Wednesday, 15 September 2021

اس نے غریب شہر کے جب گھر جلا دئیے

 اس نے غریب شہر کے جب گھر جلا دئیے

ہم نے بھی صبر و ضبط کے دفتر جلا دئیے

اک فاختہ نشانی تھی عالم کے امن کی

تنظیم امن و آشتی نے پر جلا دئیے

صحرا میں نفرتوں کے کِھلا پیار کے گلاب

خونِ وفا سے دوشِ ہوا پر جلا دئیے

آتش میں کس نے جھونک دی ہنستی ہوئی زمین

کس کی ہوس نے سات سمندر جلا دئیے

دیتے تھے عہدِ حال میں ذہنوں کو اضطراب

ماضی کے دلفریب وہ منظر جلا دئیے

جن پر رقم تھی اپنی محبت کی داستان

میں نے سبھی خطوط وہ جل کر جلا دئیے

جنجال جی کا بن گئی ناداں کی دوستی

عقل و خرد کی ساز کے شہپر جلا دئیے


ساز دہلوی

No comments:

Post a Comment