تضمین بر شکوہ
تیری خاطر جو کسی بات پہ اڑ جاتے ہیں
پیر گھر والوں کے گھر سے ہی اکھڑ جاتے ہیں
تجھ سے برہم ہوا کوئی تو بگڑ جاتے ہیں
بھائی کیا چیز ہے ہم باپ سے لڑ جاتے ہیں
دبدبہ تیرا ہر اک دل پہ بٹھایا ہم نے
تُو نے جو کہہ دیا وہ کر کے دکھایا ہم نے
رشتہ شادی کا لیے ہم سحر و شام پھرے
جیسے مایوس کوئی بندۂ آلام پھرے
کوئی ہاتھوں میں لیے جیسے تہی جام پھرے
ہم بجُز تیرے ہر اک جگہ سے ناکام پھرے
صاحبِ زر نہیں بے زر بھی نہ چھوڑے ہم نے
عقل کے سیکڑوں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نے
نشتر امروہوی
نشتر امروہی
No comments:
Post a Comment