پلکوں پہ سجایا تھا حسیں خواب مگر

اس کی یہ دکھ بھری تعبیر کہاں سے آئی

ہم تو دیتے رہے دنیا کو محبت کا پیام

درمیاں اپنے یہ شمشیر کہاں سے آئی

بدن کی قبر میں خوابوں کی لاش ہے میں ہوں

 بدن کی قبر میں خوابوں کی لاش ہے میں ہوں

قدم قدم پہ ہی فکر معاش ہے میں ہوں

زمانے بھر میں تو یہ راز فاش ہے میں ہوں

مگر مجھے تو مری ہی تلاش ہے میں ہوں

ہر ایک ضرب نئے تجربے اکیرے ہے

حیات ہے کہ کوئی سنگ تراش ہے میں ہوں

Thursday, 25 December 2025

حسن ہے داد طلب شکوۂ بیداد نہ کر

حسن ہے داد طلب شکوۂ بے داد نہ کر

عشق کی فتح اسی میں ہے کہ فریاد نہ کر

ہے اگر ہمت پرواز تو اے مرغِ اسیر

طائرِ روح کو منت کش صیاد نہ کر

تشنۂ لذت غم ہے دل پر درد ہنوز

تو ابھی ترکِ ستم اے ستم ایجاد نہ کر

نوید آئی ہے نکلا ہے اشتہار ظہور

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


نوید آئی ہے، نکلا ہے اشتہار ظہور

کہ آنے والا ہے غیبت سے شہ سوار ظہور

مزاج ان کی زیارت سے اتنا بدلا ہے

خزاں بھی ہو گئی ہم مشرب بہار ظہور

جو رکھ کے گھومتے ہیں سر پہ بانیان ستم

وہ تاج روند کے رکھ دے تاجدار ظہور

کبھی مقدر جو یہ عنایت کرے تو کیا ہو

 کبھی مقدر جو یہ عنایت کرے تو کیا ہو 

بچھڑ کے مجھ سے وہ میری چاہت کرے تو کیا ہو 

خدا کے حامی جو مجھ سے بگڑے ہیں سوچ رکھیں 

وہ روز محشر مِری حمایت کرے تو کیا ہو 

وہ جس کی صحبت مجھے سہولت سے مل گئی ہے 

وہ شخص مجھ سے اگر محبت کرے تو کیا ہو 

مانا کہ بہت روح کے آزار رہیں گے

 مانا کہ بہت روح کے آزار رہیں گے

ہم تیرے مگر پھر بھی طلبگار رہیں گے

اے تشنگئ شوق!!ٓ بتا ہم تری خاطر

کب تک یونہی رسوا سرِ بازار رہیں گے

جل جائیں گے تپتے ہوئے صحرا میں مگر ہم

اوروں کے لیے سایۂ دیوار رہیں گے

زندگی مصلحت وقت بتا کون سی ہے

 زندگی مصلحت وقت بتا کون سی ہے

جینا لازم ہے تو جینے کی ادا کون سی ہے

دار سے پوچھیے آخر یہ انا کون سی ہے

بات کس کی ہے خطا کیا ہے سزا کون سی ہے

میں تو ناواقفِ احساسِ وفا ہی ٹھہرا

آپ کہیے یہ وفا ہے تو جفا کون سی ہے

ہوا چلے تو ادھر سے ادھر دھواں جائے

 ہوا چلے تو ادھر سے ادھر دھواں جائے

گھٹن جو شہر میں ہے شہر سے کہاں جائے

رہیں گی دل کی سرائے میں حسرتیں کب تک

یہاں سے کوچ کرے اب یہ کارواں جائے

ہمارے نقش قدم راہ کے چراغ بنیں

ہمارے پاؤں تلے سے نہ کہکشاں جائے

سخت مشکل ہوا اب صاحب ایماں ہونا

 سخت مشکل ہوا اب صاحبِ ایماں ہونا

نہیں اس دور میں آسان مسلماں ہونا

ہر قدم پر ہے یہاں راہزنوں کا خطرہ

ہم تو بے بس ہیں خدایا تُو نگہباں ہونا

ختم ہوتا ہی نہیں سلسلۂ رنج و الم

مشکلوں نے مِری سیکھا نہیں آساں ہونا

Wednesday, 24 December 2025

عہد میثاق ازل خلق میں دہراتا کون

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


عہدِ میثاقِ ازل، خلق میں دُہراتا کون

میرے سرکار نہ سمجھاتے تو سمجھاتا کون

نسبتِ یمنِ قدم کر گئی یثرب کو حرم

وہ نہ ہوتے تو مدینے کی طرف جاتا کون

دو کمانوں سے بھی کم، منزلِ سدرہ سے اُدھر

ایک عالم ہے اس عالم کی خبر لاتا کون

آگے اس در کے راستہ کیا ہے

 آگے اس در کے راستہ کیا ہے

تُو نہیں ہے تو پھر بچا کیا ہے

اک سزا سی مِلی وفا تیری

اور اس سے بڑی سزا کیا ہے

میں نے مانگی ہے اک دُعا یا رب

اور مِل جائے تو بُرا کیا ہے

بھوک اور بارود کی فصلیں اگاتے ہیں

 تاج محل


بھوک اور بارود کی فصلیں اگاتے ہیں

میرے محبوب تاج محل کی تعمیر کا خواب

ماضی کی حماقت تو ہو سکتا ہے

آؤ آج کچھ درس گاہیں تعمیر کریں

اور تخلیق کریں پیا رکے نئے حروف

جن کے مفاہیم میں ترمیم نہ ہو

دھند ہی دھند ہے رستے میں جہاں تک جاؤں

 دھند ہی دھند ہے رستے میں جہاں تک جاؤں

روشنی تیرے تعاقب میں کہاں تک جاؤں

میری اوقات کہاں میں بھی مکیں دیکھ آؤں

بس یہی بات بڑی ہے کہ مکاں تک جاؤں

عقل کہتی ہے تری ساری تگ و دو بے سود

دل کہے عشق میں بے سود زیاں تک جاؤں

زندگی اپنی تو بس ایک بلا ہو جیسے

 زندگی اپنی تو بس ایک بلا ہو جیسے

گویا ہر سانس سزاوار سزا ہو جیسے

ان کے ہر لفظ کا سنگین نکیلا پتھر

شیشۂ دل کو مِرے توڑ گیا ہو جیسے

روشنی گھر کے دِیے کی ہوئی میلی میلی

اس کی رگ رگ کا لہو سوکھ رہا ہو جیسے

کوئی بندوں میں خدا ہو مجھے منظور نہیں

 اس قدر کوئی بڑا ہو مجھے منظور نہیں

کوئی بندوں میں خدا ہو مجھے منظور نہیں

روشنی چھین کے گھر گھر سے چراغوں کی اگر

چاند بستی میں اُگا ہو مجھے منظور نہیں

مسکراتے ہوئے کلیوں کو مسلتے جانا

آپ کی ایک ادا ہو مجھے منظور نہیں

Tuesday, 23 December 2025

غریبوں پر کریں احسان آقا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


غریبوں پر کریں احسان آقاﷺ

ہمارے بھی بنیں مہمان آقاﷺ

ہمارے گھر کبھی تشریف لائیں

بنے گلشن یہ ریگستان آقاﷺ

دو عالم پر ہے جس کی بادشاہی

کہاں ہے آپﷺ سا سلطان آقاﷺ

ہر رنگ جدا آیا ہر رنگ سوا آیا

 ہر رنگ جدا آیا ہر رنگ سوا آیا

عمران کے گھر میں ہے کیا نورِ خدا آیا

ہر سمت فضاؤں میں پھیلی ہے مہک کیا کیا

گلرنگ ہے زہراؑ بھی، ہے شیرِ خداؑ آیا

گاتی ہوئی سہرے کو جنت سے چلی حوریں

افلاک سے ہر قدسی ہے نغمہ سرا آیا

منتظر ہیں حادثے ہر گام پر

 منتظر ہیں حادثے ہر گام پر

ہم تو سادہ لوح، اس سے بے خبر

ہم سے ہے مانوس وحشی جانور

آدمیوں سے ہمیں لگتا ہے ڈر

یہ تو ضدی ہیں انہیں سمجھائیں کیا

ان پہ ہوتا ہی نہیں کوئی اثر

جھوٹ ہے دل نہ جاں سے اٹھتا ہے

 جھوٹ ہے دل نہ جاں سے اٹھتا ہے

یہ دھواں درمیاں سے اٹھتا ہے

رات بھر دھونکنے پہ مشکل سے

''شعلہ اک صبح یاں سے اٹھتا ہے''

مار لاتا ہے جوتیاں دو چار

''جو تِرے آستاں سے اٹھتا ہے''

غبار راہ وفا آسماں سا لگتا ہے

 غبار راہ وفا آسماں سا لگتا ہے

ہر ایک ذرہ یہاں کہکشاں سا لگتا ہے

یہ فاصلہ مجھے جانے کہاں پہ لے جائے

وہ فاصلہ جو تِرے درمیاں سا لگتا ہے

مِرے بڑوں کی دعاؤں کا یہ کرشمہ ہے

کہ سر پہ مجھ کو سدا سائباں سا لگتا ہے

Monday, 22 December 2025

بے وطن ہوں وطن میں آ کر بھی

 بے وطن ہوں وطن میں آ کر بھی

جل رہا ہوں چمن میں آ کر بھی

میری ہستی کا پوچھتے کیا ہو

جان بے جاں ہے تن میں آ کر بھی

پائی ناقدریٔ ادب اکثر

ہم نے بزم سخن میں آ کر بھی

چھائی اک شان سے رحمت کی گھٹا آج کی رات

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


چھائی اِک شان سے رحمت کی گھٹا آج کی رات

اپنے جوبن پہ بے خالق کی عطا آج کی رات

پارسا ہو کہ گنہ گار،۔ گدا ہو کہ غنی

رد نہیں ہوتی کسی کی بھی دُعا آج کی رات

کوئی آئے تو سہی بن کے سوالی در پر

سب کا کرتا ہے خُداوند بھلا آج کی رات

ہم خاک نشینوں کو راحت کا اجالا دے

 ہم خاک نشینوں کو راحت کا اجالا دے

کب ہم نے کہا تجھ سے سونے کا نوالا دے

رہنے کو حویلی ہے شہرت بھی ملی لیکن

کردار بھی کچھ تجھ کو اللہ تعالیٰ دے

اب ایسی محبت سے دل کون لگاتا ہے

جو زخم جگر میں دے اور پاؤں میں چھالا دے

گردن میں رسن پاؤں میں زنجیر پڑی ہے

 گردن میں رسن پاؤں میں زنجیر پڑی ہے

کیا یہ تِرے دیوانے کی تصویر پڑی ہے

تم قاتلِ اربابِ وفا ہو نہیں سکتے

شاید یہ کسی اور کی شمشیر پڑی ہے

آسان نہیں صبر کی منزل سے گزرنا

مشکل سے مِرے نالوں میں تاثیر پڑی ہے

قدموں کے سلسلے وہی چکر کے خط و خال

 قدموں کے سلسلے وہی چکر کے خط و خال

آوارگی میں کیا کسی محور کے خط و خال

آئینہ وار دل نے سمیٹا ہے ایک عکس

زخموں میں دیکھ کر کسی نشتر کے خط و خال

ہر روز کی یہ زُود فراموشیاں بھی دیکھ

سورج ہی چاٹ لے مہ و اختر کے خط و خال

Sunday, 21 December 2025

خبر کیا تھی بہاروں میں یہ رنگ گلستاں ہو گا

خبر کیا تھی بہاروں میں یہ رنگ گلستاں ہو گا

کہ صیادوں کے بس میں موج اپنا باغباں ہو گا

گلوں کی بے محل سے یہ ہنسی اعلان کرتی ہے

کسی دن برق کے دامن میں اپنا آشیاں ہو گا

تمہارے ظلم سہ کر بھی نہ کی اف یہ مِری ہمت

مگر تم نے تو سمجھا کہ شاید بے زباں ہو گا

کردار و عمل جب سے ہیں میزان کی زد میں

 کردار و عمل جب سے ہیں میزان کی زد میں

ہر شخص نظر آتا ہے بحران کی زد میں

سر جوڑ کے بیٹھو، کوئی تدبیر تو سوچو

کیوں زیست ہے بکھرے ہوئے اوسان کی زد میں

مخمل کے طرح نرم، گلابوں سے بھی نازک

دوشیزۂ شب ہے نئے عنوان کی زد میں

نعت سنی تو جل اٹھا ایک دیا بجھا ہوا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


دل مِرا بے بساط تھا ایک دِیا بُجھا ہوا

نعت سنی تو جل اُٹھا ایک دیا بجھا ہوا

شہرِ نبیؐ سے رخصت اور روح کا جسم میں قیام

طاق میں جیسے رہ گیا ایک دیا بجھا ہوا

آئینۂ رسولﷺ میں خود کو جو دیکھنے گیا

نور کا عکس بن گیا ایک دیا بجھا ہوا

جہاں بھی ہم ٹھہر گئے مقام بولنے لگے

 جہاں بھی ہم ٹھہر گئے مقام بولنے لگے

محبتوں کی بولیاں عوام بولنے لگے

سر غرور خم نہیں کوئی کسی سے کم نہیں

سکندروں کے سامنے غلام بولنے لگے

سنی جو جائے آنکھ سے وہ جسم کی زبان ہے

ہزار لب خموش ہوں خرام بولنے لگے

وفا کا ذکر ہو بے مہریٔ بتاں کی طرح

 وفا کا ذکر ہو بے مہریٔ بتاں کی طرح

یہاں خلوص بھی ارزاں ہے نقد جاں کی طرح

کبھی جو حال دل خوں چکاں کا ذکر چلے

سنائیے انہیں روداد دیگراں کی طرح

سروں کے چاند فروزاں ہیں راہ الفت میں

چمک رہی ہے زمیں آج کہکشاں کی طرح

رفتہ رفتہ خواہشوں کو مختصر کرتے رہے

 رفتہ رفتہ خواہشوں کو مختصر کرتے رہے

رفتہ رفتہ زندگی کو معتبر کرتے رہے

اک خطا تو عمر بھر ہم جان کر کرتے رہے

فاصلے بڑھتے گئے پھر بھی سفر کرتے رہے

خود فریبی دیکھیے شمعیں بجھا کر رات میں

ہم اجالوں کی تمنا تا سحر کرتے رہے

سر جھکاؤں کس طرح دستار ہے اپنی جگہ

 سر جھکاؤں کس طرح دستار ہے اپنی جگہ

بات ہے کردار کی کردار ہے اپنی جگہ

آہ مفلس کی یقیناً رنگ لائے گی ضرور

ظلم پر آمادہ گو زردار ہے اپنی جگہ

بھائی بٹوارہ یہ ہے گھر بار کا، دل کا نہیں

گرچہ آنگن بیچ کی دیوار ہے اپنی جگہ

Saturday, 20 December 2025

عجیب حال ہے صحرا نشیں ہیں گھر والے

 عجیب حال ہے صحرا نشیں ہیں گھر والے

گھروں میں بیٹھ گئے ہیں ادھر ادھر والے

نواح جسم نہیں گرچہ ریگزار سے کم

یہاں بھی خطے کئی ہیں ہرے شجر والے

اگرچہ شور بہت ہے در دعا پہ مگر

زبانیں بند کیے بیٹھے ہیں اثر والے

باغ عالم میں ہوئی جلوہ گری سرکار کی

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


باغ عالم میں ہوئی جلوہ گری سرکار کی

بلبلوں نے مدح رخ میں ان کی، وا منقار کی

مرحبا صد مرحبا جان بہاراں آ گئے

دن پھرے پھولوں کے، قسمت جاگ اٹھی گلزار کی

انقلاب آیا فساد و فتنہ و شر مٹ گئے

بن گئی ہے بات ان کے دم سے کل سنسار کی

خواب کی کھڑکی سے اس کو دیکھنا اچھا لگا

 خواب کی کھڑکی سے اس کو دیکھنا اچھا لگا

نیند کے آنگن میں شب بھر جاگنا اچھا لگا

شہر نا پرساں تھا یوں بھی کون کس کو پوچھتا

ایک پل کو اس کا مڑ کر دیکھنا اچھا لگا

ساتھ تھا صحرا میں بھی وہ ہر قدم سایہ‌ صفت

اس طرح شہر خرد سے لوٹنا اچھا لگا

یہ زندگی جو گزرتی ہے امتحاں کی طرح

 یہ زندگی جو گزرتی ہے امتحاں کی طرح

ہمیں عزیز ہے اس یار مہرباں کی طرح

میں اس کو بھولنا چاہوں تو بھول جاؤں مگر

وہ میرے ساتھ ہی رہتا ہے میری جاں کی طرح

سجانا چاہ رہے ہیں مگر سجائیں کیا

ہمارا شہر ہے لوٹی ہوئی دکاں کی طرح

قید جھرنوں کی طرح سخت زمینوں میں رہے

 قید جھرنوں کی طرح سخت زمینوں میں رہے

راز کی بات کوئی جس طرح سینوں میں رہے

آنکھ محروم بصارت ہی سہی، دور نہ جا

شمع روشن کوئی احساس کے زینوں میں رہے

ایک اک موج تھی سہمی ہوئی جانے کیوں کر

کتنے طوفان تھے کل رات جو سینوں میں رہے

اب کیا کہیں عذاب یہ لمحات کیوں ہوئے

 اب کیا کہیں عذاب یہ لمحات کیوں ہوئے

قاتل ہی پوچھتا ہے؛ فسادات کیوں ہوئے

پتھر دلوں کو موم بناتے تو بات تھی

شیشہ شکن یہ آج کے حالات کیوں ہوئے

کیسے کہوں کسی سے مشینوں کے شہر میں

دل کے لیے زوال کمالات کیوں ہوئے

مذاق زاہد ناداں کو اپنانے کہاں جاتے

 مذاق زاہد ناداں کو اپنانے کہاں جاتے

حرم کی سمت ہم جھکتے تو بت خانے کہاں جاتے

بھلا ہو دشت و صحرا کا جنوں کی رہ گئی عزت

نہ ہوتے دشت و صحرا گر تو دیوانے کہاں جاتے

ہے تیری بندگی لازم، مگر تُو ہی بتا یا رب

تجھی کو سجدہ سب کرتے تو بت خانے کہاں جاتے

Friday, 19 December 2025

رہے گا کیوں نہیں جذبات دائمی کا امام

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


رہے گا کیوں نہیں جذبات دائمی کا امام

بنا دیا ہے، اسے حق نے روشنی کا امام

میں کیوں نہ چوموں گا آنکھوں سے اس کا نام وجود

وہی ازل سے ہے آداب بندگی کا امام

ظہور اس کے لیے ہی ہوا نظام خدا

وہی جو دہر میں ثابت ہوا خودی کا امام

کیسی ہے میری تشنہ لبی

 کیسی ہے میری تشنہ لبی


سامنے سمندر ہے

پھر بھی میں پیاسی ہوں

ہر روز ٹوٹ ٹوٹ کر

ساون برستا ہے

پھر بھی میں

سوکھی ہوئی بنجر زمیں ہوں

اڑانوں سے امبر بچا ہی نہیں

 اڑانوں سے امبر بچا ہی نہیں

پرندے کو لیکن ملا ہی نہیں

کسی سے کہوں بھی تو میں کیا کہوں

میرا تو کوئی مدعا ہی نہیں

شب و روز بھٹکے ہے در در ہوا

ہوا کا کہیں گھر بسا ہی نہیں

ظلم کا جام بھر نہ جائے کہیں

 ظلم کا جام بھر نہ جائے کہیں

آہِ دل کام کر نہ جائے کہیں

کیا نہیں کوئی بے حسی کی دوا

میرا احساس مر نہ جائے کہیں

دو دِلے کا یقین کیا کرنا

وہ اچانک مُکر نہ جائے کہیں

بھیس بنائے گھوم رہا ہے دیوانہ گلیوں گلیوں

 بھیس بنائے گھوم رہا ہے دیوانہ گلیوں گلیوں

کون ملے گا دیکھیں اپنا بیگانہ گلیوں گلیوں

سڑکوں پر پہرہ دیتی آنکھوں سے الجھے کون بھلا

تم کو آنا ہو تو اب کے آ جانا گلیوں گلیوں

دیکھو اک دن تھک جائیں گے تھک کے رک جائیں گے قدم

وہی صبح سے شام تمہارا بھٹکانا گلیوں گلیوں

دیکھ کر مہنگے کھلونے چپ ہے یہ سب جانتا ہے

 دیکھ کر مہنگے کھلونے چپ ہے یہ سب جانتا ہے

میرا بچہ میری خاموشی کا مطلب جانتا ہے

میں پریشاں ہوں تو کوئی ضد نہیں کرتا وہ مجھ سے

بات کہنے کا مناسب وقت بھی اب جانتا ہے

کتنا خوش ہے ناؤ سے کاغذ کی یہ ننھا سا بچہ

وسعتِ دریا کہاں یہ تو ابھی اب ٹب جانتا ہے

Thursday, 18 December 2025

ہم بیکسوں کی کرنے کو امداد آ گیا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ہم بیکسوں کی کرنے کو امداد آ گیا

میلاد کر لو صاحب میلادﷺ آ گیا

اولادیں لے کے جائے گا صدقہ حضورؐ کا

محفل میں جو بھی آج بے اولاد آ گیا

مشکل نے گھیرا جس گھڑی آنکھوں کے سامنے

آیا مدینہ تو کبھی بغداد آ گیا

یوں تو دنیا میں بجا کرتی ہے شہنائی بھی

 یوں تو دنیا میں بجا کرتی ہے شہنائی بھی

میری قسمت میں اداسی بھی ہے تنہائی بھی

سسکیاں لیتا ہوا دن ابھی گزرا بھی نہ تھا

آ گئی ناگ سی ڈسنے شبِ تنہائی بھی

شبِ وعدہ میں نہیں اب کوئی لذت باقی

آ گیا راس مجھے اب غمِ تنہائی بھی

مسکراتے ہوئے چہرے سے وہ منظر نکلا

 مسکراتے ہوئے چہرے سے وہ منظر نکلا

جیب جب اس کی ٹٹولی میں نے خنجر نکلا

چین سے قبر میں بھی رہنے نہیں دیتا ہے

اور کوئی نہیں وہ میرا مجاور نکلا

بانٹ دیتا ہے وہ جھولی میں بھری سب خوشیاں

ہم نے سمجھا جسے قطرہ وہ سمندر نکلا

تری نظر کے فسوں کا اثر دکھائی دیا

 تری نظر کے فسوں کا اثر دکھائی دیا

جدھر نہیں تھا زمانہ ادھر دکھائی دیا

ہمارا ہم سے تعارف کرا دیا اس نے

کبھی کہیں جو کوئی دیدہ ور دکھائی دیا

ہمیں کسی نے کڑی دھوپ میں پناہ نہ دی

کوئی شجر نہ سر رہگزر دکھائی دیا

نغمۂ غم کو تم اے غنچہ و گل کیا سمجھو

 نغمۂ غم کو تم اے غنچہ و گل کیا سمجھو

درد ہو دل میں تو بلبل کا ترانہ سمجھو

میری فریاد کو تم شکوۂ بے جا سمجھو

کیا قیامت ہے کہ ہر بات کو الٹا سمجھو

یہ بھی کیا کھیل ہے بازیچۂ دنیا میں کہ تم

میرے اظہارِ محبت کو تماشا سمجھو

وہ جس کتاب میں چاہت کا سلسلہ نکلا

 وہ جس کتاب میں چاہت کا سلسلہ نکلا

ورق اسی میں ایک آنسو بھرا ہوا نکلا

تلاش میں نے کیا تھا سکون دل کے لیے

مگر یہ کار محبت بڑا جدا نکلا

خوشی تو آئی تھی مہمان کی طرح لیکن

غموں کے ساتھ ہمیشہ کا رابطہ نکلا

Wednesday, 17 December 2025

بلا لو طیبہ میں اک بار مکی مدنی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


بلا لو طیبہ میں اک بار مکی مدنی

کب سے کھڑا ہوں بیقرار مکی مدنی

آئے مجھ کو قرار کُوچے میں تیرے

دل میں آئی پھر بہار مکی مدنی

آپ کی یاد ہے میرا ہی سارا سامان

جان کر دوں تم پر نثار مکی مدنی

یاد محبوب سے دل گر کبھی خالی ہو گا

 یاد محبوب سے دل گر کبھی خالی ہو گا

فیصلہ تجھ سے پھر اے خام خیالی ہو گا

لاکھ ہم لوگ پیے جائیں بقدرِ ہمت

میکدہ درد کا اشکوں سے نہ خالی ہو گا

دولتِ درد ملے اور ملے اور ملے

دلِ برباد سا کوئی نہ سوالی ہو گا

مجھے پرانی آنکھوں سے مت دیکھو

 مجھے پرانی آنکھوں سے مت دیکھو

سب سے زیادہ پہاڑ میرے اپنے ہیں

اور ان پر لپٹے جنگلی پودینے کی مہک

اونچے چیڑھوں کی سیاہ قطار

اور ان سے لپٹتی بے چین لالیاں میری ہیں

بہتے پانی جو رک کر نہیں دیکھتے

کیسا ہے زمانے کا چلن دیکھ ذرا دیکھ

 کیسا ہے زمانے کا چلن دیکھ ذرا دیکھ

یاروں کے ہے ماتھے پہ شکن دیکھ ذرا دیکھ

پردے کی حقیقت سے ہوئے دور مسلماں

پوشاک میں بھی ننگے بدن دیکھ ذرا دیکھ

اولاد کی خاطر سبھی ماں باپ یہاں پر

کیا کیا نہیں کرتے ہیں جتن دیکھ ذرا دیکھ

الم بھی ہار گئے یار بے دلی دیکھو

 الم بھی ہار گئے یار بے دلی دیکھو

جیے بغیر ہی اک عمر کاٹ دی دیکھو

گزر چکا ہے زمانہ کسے گزاروں میں

مجھے گزار رہی ہے یہ زندگی دیکھو

مرے مزاج کی سختی پہ طنز کرتے ہو

کبھی تو دیکھنے والو! مجھے سہی دیکھو

رات بھیگے گی ابھی اور سویرا ہو گا

 رات بھیگے گی ابھی اور سویرا ہو گا

تب کہیں جا کے امیدوں کا سویرا ہو گا

میں ہوں اک طائرِ آزاد، مجھے کیا معلوم

دن کہاں بیتے، کہاں رین بسیرا ہو گا

جیتے جی ان سے رفاقت کے بنا لے اسباب

حشر کی بھیڑ میں کوئی بھی نہ تیرا ہو گا

Tuesday, 16 December 2025

تو ہی رفعتوں کا مقیم بھی تو قدیم بھی تو عظیم بھی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


تُو ہی رفعتوں کا مقیم بھی تُو قدیم بھی تُو عظیم بھی 

تِری ذات بادِ نسیم بھی، تُو رحیم بھی تُو کریم بھی 

تُو ہی میرا اپنا حبیب بھی تُو ہی میرے دل کے قریب بھی 

تُو کفیل بھی تُو وکیل بھی تُو حلیم بھی تُو حکیم بھی

مِرے حرف کو ملے روشنی تِرا نام لب کی ہے چاشنی  

تِرے نام سے ملیں راحتیں تُو ہی رفعتوں کا مقیم بھی 

ہر درد وہ دیتے ہیں ہر ظلم وہ ڈھاتے ہیں

 ہر درد وہ دیتے ہیں ہر ظلم وہ ڈھاتے ہیں

پھر بھی رخِ زیبا سے دیوانہ بناتے ہیں

صد شکر کہ زنداں میں آثارِ حیات ابھرے

کس شور سے دیوانے زنجیر ہلاتے ہیں

خنجر بھی نہیں اٹھتا یہ اور ستم دیکھو

ہم تو رہِ مقتل میں خود شوق سے جاتے ہیں

میرے سکوں کو میرے ہی غم نے مٹا دیا

 میرے سکوں کو میرے ہی غم نے مٹا دیا

یعنی دِیے نے گھر کے ہی گھر کو جلا دیا

مجھ میں سما کے مجھ سے ہی پردہ عجیب بات

مجھ کو کسی نے لگتا ہے مجھ میں سما دیا

پوچھو نہ عشق پر جو نوازش ہے حسن کی

دریا بنا دیا،۔ کبھی صحرا بنا دیا

حیرت ہے ستم ڈھانا کیوں تجھ کو گورا ہے

 حیرت ہے ستم ڈھانا کیوں تجھ کو گورا ہے

ہم جبکہ ترے ہی ہیں اور تُو بھی ہمارا ہے

زنجیر بدلنے کا ہے شور رقیبوں میں

اس شوخ نے بن ٹھن کر گیسو جو سنوارا ہے

وعدہ تھا ترا جب تو جیتے رہے ہم ورنہ

گھٹ گھٹ کے جیے جانا کب کسی کو گوارا ہے

جس بات کا خدشہ تھا وہی بات ہوئی ہے

 جس بات کا خدشہ تھا وہی بات ہوئی ہے

گھر دور بہت دور ہے جب رات ہوئی ہے

تا حد نظر وادئ ویراں کی زمیں پر

کل رات مسلسل گھنی برسات ہوئی ہے

پہلے کبھی دیکھا تو نہیں ہے تمہیں لیکن

محسوس یہ ہوتا ہے ملاقات ہوئی ہے

دھوپ ڈھل جاتی ہے سائے پہ زوال آتا ہے

 دھوپ ڈھل جاتی ہے سائے پہ زوال آتا ہے

مٹنے لگتا ہوں تو بننے کا خیال آتا ہے

رات کٹ جاتی ہے آنکھوں کو چراغاں کرتے

دن نکلتا ہے تو چہرے پہ جمال آتا ہے

پہلے اڑتا ہے محبت کے چمن میں تنہا

پھر کسی شام بہت ہو کے نڈھال آتا ہے

Monday, 15 December 2025

نبی کی خوشبو نبی کا جمال کیا کہنے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


نبیﷺ کی خوشبو نبیؐ کا جمال، کیا کہنے

زمین تیرے تریسٹھ وہ سال، کیا کہنے

نظر کے سامنے طیبہ ہے اور سبب ہے تُو

اے نعتِ سرورِ دیںﷺ کے خیال کیا کہنے

میں نعت کہتے ہوئے مر گیا تو لکھ دینا

ہوا ہے طیبہ میں وہ انتقال، کیا کہنے

خواب فرقت کہاں سنہرے ہیں

 خواب فرقت کہاں سنہرے ہیں

ان جزیروں میں ہم بھی ٹھہرے ہیں

زندگی ہے صدا فقیروں کی

اور زمیں آسمان بہرے ہیں

کسی بارش سے بھی نہیں دُھلتے

رنگ پھولوں کے کتنے گہرے ہیں

گناہ کیا ہے مرا پہلے انکشاف کرو

 گناہ کیا ہے مرا پہلے انکشاف کرو

اور اس کے بعد سزا دو یا پھر معاف کرو

یہ میں بھی مان ہی لوں گا کہ کچھ غلط تھا میں

مگر تم اپنی بھی غلطی کا اعتراف کرو

چلو کہ پھر سے نئے عشق کی کریں شروعات

چلو جو دل میں کدورت ہے اس کو صاف کرو

ساغر میں زہر ڈھال مگر اک ادا کے ساتھ

 ساغر میں زہر ڈھال مگر اک ادا کے ساتھ

تو دشمنی نکال مگر اک ادا کے ساتھ

کہتا ہے تجھ سے کون تشدد سے ہاتھ کھینچ

تیغ و سناں نکال مگر اک ادا کے ساتھ

وا آج بھی ہے بابِ اجابت خدا گواہ

دستِ دعا اچھا مگر اک ادا کے ساتھ

ہم نے مانا دل ہمارا آپ کے قابل نہیں

 ہم نے مانا دل ہمارا آپ کے قابل نہیں

کیا اسے فریاد بھی کرنے کا حق حاصل نہیں

جذبۂ الفت نہ ہو ایسا تو کوئی دل نہیں

آشنائے غم نہیں تو زندگی کامل نہیں

اس جہان آرزو سے دور جانا ہے تجھے

جادہ پیمائی زمانے کی تِری منزل نہیں

اپنوں سے شکایت ہے نہ غیروں سے گلا ہے

 اپنوں سے شکایت ہے نہ غیروں سے گلا ہے

پہنچے گا جو قسمت میں غم و رنج لکھا ہے

کس کی نگہ شوق ہے مشتاق تجلی

کیوں جلوۂ پیہم میں وہ ناموس حیا ہے

گرتا تو ہوں ساقی کے قدم پر نہیں معلوم

یہ سجدۂ رندانہ ہے یا لغزش پا ہے

Sunday, 14 December 2025

بہت خوش تھا ہر اک انساں چراغِ گمرہی لے کر

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


بہت خوش تھا ہر اک انساں چراغِ گمرہی لے کر

تو ایسے میں رسولﷺ آئے جلو میں روشنی لے کر

خدا خود نعت کہتا ہے نبیﷺ کی دیکھیے قرآں

تو پھر ہم کیوں نہیں پہنچیں یہاں نعتِ نبیؐ لے کر

ابھی جنت نہیں قسمت میں لیکن یہ بھی کیا کم ہے

بہت سرشار رہتا ہوں مدینے کی گلی لے کر

غنچے غنچے پہ گلستاں کے نکھار آ جائے

 غنچے غنچے پہ گلستاں کے نکھار آ جائے

جس طرف سے وہ گزر جائیں بہار آ جائے

ہر نفس حشر بہ داماں ہے جنون غم میں

کس طرح اہل محبت کو قرار آ جائے

وہ کوئی جام پلا دیں تو نہ جانے کیا ہو

جن کے دیکھے ہی سے آنکھوں میں خمار آ جائے

تلاش حق میں کسی راہگیر کی صورت

 تلاش حق میں کسی راہگیر کی صورت

تمام عمر چلا ہوں فقیر کی صورت

فقط خدا کے بھروسے پہ کارواں ہے رواں

کسی نے دیکھی نہیں ہے امیر کی صورت

بس ایک بار تِرا ہاتھ مجھ سے چھُوٹا تھا

پڑا ہوا ہوں میں جب سے اسیر کی صورت

روشن ہے زمانے میں افسانہ محبت کا

 روشن ہے زمانے میں افسانہ محبت کا

خورشید محبت ہے پیمانہ محبت کا

اے زاہد ناداں وہ کیا دیر و حرم جانے

دل جس کا ازل سے ہو دیوانہ محبت کا

رنگین شعاعوں سے معمور ہے ہر ذرہ

آباد تجلی ہے ویرانہ محبت کا

ہوتی ہے مجھ پہ ان کی عنایت کبھی کبھی

 ہوتی ہے مجھ پہ ان کی عنایت کبھی کبھی

تاثیر جب دکھاتی ہے الفت کبھی کبھی

حاصل ہوئی ہے نور سے ظلمت کبھی کبھی

ہے ان کے شکریے میں شکایت کبھی کبھی

اے روشنیٔ طبع تو بر من بلا شدی

ذلت نصیب ہوتی ہے شہرت کبھی کبھی

کوئی راز نہیں کوئی بھید نہیں سب ظاہر ہے تو چھپائیں کیا

 کوئی راز نہیں کوئی بھید نہیں سب ظاہر ہے تو چھپائیں کیا

تم ضد پہ اڑے تم شک میں پڑے تم خود ہی کہو بتلائیں کیا

کوئی کرب نہیں کوئی درد نہیں چہرہ بھی ہمارا زرد نہیں

جب دل میں نہ اٹھے ٹیس کوئی پھر سچا شعر سنائیں کیا

ہم دل کو کیا ناشاد کریں کیا وقت اپنا برباد کریں

بے وجہ تمہیں کیا یاد کریں آنکھوں کو خون رلائیں کیا

Saturday, 13 December 2025

حسن احمد کی ضیا کی بات ہو تو نعت ہو

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


حسنِ احمد کی ضیا کی بات ہو تو نعت ہو

مدحتِ محبوب کی سوغات ہو تو نعت ہو

ذکر ان کا جب بھی آئے، ہر زباں پر ہو درود

جب کبھی خیر البشر کی بات ہو تو نعت ہو

ان کے جلووں کی ضیا سے ہے منور کائنات

ہر طرف انوار کی برسات ہو تو نعت ہو

گزاریں عمر ہم ایسی خلش میں

 گزاریں عمر ہم ایسی خلش میں

اسیرِ عشق جیسے سرزنش میں

بڑی تاثیر رکھی ہے خدا نے

ہمارے لفظ ہائے پُر کشش میں

میں جل کر راکھ ہو جاؤں گی اک دن

تمہاری بے نیازی کی تپش میں

خلوص التجا تو ہے اثر نہیں نہیں سہی

 خلوص التجا تو ہے اثر نہیں، نہیں سہی

انہیں ہمارے حال کی خبر نہیں، نہیں سہی

اِدھر بھی ضبط مدعا سے گنگ ہے مِری زباں

اُدھر بھی پُرسشِ الم اگر نہیں، نہیں سہی

جنون تو ہے، یہی بہت ہے کاروانِ شوق کو

رہِ طلب میں کوئی راہبر نہیں، نہیں سہی

زنجیر میں ہیں دیر و حرم کون و مکاں بھی

 زنجیر میں ہیں دیر و حرم کون و مکاں بھی

ہے عشق ہمیں ان سے نہیں جن کا گماں بھی

جو جسم کے ذروں میں خدا ڈھونڈ رہی ہے

یوسف کی زلیخا میں ہے وہ روح تپاں بھی

اس مہر خموشی میں نہاں روح تکلم

اس سوئے ہوئے شہر کی ہے اپنی زباں بھی

مہرباں کس پہ ہیں اب اہل جفا میرے بعد

 مہرباں کس پہ ہیں اب اہل جفا میرے بعد

کس کے خرمن پہ گری برق بلا میرے بعد

اے نسیم سحری! یہ تو بتا کیسے ہیں

وہ مرے ہم نفس و شعلہ نوا میرے بعد

کون اب مرحلۂ دار و رسن تک پہنچا

کیا ہے اب شیوۂ ارباب وفا میرے بعد

کہا ہے کس نے جہاں میں خدا نہیں ملتا

 کہا ہے کس نے جہاں میں خدا نہیں ملتا

خلوص شرط ہے ڈھونڈو تو کیا نہیں ملتا

ہر ایک جسم کی تخلیق ایک جیسی ہے

ہر ایک چہرے سے کیوں دوسرا نہیں ملتا

کچھ ایسے موڑ بھی آئے وفا کی راہوں میں

جہاں سے آگے خود اپنا پتا نہیں ملتا

Friday, 12 December 2025

دلوں کو نور ملا اک ترے اشارے پر

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


دِلوں کو نُور مِلا اِک تِرے اشارے پر

الف کھلا ہے تِرے مِیم کے سہارے پر

اسے شعور کی دولت ملی تِرے در سے

یہ زندگی کہ جو نازاں تھی ہر خسارے پر

بنامِ ہجرِ مدینہ ہمارے اشک سبھی

ہمارے خواب ہیں موقوف اک نظارے پر

سلام اس پہ جو نور حق ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


سلام اس پہ

تمام نوعِ بشر کے حق میں جو اک دعا ہے

سلام اس پہ

جو اک عطا ہے

خدائے برتر کی نعمتوں میں

ہر ایک نعمت سے جو سوا ہے

وعدہ رہا نہ یاد مرے مست خواب کو

 وعدہ رہا نہ یاد مِرے مست خواب کو

اب کیا جواب دوں دلِ پُر اضطراب کو

زیبا غرور و ناز تھا تیرے شباب کو

ٹھُکرا دیا مِرے دلِ خانہ خراب کو

چمکے جو داغ دل مِرے روزِ سیاہ میں

تارے دِکھائی دینے لگے آفتاب کو

آتی ہے تو آتا نہیں کچھ تیرے سوا یاد

 آتی ہے تو آتا نہیں کچھ تیرے سوا یاد

آ جائے تو ہوتی ہے تِری یاد بھی کیا یاد

ہے سلسلۂ حُسن و جمال ان کو تصور

آتے ہی چلے جاتے ہیں انداز و ادا یاد

افسانے مظالم کے وہ بھُولے نہیں جاتے

جب یادِ بُتاں آتی ہے،۔ آتا ہے خُدا یاد

جلوہ ہے وہ کہ تاب نظر تک نہیں رہی

 جلوہ ہے وہ کہ تاب نظر تک نہیں رہی

دیکھا اسے تو اسے تو اپنی خبر تک نہیں رہی

احساس پر گراں رہا احساس کا طلسم

یہ عمر کی تکان سفر تک نہیں رہی

جن پر تمہارے آنے سے کھلتے رہے گلاب

اب دل میں ایسی راہگزر تک نہیں رہی

حسن کعبے کا ہے کوئی نہ صنم خانے کا

 حُسن کعبے کا ہے کوئی نہ صنم خانے کا

صرف اک حُسنِ نظر ہے تِرے دیوانے کا

عشق رُسوا بھی ہے مجبور بھی دیوانہ بھی

اور ابھی خیر سے آغاز ہے افسانے کا

کار فرما تِرے جلوؤں کی کشش ہے ورنہ

شمع سے دُور کا رشتہ نہیں پروانے کا

Thursday, 11 December 2025

سارے عالم کے غمگسار سلام

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


سارے عالم کے غمگسار سلام

آپﷺ پر جان و دل نثار سلام

چاند ٹکڑے ہو اک اشارے پر

ایسے مولا پہ بے شمار سلام

سارے نبیوں کے آپ ہی ہیں امام

ہم کریں کیوں نہ بار بار سلام

مزاج زندگی میں قہر بھی ہے مہربانی بھی

 مزاجِ زندگی میں قہر بھی ہے مہربانی بھی

اسی اڑتے ہوئے بادل میں بجلی بھی ہے پانی بھی

جمالِ موت پر قدرت نے پردے ڈال رکھے ہیں

وگر نہ بار ہو جاتا خیالِ زندگانی بھی

سماعت خود تصور کے جھروکے کھول دیتی ہے

بڑی نظارہ پرور ہے صدائے لن ترانی بھی

پتے کی طرح ٹوٹ کے نظروں سے گرا ہوں

 پتے کی طرح ٹوٹ کے نظروں سے گرا ہوں

ہر رنگ سے میں برسر پیکار رہا ہوں

مجھ کو ورق دفتر فرسودہ نہ سمجھو

ہر دور کے دیوان کا میں نغمہ سرا ہوں

صدیوں سے مسلط تھا وہ اک لمحۂ جاوید

تنہائیٔ شب میں جو کبھی تجھ سے ملا ہوں

دل حبیبوں نے دکھایا ہے کوئی بات نہیں

 دل حبیبوں نے دُکھایا ہے کوئی بات نہیں

فرض تھا ان کا نبھایا ہے کوئی بات نہیں

میرے مونس میرے یاروں نے دوا کے بدلے

زہر گر مجھ کو پلایا ہے کوئی بات نہیں

سادگی دل کی تو دیکھو کہ فریبِ اُلفت

جانتے بُوجھتے کھایا ہے کوئی بات نہیں

سکون ہے دن کو میسر نہ شب کو سونے میں

 سکون ہے دن کو میسر نہ شب کو سونے میں

تمام عمر کٹی دل کے داغ دھونے میں

یہ جانتی ہیں بہت دن سے انگلیاں میری

ہے کس کے لمس کی خوشبو مِرے بچھونے میں

میں آدھی رات کو بستر پہ چونک اٹھتا ہوں

سسک رہا ہوں کوئی جیسے گھر کے کونے میں

لوگ جب اپنی حقیقت جاننے لگ جائیں گے

 لوگ جب اپنی حقیقت جاننے لگ جائیں گے

زندگی سے زندگی کو مانگنے لگ جائیں گے

دور کرئیے آستینوں سے انہیں ورنہ ضرور

ایک دن یہ سانپ سر پے ناچنے لگ جائیں گے

ریت ہو یا راکھ ہو برباد مت کرئیے اسے

کیا پتہ کب لوگ ان کو پھانکنے لگ جائیں گے

Wednesday, 10 December 2025

جب محمد مصطفیٰ تشریف لائے عرش سے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


جب محمد مصطفیٰﷺ تشریف لائے عرش سے

بتکدہ میں جتنے تھے بت منہ کے بل سب گر پڑے

چپکے چپکے جب عبادت ہو چکی چالیس سال

تب وحی آئی; کہ اعلانِ نبوت کیجیے

تیس دن روزہ ملا اور پانچ وقتوں کی نماز

لے کے تحفہ اُمتی کے واسطے واپس ہوئے

خدا سے اسے مانگ کر دیکھتے ہیں

 خدا سے اُسے مانگ کر دیکھتے ہیں

پھر اپنی دُعا کا اثر دیکھتے ہیں

ہمیں ہیں مُسافر، ہمیں آبلہ پا

تماشہ اے گردِ سفر دیکھتے ہیں

ادھر آ اے حسنِ تمنا! ادھر آ

نظر بھر تجھے اک نظر دیکھتے ہیں

آ بتاؤں میں تجھے حالت ہے کیا مزدور کی

 مزدور


آ بتاؤں میں تجھے حالت ہے کیا مزدور کی

آ دکھاؤں میں تجھے پُر درد اس کی زندگی

کس طرح اس کو رہا سرمایہ داری سے نیاز

کس طرح مزدور نے کی محفلوں میں خواجگی

کس طرح انسان کی وہ ٹھوکریں کھاتا رہا

جانور کی سی بسر کی اس نے کیونکر زندگی

کس توقع پہ شریک غم یاراں ہوں گے

 کس توقع پہ شریک غم یاراں ہوں گے

یاد ہم کس کو بھلا اے دل ناداں ہوں گے

رونق بزم بہت اب بھی سخنداں ہوں گے

ان میں کیا ہم سے بھی کچھ سوختہ ساماں ہوں گے

ہم پہ جو بیت گئے بیت گئی بیت گئی

کیا کہیں آپ سنیں گے تو پشیماں ہوں گے

میری مٹھی میں سورج آ گیا ہے

 میری مُٹھی میں سُورج آ گیا ہے

مِرے اندر اندھیرا چھا گیا ہے

میں خُوشیاں بانٹنے نکلا ہوں گھر سے

میرے رستے میں تُو کیوں آ گیا ہے

میں اب سچائیاں لکھنے لگا ہوں

مِرا ہر لفظ کیوں پتھرا گیا ہے

دشت کے اسرار سے پردہ اٹھا صحرا نورد

 دشت کے اسرار سے پردہ اٹھا صحرا نورد

آبلے پاؤں کے ہم کو بھی دکھا صحرا نورد

ریگ، طوفانوں، سرابوں، گرم ریتوں کی قسم

کچھ بھی اپنے دوستوں سے مت چھپا صحرا نورد

گھنٹیاں اونٹوں کی، نغمے ساربانوں کے سنے

کچھ نہ کچھ تو یاد ہو گا، آ سُنا صحرا نورد

Tuesday, 9 December 2025

ہوتی ہے ان کی ہم پہ عنایت کبھی کبھی

 ہوتی ہے ان کی ہم پہ عنایت کبھی کبھی

آتی نظر ہے چاند سی صورت کبھی کبھی

غیروں کے مشورے کے لیے وقف رات دن

مجھ سے مگر ہے ملنے کی فرصت کبھی کبھی

غصہ میں ان کو دیکھ کے مجھ کو گماں ہوا

آتی ہے اس طرح بھی قیامت کبھی کبھی

تسبیح محمد میں یوں مصروف قلم ہو

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


تسبیحِ محمدﷺ میں یوں مصروف قلم ہو

الہام کی رم جھم ہو، تصور میں حرم ہو

رنگوں میں دھلے حرف ہوں، خوشبو میں بسے لفظ

اندازِ ثناء ہم سرِ معیارِ ارم ہو

ہر شے میں تِرا عکس ابھارا ہے خدا نے

تخلیقِ بہاراں ہو کہ ترتیبِ ارم ہو

اداس تم ہی نہیں ہو حیات ہے شاید

 اداس تم ہی نہیں ہو حیات ہے شاید

تھکی تھکی سی کہیں کائنات ہے شاید

رکی رکی سی یہ سانسیں اور جھکی سی نگاہ

اس اک بات میں اک اور بات ہے شاید

میں تم کو جیت رہا ہوں تمہیں پتہ ہی نہیں

یہ اور بات کہ میری ہی مات ہے شاید

جو دکھائے نہ تماشے وہ تماشے والا

 جو دکھائے نہ تماشے وہ تماشے والا

یہ جو سرکس ہے یہ سرکس نہیں چلنے والا

اُڑتے پِھرتے ہوں پرندے یا ہوں پنجرے میں قید

حال جانے ہے کِھلونوں کا کِھلونے والا

یہ نہ سمجھو کہ گیا بھول بنا کر دنیا

ہر خبر میلے کی رکھتا ہے وہ میلے والا

زندگی میری بظاہر اک شکستہ ساز ہے

 زندگی میری بظاہر اک شکستہ ساز ہے

سننے والوں کے لیے آواز ہی آواز ہے

کون سی منزل پہ آ کر تھم گیا دردِ جگر

آج دل کی انجمن محرومِ سوز و ساز ہے

غالباً ٹوٹا کسی مظلوم کا تارِ نفس

دور تک آواز ہے آواز ہی آواز ہے

ہر روز ایک آفت ہر شب نئی مصیبت

 رقص بسمل (اقتباس)


ہر روز ایک آفت ہر شب نئی مصیبت

دل میں طپش ہے پنہاں اور بیقرار جی ہے

ہمدم ہیں رنج و کلفت، ہمدرد بے کسی ہے

مل جائے گی مجھے اب مر مٹنے ہی میں راحت

کب تک یہ ہر گھڑی کے صدمے سہے طبیعت

ہر عضو پر الم ہے رگ رگ میں بے کلی ہے

یوں تو شمار اس کا مرے بھائیوں میں تھا

 یوں تو شمار اس کا مرے بھائیوں میں تھا

میں تھا لہو لہو وہ تماشائیوں میں تھا

چہرے سے میں نے غم کی لکیریں مٹا تو دیں

لیکن جو کرب روح کی گہرائیوں میں تھا

وہ حوصلہ کہ پھیر دے جو آندھیوں کے رخ

وہ حوصلہ ابھی مری پسپائیوں میں تھا

Monday, 8 December 2025

مجھے مانجھی لیے چل مدینے مجھے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت

مجھے مانجھی لیے چل مدینے مجھے


میرا مرشد ہے تُو اور مِرا رہبر

میں ہوں اس راہ سے آج تک بے خبر

احمدِ مصطفیٰﷺ رحمتِ دو جہاں

میرے مانجھی وہ سوئے ہوئے ہیں وہاں

اب نہ ہو گا وہ دیدارِ رُوئے حسیں

آہ یہ ہجر کے لمحات تمہیں کیا معلوم

آہ یہ ہجر کے لمحات تمہیں کیا معلوم

شعلہ زن ہیں مِرے جذبات تمہیں کیا معلوم

تم نے ساحل سے ہی دیکھے ہیں سفینے سب کے

ڈوبنے والوں کے حالات تمہیں کیا معلوم

تم تو واقف ہی نہیں زہر کی لذت سے ابھی

کیسے کٹتی ہے مِری رات تمہیں کیا معلوم

سازش میں میرے قتل کی وہ مبتلا تو ہے

 سازش میں میرے قتل کی وہ مبتلا تو ہے

مجھ کو خوشی یہ ہے وہ مجھے سوچتا تو ہے

اچھا نہیں برا ہی سہی مانتا تو ہے

اس کے تخیلات میں میری جگہ تو ہے  

اقبال، مال، عیش حکومت نہیں رہی

لیکن ہمارے پاس ہماری انا تو ہے

دم گھٹا جاتا ہے آئے کس طرح تازہ ہوا

 دم گھٹا جاتا ہے آئے کس طرح تازہ ہوا

کر گئی ہے بند آج ایک ایک دروازہ ہوا

کون سی آنکھوں سے دیکھوں زندگی کی بے بسی

چہرہ چہرہ مل رہی ہے موت کا غازہ ہوا

قہر پیہم ڈھا رہی ہے خوشبوؤں کے شہر میں

دیکھنا تم ایک دن بھگتے گی خمیازہ ہوا

نفرت کے اندھیروں کو مٹانے کے لیے آ

 نفرت کے اندھیروں کو مٹانے کے لیے آ 

آ شمع محبت کو جلانے کے لیے آ

بے باک ہوا جاتا ہے اب درد جدائی

ابھرے ہوئے زخموں کو دبانے کے لیے آ

کب تک میں سنبھالوں تیری یادوں کی امانت 

یہ بارِ گراں دل سے ہٹانے کے لیے آ

بغاوت میں رہا ہوں میں بغاوت میں رہوں گا

 بغاوت میں رہا ہوں میں، بغاوت میں رہوں گا

محبت کا میں ہوں مجرم، ندامت میں رہوں گا

میں باطل کے عقیدوں کا ہوں کافر تو کہتا ہوں

شہیدِ راہِ الفت ہوں، شفاعت میں رہوں گا

کیا یوں چاک داماں کو، رفوگر نے دغا دے کر

بچی ہے عمر جتنی وہ، جراحت میں رہوں گا

Sunday, 7 December 2025

جس دم وسیلہ رب کو ترے نام کا دیا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


جس دم وسیلہ رب کو تِرےﷺ نام کا دیا

دنیا میں اس نے مجھ کو طلب سے سوا دیا

ختمِ رُسل نبیﷺ کو بنایا خدا نے اور

قرآن دے کے دین مکمل کرا دیا

بوبکرؓ ہوں، عمرؓ ہوں کہ عثمانؓ یا علیؓ

اسلام کا سبھی کو خلیفہ بنا دیا

خط اسے سوچ سمجھ کر لکھنا

 ایک ہی لفظ میں دفتر لکھنا

خط اسے سوچ سمجھ کر لکھنا

جب چلی تیز ہوا کی تلوار

کتنے پنچھی ہوئے بے پر لکھنا

چاندنی کس کا مقدر ٹھہری

کس کا تاریک رہا گھر لکھنا

تجھ سے ظالم کو پیار کون کرے

 تجھ سے ظالم کو پیار کون کرے

زندگی مفت خوار کون کرے

حالِ وحشت تو ان کو ہے معلوم

پیرہن تار تار کون کرے

پردہ در ہے کسی کا پردا ہی

حال یہ آشکار کون کرے

اک ستارہ تری سرمئی آنکھ میں

 آرزو کا سفر


اک ستارہ

تِری سرمئی آنکھ میں    

کہکشاؤں کی جھِلمل میں چھپنے لگا 

صبح کی روشنی کی پھوار 

میرے دل پر گِری

کب ستارا ہیں آپ بھی ہم بھی

 کب ستارا ہیں آپ بھی ہم بھی

اینٹ گارا ہیں آپ بھی ہم بھی

ہم خسارہ ہیں آپ بھی ہم بھی

گوشوارہ ہیں آپ بھی ہم بھی

کب زمانے کی ہم ضرورت ہے

بس گزارا ہیں آپ بھی ہم بھی

یہی تیری رحمت صلہ دے رہی ہے

 یہی تیری رحمت صلہ دے رہی ہے

مِری بے بسی بھی مزا دے رہی ہے

تُو پُورب تو پُوربا، تُو پچھم تو پچھوا

ہوا بھی تیرا ہی پتہ دے رہی ہے

میں دن رات تجھ کو کروں یاد کتنا

محبت تِری اب سزا دے رہی ہے

Saturday, 6 December 2025

قطرے سے مرے دامن خالی کو بھر دیا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


قطرے سے مِرے دامن خالی کو بھر دیا

تُو نے سمندروں سے ہے پیالی کو بھر دیا

رکھا قدم حضورﷺ نے کس پیار سے کہ پھر

لاکھوں گُلوں سے ایک ہی ڈالی کو بھر دیا

تارے ہیں آسمان کی جھولی میں یا کہ پھر

خیرات سے فقیر کی تھالی کو بھر دیا

داغ ہیں دل کی یادگاروں میں

 داغ ہیں دل کی یادگاروں میں

آگ لگ جائے ان بہاروں میں

ہے عجب دلکشی کا اک عالم

ان کی تصویر ہے نظاروں میں

آج جنسِ خلوص مہنگی ہے

اک نمائش ہے غمگساروں میں

ٹکرا رہے ہیں موج فریب جہاں سے ہم

 ٹکرا رہے ہیں موج فریب جہاں سے ہم

ایسے میں تجھ کو لائیں جوانی کہاں سے ہم

مرہم کے باوجود بھی بھرتے نہیں ہیں زخم

واقف ہیں نشتر کرم دوستاں سے ہم

اللہ رے بے خودی کہ ہمیں پوچھنا پڑا 

جائیں کدھر کو آئے ہیں یارو کہاں سے ہم 

اگر وہ زلف ہو زنجیر میری

 اگر وہ زلف ہو زنجیر میری

تو کھل جائے ابھی تقدیر میری

انہیں بھی بے کلی سے بے کلی ہے

غضب ہے آہِ پُر تاثیر میری

بدل ڈالی ہے اس نے دل کی دنیا

نگاہِ یار ہے تقدیر میری

نشان زخم پہ نشتر زنی جو ہونے لگی

 نشان زخم پہ نشتر زنی جو ہونے لگی

لہو میں ظلمت شب انگلیاں بھگونے لگی

ہوا وہ جشن کہ نیزے بلند ہونے لگے

نیام تیغ کی خنجر کے ساتھ سونے لگی

جہاں میں دوڑ کے پہنچا تھا وہ گھنیری چھاؤں

ذرا سی دیر میں زار و قطار رونے لگی

رونے والوں نے ترے غم کو سراہا ہی نہیں

 رونے والوں نے تِرے غم کو سراہا ہی نہیں

رات خوش رہ کے بھی کٹ سکتی ہے سوچا ہی نہیں

نہ کہیں ابر کا گھونگھٹ،۔ نہ ہوا کی پازیب

دن کئی دن سے تِرے رنگ میں دیکھا ہی نہیں

تُو بھی ان اجڑے دیاروں میں ہے میری مانند

ایسا لگتا ہے کہ تُو نے مجھے دیکھا ہی نہیں

چرا لایا ہوں خود کا اپنا سایہ چھوڑ آیا ہوں

 چرا لایا ہوں خود کا اپنا سایہ چھوڑ آیا ہوں

میں اُس کے آئینے میں اپنا چہرہ چھوڑ آیا ہوں

اب آنکھوں میں بسالے یا سپردِ آگ کر ڈالے

میں اُس کی ڈائری میں ایک سپنا چھوڑ آیا ہوں

اب آگے دیکھنا ہے زندگی کیا شکل دیتی ہے

میں چلتے چاک پہ خود کو ادھورا چھوڑ آیا ہوں

Friday, 5 December 2025

سرکار مدینہ کی وساطت پہ نظر ہے

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


سرکارِ مدینہؐ کی وساطت پہ نظر ہے

اُس رحمت عالمؐ کی شفاعت پہ نظر ہے

پائی وہ بلندی کہ ہے افلاک کو حیرت

رفعت کی ، نبی پاکؐ کی رفعت پہ نظر ہے

بِن مانگے عطا ہوتے ہیں دنیا کے خزانے

آقاﷺ تہی داماں ہوں، عنایت پہ نظر ہے

کسی کی بات میں آ کر جو آنا ہو تو مت آنا

 کسی کی بات میں آ کر جو آنا ہو تو مت آنا

اگر جانے کا پہلے سے بہانہ ہو تو مت آنا

کسی دن چائے پر آنا، تمہارا خیر مقدم ہے

میرے حالات پر جو رحم کھانا ہو تو مت آنا

میری آنکھوں کی تنہائی تمہیں بے چین کر دے گی

اگر کچھ بولنا، سننا، سنانا ہو تو مت آنا

قیامت کا کوئی ہنگام ابھرے

 قیامت کا کوئی ہنگام اُبھرے

اجالے ڈوب جائیں شام ابھرے

کسی تلوار کی قاتل زباں پر

لہو چہکے ہمارا نام ابھرے

گرے گلیوں کے قدموں پر اندھیرا

فضا میں روشنئ بام ابھرے

وہ مرے دل کا حال کیا جانے

 وہ مرے دل کا حال کیا جانے

ناز قدرِ نیاز کیا جانے

کعبہ جس کا ہو ابروئے جاناں

وہ طریقِ نماز کیا جانے

عشق ہر حال میں ہے حسن سے کم

غزنوی کو ایاز کیا جانے

تھک ہار کے بیٹھا ہوں کوئی آس نہیں ہے

 تھک ہار کے بیٹھا ہوں کوئی آس نہیں ہے

یہ دور کسی طور مجھے راس نہیں ہے

کھلتے تو ہیں پھولوں کی طرح زخمِ جگر بھی

پھولوں کی طرح ان میں مگر باس نہیں ہے

تاریک فضاؤں میں کرن پھوٹ رہی ہے

صد شکر نئی فکر میں اب یاس نہیں ہے

اپنی پہچان گنوانے کے لیے راضی ہوں

اپنی پہچان گنوانے کے لیے راضی ہوں

میں تیرے شہر سے جانے کے لیے راضی ہوں

تو مجھے جھوٹ ہی کہہ دے کہ محبت ہے مجھے

میں تو قیمت بھی چکانے کے لیے راضی ہوں 

عشق کہتا ہے کہ راضی با رضا ہو جاؤ

میں تو خود کو بھی مٹانے کے لیے راضی ہوں

Thursday, 4 December 2025

میں کیا کہوں کریم سے بندے کو کیا ملا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


میں کیا کہوں کریم سے بندے کو کیا ملا

سب کچھ ملا جو ایک شہِ دو سراﷺ ملا

روزِ حساب عیب معاصی کا پردہ پوش

ہم عاصیوں کو دامنِ آلِ عبا ملا

نکلی لحد میں دولتِ دیدارِ مصطفیٰﷺ

ہم خاک میں ملے تو درِ مدعا ملا

شیشہ صفت تھے آپ اور شیشہ صفت تھے ہم

 شیشہ صفت تھے آپ اور شیشہ صفت تھے ہم

بکھرے ہوئے سے آپ ہیں بکھرے ہوئے سے ہم

اس نے تھما دی ہاتھ میں اک بانسری ہمیں

پتھر اٹھا کے ہاتھ میں دینے لگے تھے ہم

موجود ہے تِری طرح وہ پاس بھی نہیں

کیسے کہیں یہ بات اب پاگل ہوا سے ہم

سخت وحشت زدہ صحرا میں ہوا میرے بعد

 سخت وحشت زدہ صحرا میں ہوا میرے بعد

نام یوں "قیس" کا "مجنوں" کو ملا میرے بعد

پڑ گئے حلق میں صحرائے جنوں کے کانٹے

کہ میسّر نہیں ایک آبلہ پا میرے بعد

چاک اس غم سے گریبانِ کفن ہے کہ نہیں

پیرہن غم سے نہ ہو ان کی قبا میرے بعد

جب ساتھ میں چلنا ہی نہیں ایک قدم اور

 جب ساتھ میں چلنا ہی نہیں ایک قدم اور

پھر سب کو بتا دیجیے تم اور ہو ہم اور

ڈرتے نہیں طوفانوں سے سیلابوں سے ہم لوگ

جس درجہ ستم ہو گا یہ اٹھے گا قلم اور

آسانی سے دیتے نہیں ہم سب کو دعائیں

ظالم سے کہو؛ کرتا رہے ہم پہ ستم اور

قاتل سے بھی منصف نے رہ و رسم بڑھا لی

 قاتل سے بھی منصف نے رہ و رسم بڑھا لی

اب عدل ہے بکواس تو انصاف ہے گالی

اِس دور نے لفظوں کے بدل ڈالے معانی

نیکی ہے تجارت تو شرافت ہے دلالی 

جسموں سے اتر جاتی ہیں دفتر کی تکانیں

میزوں پہ سرِ شام ہنسے چائے کی پیالی

عشق کے منبر و محراب الگ ہوتے ہیں

 بندگی کرنے کے آداب الگ ہوتے ہیں

عشق کے منبر و محراب الگ ہوتے ہیں

دل کا آزار کبھی جان نہیں لے سکتا

جان سے جانے کے اسباب الگ ہوتے ہیں

عشق اندیشۂ عبرت سے نکلتا ہی نہیں

دل الگ ہوتا ہے، اعصاب الگ ہوتے ہیں

Wednesday, 3 December 2025

بھیڑ پروانوں کی ہے گنبد خضریٰ کے قریب

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


بھیڑ پروانوں کی ہے گنبدِ خضریٰ کے قریب

کھِنچ کے بیمار چلے آئے مسیحا کے قریب

ہر کِرن ریش منوّر کی تجلّٰی افروز

لَنْ تَرَانِیْ کا ہے ہالہ رُخِ زیبا کے قریب

ہر نشانِ قدمِ ناز ہے معراج بکف

اوجِ سدرہ سے بُلند عرشِ معلّٰی کے قریب

ضبط ساکت جھیل کا اب توڑ دے ایسے کہ بس

 ضبط ساکت جھیل کا اب توڑ دے ایسے کہ بس

خامشی بھی چیخ اٹھے اور پھر بولے کہ بس

بعد میں آرام سے پھر وقت نے یکجا کِیا

ہم تِری آغوش میں آئے تو یوں بکھرے کہ بس

طاق پر ہم نے اٹھا کر رکھ دیا امید کو

تیس پر دس اور دن پوچھو نہ کیا گزرے کہ بس

جب کبھی ترک غم دل کا سوال آتا ہے

 جب کبھی ترکِ غمِ دل کا سوال آتا ہے

ریت پر نام تھا میرا بھی خیال آتا ہے

موجِ طوفان اٹھی بہہ چلے خوابوں کے صدف

پھر برستے ہوئے بادل پہ زوال آتا ہے

اب مِرے خواب کے ہمراہ وہی یادیں ہیں

جن کو معلوم نہ تھا شیشے میں بال آتا ہے

فرعون کی انگشت پر تقدیر امم ہے

 فرعون کی انگشت پر تقدیرِ امم ہے

ہاتھوں میں ابوجہل کے قرطاس و قلم ہے

شداد کے قدموں میں گلستانِ اِرم ہے

سُقراط کی تقدیر میں پیمانۂ سَم ہے

آتا نہیں ہر بار ابابیل کا لشکر

اب دستِ گنہگار میں ناموسِ حرم ہے

زلف و رسن کا اب بھی ہے الجھاؤ دور تک

 زلف و رسن کا اب بھی ہے اُلجھاؤ دُور تک

سر کو ہتھیلیوں لیے آؤ، دور تک

دشتِ وفا میں گُونجتی پھرتی ہے اک صدا

خوں میں نہاؤ، اور چلے جاؤ دور تک

ہم بھی بڑھا رہے ہیں شبِ غم کی عمر کو

تم بھی سیاہ زُلفوں کو سُلجھاؤ دور تک

کچھ لوگ ترے شہر کو اب چھوڑ چلے ہیں

 کچھ لوگ تِرے شہر کو اب چھوڑ چلے ہیں

یہ بامِ فلک، ماہِ عرب چھوڑ چلے ہیں

اب زیست میں شاید کہ سِناں کا ہی سفر ہے

جینے کا یہاں اور ہی ڈھب چھوڑ چلے ہیں

اک دشت سنائے گا کہانی یہ ہماری

ہم ریت پہ سب نام و نسب چھوڑ چلے ہیں

الفت میں کیا بشر سے بشر بولتے نہیں

 الفت میں کیا بشر سے بشر بولتے نہیں

کیوں عاشقوں سے رشکِ قمر بولتے نہیں

شیریں لبوں کی یاد میں لب ان کے بند ہیں

شاخوں پہ اس لیے یہ ثمر بولتے نہیں

وصلت کی شب کو حلق پہ ہیں پھیرتے چھری

پھیرو چھری پہ مرغِ سحر بولتے نہیں

رنگ اپنی محبت کا جس پر وہ چڑھاتے ہیں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


رنگ اپنی محبت کا جس پر وہ چڑھاتے ہیں

اس کو وہ جہاں بھر میں انمول بناتے ہیں

انوار برستے ہیں چہروں سے انہی کے بس

جو عشق شہ دیںؐ سے سینے کو سجاتے ہیں

یہ ان کی غلامی میں اعزاز ملا ہم کو

جو لوگ ہمیں اپنی پلکوں پہ بٹھاتے ہیں

Tuesday, 2 December 2025

نہ کی جفاؤں میں اس نے کوئی کسر پھر بھی

 نہ کی جفاؤں میں اس نے کوئی کسر پھر بھی

لگے ہوئے تھے امیدوں کو میری پر پھر بھی

تمہاری یاد سے وابستہ ہے حیات مِری

کسی کا یوں تو ہوا کون عمر بھر پھر بھی

تم اپنے گرد فصیلیں بنا کے بیٹھے ہو

ہوا تو ہو گا مِری یاد کا گزر پھر بھی

ماہ پارے دیکھتا رہتا ہوں میں

 زعفرانی کلام


ماہ پارے دیکھتا رہتا ہوں میں

کیا نظارے دیکھتا رہتا ہوں میں

خانہ بربادی پہ اخراجات کے

گوشوارے دیکھتا رہتا ہوں میں

موند لیتی ہے وہ آنکھیں رات کو

دِن میں تارے دیکھتا رہتا ہوں میں

کنوارے بوڑھے نے شادی کی ایسی عورت سے

 زعفرانی کلام

آٹھواں شوہر


کنوارے بوڑھے نے شادی کی ایسی عورت سے

کسی طرح بھی جو کچھ کم نہ تھی قیامت سے

نصیب والی تھی چھ شادی کر چکی تھی وہ

اب اپنے ساتویں شوہر کی زندگی تھی وہ

کچھ ایسا ساتواں شوہر بھی ہو گیا بیمار

یقیں تھا سب کو کہ یہ بھی اجل کا ہو گا شکار

آج رہنے دو اشنان بہت سردی ہے

 زعفرانی کلام


آج رہنے دو اشنان، بہت سردی ہے

اور گیزر بھی نہیں آن، بہت سردی ہے

اب یہی عزم ہے، چاہے تو قیامت گزرے

ہم نہ بدلیں گے یہ بنیان، بہت سردی ہے

چاند پر جھک کے کسی ابر نے سرگوشی کی

گھر میں رہتے ہیں میری مان، بہت سردی ہے

عاشق کی دعائیں لیتی جا

 طنزیہ و مزاحیہ کلام

ناکام عاشق کی بددُعا


عاشق کی دعائیں لیتی جا

جا تجھ کو پتی کنگال ملے

عاشق کی دعائیں لیتی جا

جا تجھ کو پتی کنگال ملے

کھچڑی کی کبھی نہ یاد آئے

جا تجھ کو چنے کی دال ملے

Monday, 1 December 2025

مصطفیٰ کے دیوانے کب کسی سے ڈرتے ہیں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


مصطفیٰؐ کے دیوانے کب کسی سے ڈرتے ہیں

ذکر کملیﷺ والے کا کرنے والے کرتے ہیں

عقل کے جو بندے ہیں خود ہی ڈوب جاتے ہیں

عشق والے طوفاں میں ڈوب کر ابھرتے ہیں

آپؐ کے پیسنے سے جن گُلوں کو نسبت ہے

موسم خزاں میں وہ اور بھی نکھرتے ہیں

دل غم کا طلبگار ہے معلوم نہیں کیوں

 دل غم کا طلبگار ہے معلوم نہیں کیوں

راحت سے یہ بیزار ہے معلوم نہیں کیوں

حق یہ ہے کہ ہم دونوں محبت میں بندھے ہیں

لیکن اسے انکار ہے معلوم نہیں کیوں

جو معتبر تھا اہل زمانہ کی نظر میں

رسوا سر بازار ہے معلوم نہیں کیوں

ضبط آہ و فغاں کوشش رائیگاں

 ضبط آہ و فغاں

کوشش رائیگاں

وجہ تسکین جاں

جلوۂ مہ وشاں

اک نظر کا زیاں

بن گئی داستاں

تبدیل کر رہا ہوں میں عنوان زندگی

 بھڑکی ہوئی ہے شمع شبستان زندگی

شعلہ نہ چوم لے کہیں دامان زندگی

مرنے کے بعد پھولوں سے تربت نواز دی

ہوتا ہے کون زیست میں پرسان زندگی

عیش و خوشی نشاط و طرب راحت و سکوں

ہیں ان سے بڑھ کے کون حریفان زندگی

وه جتا کے عشق مکر گیا میں تو مر گیا

 وه جتا کے عشق مکر گیا میں تو مر گیا

یہ جو سانحہ سا گزر گیا میں تو مر گیا

ترا ہاتھ تھا کسی اور شخص کے ہاتھ میں

میں یہ خواب دیکھ کے ڈر گیا میں تو مر گیا

وه ادھر رہا تو حیات میری حیات تھی

وه ادھر سے جسے ادھر گیا میں تو مر گیا

ہم ٹھہر پائے نہ کعبے میں نہ بت خانے میں

 ہم ٹھہر پائے نہ کعبے میں نہ بتخانے میں 

عمر گزری دل شوریدہ کے بہلانے میں

آج تک ہو نہ سکے محرم اسرار جنوں 

برسیں گزریں ہمیں رہتے ہوئے ویرانے میں

اپنے تو اپنے رہے غیر بھی رو دیتے ہیں 

ایسی کیا بات ہے ہمدم مرے افسانے میں