Wednesday, 15 September 2021

جب لمحوں نے لکھی رات

 جب لمحوں نے لکھی رات

قریہ قریہ پھیلی رات

تارا تارا دھول ہی دھول

اُتری ہے یہ کیسی رات

دل میں گہری گہری سوچ

فکر میں سوئی سوئی رات

پھر لوگوں نے دیکھے خواب

جب بھی دن نے اوڑھی رات

دن پر کالک ملتی ہے

غم سے بوجھل میلی رات

جب آصف بچھڑی تھی شام

ساتھ لپٹ کے روئی رات


شفیق آصف

No comments:

Post a Comment