Monday, 13 September 2021

تیری خاطر جو کسی بات پہ اڑ جاتے ہیں

 تضمین بر شکوہ


تیری خاطر جو کسی بات پہ اڑ جاتے ہیں

پیر گھر والوں کے گھر سے ہی اکھڑ جاتے ہیں

تجھ سے برہم ہوا کوئی تو بگڑ جاتے ہیں

بھائی کیا چیز ہے ہم باپ سے لڑ جاتے ہیں

دبدبہ تیرا ہر اک دل پہ بٹھایا ہم نے

تُو نے جو کہہ دیا وہ کر کے دکھایا ہم نے


رشتہ شادی کا لیے ہم سحر و شام پھرے

جیسے مایوس کوئی بندۂ آلام پھرے

کوئی ہاتھوں میں لیے جیسے تہی جام پھرے

ہم بجُز تیرے ہر اک جگہ سے ناکام پھرے

صاحبِ زر نہیں بے زر بھی نہ چھوڑے ہم نے

عقل کے سیکڑوں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نے


نشتر امروہوی

نشتر امروہی

No comments:

Post a Comment