یہ وفا کیا ہے آخر؟
ہم ہی مرتے ہیں کیوں بس وفا کے لیے
تم نہیں کیا کسی بھی چتا کے لیے؟
گر تمہاری طرح
میرا دل بھی
تمہارے بنا بھی دھڑکتا رہے
بے وفائی ہے کیوں؟
بے وفائی کی ایجاد دستورِ میزان تم ہو، پتہ ہے
مگر اب مِرا دل بھی کچھ بے وفا ہو چلا ہے
کہ تمہارے بِنا بھی دھڑکنے چلا ہے
یہ اٹھ کر ستی کی چتا سے
ادھر جا رہا ہے
جہاں تم نہیں ہو، جہاں تم نہیں ہو
کہ میں روپ ہوں اب
نہ اب میں کنور ہوں
محض اپنے دل کی ہی
اب ہمسفر ہوں
عذرا پروین
No comments:
Post a Comment