Sunday, 2 October 2022

دل میں ہمارے آپ سمائیں کسی طرح

 دل میں ہمارے آپ سمائیں کسی طرح

در پردہ سینے سے تو لگائیں کسی طرح

فرقت کی شب میں ہم جگر و دل سے تنگ ہیں

آتا ہے چین دہنے نہ بائیں کسی طرح

قتل کر کے مجھ ایسے کفِ افسوس ملے

طائرِ رنگِ حنا اڑ گیا جگنو کی طرح

بھولے ہیں وہ ہماری وفائیں تو بھول جائیں

بھولیں گے ہم نہ ان کی جفائیں کسی طرح

شبِ فرقت مِرے رونے سے ہے برسات کی رات

چرخ سے تارے اڑے جاتے ہیں جگنو کی طرح


قدر بلگرامی

No comments:

Post a Comment