موسم ہے خوشگوار، ہوا مُشکبار ہے
لیکن تِرے بغیر ہمیں کب قرار ہے
میں بھی خزاں رسیدہ ہوا چاہتا ہوں اب
شاخِ حِنا بھی منتظرِ دستِ یار ہے
تنہائیاں، ہر ایک تکلف سے بے نیاز
محفل، رہینِ رنگ و گل و برگ و بار ہے
اک دوسرے کے حق میں قصیدے لکھے گئے
حالانکہ سب کو سب سے شکایت ہزار ہے
اک دل جسے دھڑکنے علاوہ نہیں ہے کام
اک سانس ہے کہ بار غم روزگار ہے
پھر قیس کو ہوا ہے گمانِ وصالِ یار
پھر دشت میں خلاف توقعِ بہار ہے
شہزور خاور
No comments:
Post a Comment