پورے نو مہینے کا اجالا
کون کہتا ہے
چاندنی چار دن کی ہوتی ہے؟
پورے نو مہینے کا اجالا
لڑکی کو عورت بنا دیتا ہے
مرد بننے کے لیے تو
ایک چاند گرہن ہی کافی ہے
پورے نو مہینے کا اجالا
کون کہتا ہے
چاندنی چار دن کی ہوتی ہے؟
پورے نو مہینے کا اجالا
لڑکی کو عورت بنا دیتا ہے
مرد بننے کے لیے تو
ایک چاند گرہن ہی کافی ہے
کُشتنی
ہر چیز فنا ہو جاتی ہے
ہر چیز فنا ہو جائے گی
تن کا سونا، من کی چاندی
سانسوں کی کندن، خوں کہ لحن
تیرا وہ دمکتا پیراہن
میری وہ سُلگتی شامِ خُتن
زعفرانی کلام ہاتھ کی روانی
یہ ہے آج ہی رات کی داستاں
کہ تھے میہماں میرے اک مہرباں
دکھاؤں میں حضرت کے کھانے کا ڈھنگ
لکھوں ان کے لقمے اڑانے کا رنگ
پلیٹوں میں ہلچل مچاتا ہوا
وه چمچے سے چمچا لڑاتا ہوا
افیمی سو رہا ہے
افیمی ظلم کو تقدیر کہہ کر سو رہا ہے
سو ہرن کو شیر کھا جائے
عقابوں کے جھپٹتے غول سہمے میمنے کو نوچتے جائیں
کوئی بکری کسی چیتے کو
تھوڑی گھاس کے بدلے سبھی اعضا کھلا بیٹھے
ہزاروں مکھیوں کی سخت محنت سے بنا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جہالت مٹ گئی ساری، قرینے میں نظام آیا
جہاں میں جب بصد عزت مرا خیرالانامؐ آیا
زمانے میں نبیؐ کی ہو گئی جلوہ گری جس دم
زمیں کو آسماں کا با ادب اس دم سلام آیا
صدائیں گونج اٹھیں ہر طرف ان کی ولادت پر
مبارک ہو مبارک وہ رسولوں کا امامﷺ آیا
رقص
کھولتے آب میں
رقص کرتے ہوئے بلبلے
قابلِ غور ہیں
کیا تپش ہے جو ان کو بناتی ہے اور
اتنا مجبور کرتی ہے کہ
ناچتے ناچتے
ہم نے پہلا جرم اپنی پیدائش کے دن کیا تھا
ہمارے سانس لینے سے پہلے
چیخ کر رونے پر پابندی لگا دی گئی تھی
چپ میں لپیٹ کر ہمیں ہماری ماؤں کے حوالے کر دیا گیا
اس سے پہلے انہیں
بے آواز گیت یاد کروائے گئے
اسی باعث زیادہ ہنس رہا ہوں
میں بالکل بے ارادہ ہنس رہا ہوں
سجے ہیں زخم سینے پر ہزاروں
مگر میں حسبِ وعدہ ہنس رہا ہوں
نہیں ہے مطمئن منزل پہ کوئی
میں ہو کر وقفِ جادہ ہنس رہا ہوں
دیکھے گا کوئی خاک یہ ملبہ وجود کا
کس کو کھنڈر ملے گا مِری باش و بود کا
الجھا ہوا خدا بھی ہے دام دوام میں
ہے سلسلہ حدود سے باہر قیود کا
اک عمر کی بسی ہوئی خوشبو نکل گئی
اعلان کر رہا ہے تعفّن وجود کا
امر واقعہ
تو امر واقعہ یہ ہے
یہ بیوہ ہو گئی تھی
اور اس نے ناسمجھ بچوں کو یوں ہی بھیک سے پالا ہے پوسا ہے
جواں بیٹے ہیں اب اپنا کماتے ہیں
انہیں تو معاشرے میں زندہ رہنا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
نہیں کافی سلیقہ نعت میں، بس خوش بیانی کا
مرے آقاﷺ عطا ادراک ہو، لفظ و معانی کا
جھڑی ایسی لگی، آقاؐ کی رحمت جوش میں آئی
نصیبہ کھل گیا پل میں، مری آنکھوں کے پانی کا
وہ راحت پائی ہے اس نے درِ سرکارؐ پر آ کر
نہیں کوئی ارادہ دل کا اب نقلِ مکانی کا
بے خیالی میں نہ جانے کیا سے کیا لکھتی رہی
ایک پتھر کو محبت کا خدا لکھتی رہی
بارہا مظلوم غنچوں کو تڑپتا دیکھ کر
زرد پتوں پر لہو سے کربلا لکھتی رہی
کارواں لٹنے پہ اب خود سے بہت بیزار ہوں
جانے کیوں میں رہزنوں کو رہنما لکھتی رہی
کسے معلوم ہے اک دن
مجھے پھر ایک ان دیکھے جزیرے کی طرف چپ چاپ جانا ہے
جہاں صندل کے قد آور درختوں تلے
کچھ لوگ میرے منتظر ہوں گے
انہیں تشویش ہو گی مجھ سے پوچھیں گے
کہ ہجرت کیا ہے؟
فکر ہے یہ شب وصال ہمیں
کوستے ہوں گے بد سگال ہمیں
آگے آگے جلو میں ہوں اغیار
بزم سے اس طرح نکال ہمیں
کس نے چھوڑا ہے ایسے مہوش کو
ناصحو! دو کوئی مثال ہمیں
مسیحا سنا ہے کہ بیمار ہے
اسے بھی محبت کا آزار ہے
حقیقت کا جو بھی پرستار ہے
اسی کے لیے تختۂ دار ہے
عمل سے بھی کوئی سروکار ہے
فقط شیخ غازئ گفتار ہے
محبت اور ضرورت
میں اپنے دل کی سب سچائیوں کے ساتھ
یہ اقرار کرتا ہوں
میں تم سے پیار کرتا ہوں
مگر جو کہ رہا ہوں میں
بہت ممکن ہے کہ پورے سچ کی آنچ
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جائیں تو کہاں جائیں سرکار مدینے سے
چلتا ہے ہمارا تو گھر بار مدینے سے
صدقہ اسی در کا تو کھاتے ہیں سبھی عالم
ایک میں ہی نہیں آقا سرشار مدینے سے
یہ نعت کسی انساں کے بس کی نہیں ہوتی
آئیں نہ اگر دل میں افکار مدینے سے
سمندر میں بہا آؤں
وہ یادوں سے بھرا البم
وہ سارے کارڈز
پھولوں کے سبھی تحفے
وہ لمحے خواب کے جیسے
فضاؤں میں رچی خوشبو
خلاؤں کے سفر پر ہے
اے وطن
اے وطن
میرے وطن پیارے وطن
میں نے کب چھوڑا تھا تجھ کو
میں تجھے بھولا ہی کب تھا
دور تھا تجھ سے
مگر اس دل میں ہر دن موجزن تھی تیری یاد
بغیر جنازے کے دفنائی گئی محبت
میں ایک صندوق اٹھائے چل رہا ہوں
جو ماں کی آخری نشانی ہے
جس میں کچھ چیزیں ہیں
ایک رومال جو پہلی محبوبہ کا تحفہ ہے
ایک تصویر جو میری نہیں
ایک زنجیر جو قید خانے میں
فلمی گیت عجیب ہے یہ زندگی
عجیب ہے یہ زندگی کبھی ہے غم کبھی خوشی
ہر ایک شے ہے بے یقیں ہر ایک چیز عارضی
یہ کارواں رکے کہاں کہ منزلیں ہیں بے نشاں
چھپے ہوئے ہیں راستے یہاں وہاں دھواں دھواں
خطر ہیں کتنے راہ میں سفر ہے کتنا اجنبی
عجیب ہے یہ زندگی
فلمی گیت
وہ میرے سامنے تصویر بنے بیٹھے ہیں
میرے ہر خواب کی تعبیر بنے بیٹھے ہیں
چاند ان آنکھوں کو دیکھے تو کنول بن جائے
رات ان ہونٹوں کو چھو لے تو غزل بن جائے
ان کی زلفوں کا حال مت پوچھو
مجھ سے میرا خیال مت پوچھو
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
خزاں کے مارے ہوئے جانبِ بہار چلے
قرارِ پانے زمانے کے بے قرار چلے
وہیں پہ تھام لیا ان کو دستِ رحمت نے
نبی کے در کی طرف جب گنہگار چلے
اے تاجدارِ جہاں! اے حبیبِﷺ رب کریم
وہ بھیک دو کہ غریبوں کا کاروبار چلے
نا آشنا
بہت سے قیمتی لمحے
جو راہ شوق میں گُزرے
جو خوابوں کے جزیرے میں
ستاروں جیسے روشن تھے
نہیں معلوم وہ لمحے، حقیقت تھے
عجیب سا میں
عجیب دنیا
رواج کے ساتھ چل رہا ہوں
نہ منطبق مجھ میں یہ زمانہ
نہ میں زمانے کو ہمنوا ہوں
جمیل احسن
آخری ساعت کے نام
کرن کے رتھ پر سوار ہو کر
ندی کی لہروں پہ چاند اپنی
تمام روداد لکھ چکا ہے
نئی اُڑانیں
طویل رستہ
بسیط سمتیں
قیام
آؤ رات کی بانہوں میں بانہیں ڈال کر کسی سمت چلتے ہیں
آؤ کسی لمحے کی آنکهوں میں آنکهیں ڈال کر
کچھ میٹهی باتیں کرتے ہیں
ریت سے کچھ وعدے چُنتے ہیں
خیالوں کی دهڑکنوں کو سُنتے ہیں
آؤ بیٹھ جاؤ
مرگ دھرنا
تفنگ کو قلم پہ فوقیت ملے تو جان لو یہ ریاست مریض ہے
ستمگروں کے راج میں ستم زدوں پہ احتجاج فرض ہے
یہ جانتے ہوئے کہ رونے والوں کو حق نہیں ملتا
چیخ لازم ہے بہرحال
اپنے بچوں کے قتل پر ماؤں کی مانگ کچھ نہیں ہوتی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
پاک کس عیب سے وہ پیکرِ تنویر نہ تھا
حسنِ بے پردہ پہ کب پردۂ تطہیر نہ تھا
سینۂ سنگ دلاں میں بھی کیا گھر جس نے
غمزۂ ابروئے رحمت تھا کوئی تیر نہ تھا
آپ اُس وقت بھی تھے قصرِ حقیقت کا جمال
جب کہ اک پایہ بھی سنسار کا تعمیر نہ تھا
مستقبل
مستقبل اک بچہ ہے
حال کی گود تک آتے آتے
رخساروں پر اس کے سبزے کی چادر چھا جاتی ہے
پھر کروٹ لیتی ہے خزاں کی زہر میں ڈوبی کالی کالی تیز نگاہ
رخ پہ طمانچے لگتے ہیں
درد کے صحرا میں اک لڑکا جو کل تک اک بچہ تھا
پہلی دنیا کی اقوام
انہیں معلوم ہے کیسے کہاں پہ جنگ کے بادل اٹھانا ہیں
کہاں جھکڑ چلانا ہیں
کسے آگے بڑھانا ہے
کسے پیچھے ہٹانا ہے
زمیں کی گیند کو کیسے گھمانا ہے
مقابل کس کو لانا ہے
تمہیں جب دیکھتا ہوں تو
مری آنکھوں پہ رنگوں کی پھواریں پڑنے لگتی ہیں
تمہیں سنتا ہوں
تو مجھ کو قدیمی مندروں سے گھنٹیوں
اور مسجدوں سے ورد کی آواز آتی ہے
تمہارا نام لیتا ہوں
آگ سے دُھلے آئینے
ہماری شکلیں آگ سے دُھلے آئینوں نے مسخ کر دیں
پھول کمہلانے کی تکلیف جلنے سے بہرحال کم ہے
بستی بستی پناہ ڈھونڈتے رسول
اور درزوں میں چھپے دھوکے
آسمان کس قدر دل گرفتہ ہے
آدھی رات کو
کیا بارہ بجے کے بعد سو جانا چاہیے؟
رات کے احترام میں
رات چلتے چلتے چھت تک آ گئی ہے
ایک بلب تھک کے اونگھ رہا ہے
اسے نیند کا پتھر مار کر بجھا دو
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اک لطف بیکراں ہے رکوع و سجود میں
ہیں لذتیں کمال قیام و قعود میں
روحوں سے جسم تک ہے تعفّن مچا ہوا
کتنا بڑا زياں ہے محبت کے سود میں
محشور ہوں گے اپنے عمل کے سبب کئی
قوم شعیب و لوط میں، عاد و ثمود میں
چاند اپنی وسعتوں میں گم شدہ رہ جائے گا
ہم نہ ہوں گے تو کہاں کوئی دیا رہ جائے گا
رفتہ رفتہ ذہن کے سب قمقمے بجھ جائیں گے
اور اک اندھے نگر کا راستہ رہ جائے گا
تتلیوں کے ساتھ ہی پاگل ہوا کھو جائے گی
پتیوں کی اوٹ میں کوئی چھپا رہ جائے گا
دستِ قاتل جب ہوا موزوں نگینے کے لیے
دُھول بھی رکھی گئی پھر آبگینے کے لیے
کوچۂ دیوانگی سے جب سے نکلے اہلِ دل
عشق کی ذِلّت سنبھالی خوں پسینے کے لیے
کیا مجالِ تشنگی جو آئے اپنے روبرو
غم کا ساغر ساتھ رکھا ہم نے پینے کے لیے
مجھی سے پوچھ رہا تھا مِرا پتا کوئی
بتوں کے شہر میں موجود تھا خدا کوئی
خموشیوں کی چٹانوں کو توڑنے کے لیے
کسی کے پاس نہیں تیشۂ صدا کوئی
درخت ہاتھ اٹھا کر سلام کرتے تھے
مِرے جنوں کا مبارک تھا مرحلہ کوئی
گزشتہ لفظوں کے معبدوں میں قدیم لہجے پڑے ہوئے ہیں
ابھی زباں کے موہنجو داڑو میں کچھ صحیفے پڑے ہوئے ہیں
یہاں نشیب و فراز کیسا،۔ جو بھاگنا ہے تو بھاگنا ہے
ہماری قسمت ہمارے سائے ہمارے پیچھے پڑے ہوئے ہیں
خیال رستوں پہ چلتے چلتے جنازے گِرنے لگے زمیں پر
کسی نے بس اتنا کہہ دیا تھا زمیں پہ سِکّے پڑے ہوئے ہیں
جشن بپا ہے کٹیاؤں میں، اونچے ایواں کانپ رہے ہیں
مزدروں کے بگڑے تیور دیکھ کے سلطاں کانپ رہے ہیں
جاگے ہیں افلاس کے مارے، اُٹھے ہیں بے بس دکھیارے
سینوں میں طوفاں کا تلاطم، آنکھوں میں بجلی کے شرارے
چوک چوک پر گلی گلی میں سرخ پھریرے لہراتے ہیں
مظلوموں کے باغی لشکر سیل صفت اُمڈے آتے ہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
آپﷺ کا اسمِ گرامی اِس قدر اچھا لگے
باغ میں سب سے حسیں جیسے شجر اچھا لگے
عرش کی جانب سفر ہو یا مدینے کی طرف
آپﷺ کا عزمِ سفر اور ہمسفر اچھا لگے
احترام اُن کا بجا اپنی جگہ لیکن مجھے
اپنے ماں اور باپ سے اپنا عمر اچھا لگے
لوگ کیوں ڈھونڈ رہے ہیں مجھے پتھر لے کر
میں تو آیا نہیں کردار پیمبر لے کر
مجھ کو معلوم ہے معدوم ہوئی نقد وفا
پھر بھی بازار میں بیٹھا ہوں مقدر لے کر
روح بے تاب ہے چہروں کا تاثر پڑھ کر
یعنی بے گھر ہوا میں شہر میں اک گھر لے کر
زعفرانی کلام
چھوڑ لٹریچر کو اپنی ہسٹری کو بھول جا
شیخ و مسجد سے تعلق ترک کر اسکول جا
چار دن کی زندگی ہے کوفت سے کیا فائدہ
کھا ڈبل روٹی، کلرکی کر، خوشی سے پھول جا
یہ موجودہ طریقے راہی ملکِ عدم ہوں گے
نئی تہذیب ہو گی اور نئے ساماں بہم ہوں گے
زعفرانی کلام
مے کدۂ نگاہ سے جام پلا گیا کوئی
آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے الو بنا گیا کوئی
جذبۂ عشق کی کہاں قدر جہاں میں آج کل
سنتے ہی صرف مدعا تھانے چلا گیا کوئی
کوئے صنم میں گم تھا میں اپنے تصورات میں
ہارن بجا کے کار کا مجھ کو ڈرا گیا کوئی
زعفرانی کلام
لوگ ہم سے روز کہتے ہیں یہ عادت چھوڑئیے
یہ تجارت ہے خلافِ آدمیت، چھوڑئیے
اس سے بد تر لت نہیں ہے کوئی یہ لت چھوڑئیے
روز اخباروں میں چھپتا ہے کہ رشوت چھوڑئیے
کس کو سمجھائیں، اسے کھو دیں تو پھر پائیں گے کیا
ہم اگر رشوت نہیں لیں گے تو پھر کھائیں گے کیا
زعفرانی کلام
گلے بازی کے لیے ملک میں مشہور ہیں ہم
شعر کہنے کا سوال آئے تو مجبور ہیں ہم
اپنے اشعار سمجھنے سے بھی معذور ہیں ہم
فن سے غالب کے بہت دور بہت دور ہیں ہم
اپنی شہرت کی الگ راہ نکالی ہم نے
کسی دیواں سے غزل کوئی چرا لی ہم نے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
عاصی ہیں گہنگار ہیں شرمائے ہوئے ہیں
دامن تِرے دربار میں پھیلائے ہوئے ہیں
محبوب کے صدقے میں ہمیں بخش دے مولیٰ
ہم آس یہی در پہ لگائے ہوئے ہیں
تُو بخش دے ہم تیرے ہی بندے ہیں الٰہی
نادم ہیں، سیہ کاری پہ شرمائے ہوئے ہیں
آزاد غلام
حادثہ، سانحہ، المیہ یہ ہوا
وہ خریدے گئے اور وہ بک بھی گئے
بس میری قوم سے اک خامی نہیں جاتی
آزادی کے قفس سے غلامی نہیں جاتی
شاہانہ سلطنت اجازت آہ کی جن سے چھین لیتی ہے
رعایا جام غلامی کے مگر بھر بھر کے پیتی ہے
اداس رہنا بھی اک صفت ہے
اگر تم اس کو سمجھ سکو گے
تو پھر اداسی کنیز بن کر
تمہارے پہلو میں بیٹھ کر کے
تمہارے ہاتھوں کو تھام لے گی
تمہیں تسلی سے دیکھ کر کے
وہ جدھر سے گزر کے جاتے ہیں
بن کے خوشبو بکھر کے جاتے ہیں
چاند بھی سر پٹکنے لگتا ہے
جب وہ سج کے سنور کے جاتے ہیں
میں نشے میں بہکنے لگتا ہوں
پیالے آنکھوں سے بھر کے جاتے ہیں
ہجر کو مختصر تو دیکھا ہے
شب میں رنگِ سحر تو دیکھا ہے
یہ طلسمِ نظر تو دیکھا ہے
بادلوں میں قمر تو دیکھا ہے
ہائے تیرِ نطر کا کیا کہنا
اپنا زخمی جگر تو دیکھا ہے
جنتا کی فریاد
آپ کو سکے ملے چاندی ملی سونا ملا
دولت آئی ہاتھ سامانِ طرب افزا ملا
گھر سے دروازے تک آنا بھی نزاکت پر ہے بار
جب نہیں موٹر رہا، اڑنے کو طیارا ملا
چپہ چپہ ملک کا ہے آپ کی املاک میں
دشت و کوہستاں ملے، جنگل ملا، دریا ملا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کہیں پہ صدق کا چہرہ کہیں صفا کا رنگ
رواں ہے سورۂ والذکر میں ثنا کا رنگ
نہ ابتداء کی علامت نہ انتہا کا رنگ
خدا کے رنگوں میں پنہاں رہا انا کا رنگ
عجیب شہر ہے سر سبز ہے ہوا کا رنگ
گلی گلی سے عیاں حُسنِ نقشِ پا کا رنگ
مِرے اطراف یہ کیسی صدائیں رقص کرتی ہیں
کہ یوں لگتا ہے مجھ میں اپسرائیں رقص کرتی ہیں
اسی امید پر شاید کبھی خوشبو کوئی اترے
مِری یادوں کے آنگن میں ہوائیں رقص کرتی ہیں
میسر ہی نہیں آتی مجھے اک پل بھی تنہائی
کہ مجھ میں خواہشوں کی خادمائیں رقص کرتی ہیں
پھر وہی وقت ہو ایسا بھی تو ہو سکتا ہے
تاج ہو تخت ہو ایسا بھی تو ہو سکتا ہے
تِیرہ بختی کی کوئی حد بھی تو سکتی ہے
پھر وہ خوش بخت ہو ایسا بھی تو ہو سکتا ہے
فاصلہ کم ہی سہی سرحدِ جاں تک لیکن
یہ سفر سخت ہو ایسا بھی تو سکتا ہے
تُو پرندوں سے لدی شاخ بنا لے مجھ کو
زندگی اپنی طرف اور جھکا لے مجھ کو
مانتا ہوں کے مجھے عشق نہیں ہے تجھ سے
لیکن اس وہم سے اب کون نکالے مجھ کو
ایک معصوم سی تتلی کو مسلنے والے
تُو تو دیتا تھا حدیثوں کے حوالے مجھ کو
نہ دہر میں نہ حرم میں جبیں جھکی ہو گی
تمہارے در پہ ادا میری بندگی ہو گی
نگاہ یار مِری سمت پھر اٹھی ہو گی
سنبھل سکوں گا نہ میں ایسی یہ بیخودی ہو گی
نگاہ پھیر کے جا تو رہا ہے تُو لیکن
تِرے بغیر بسر کیسے زندگی ہو گی
ہے کوچۂ الفت میں وحشت کی فراوانی
جب قیس کو ہوش آیا لیلٰی ہوئی دیوانی
پیش آئی وہی آخر جو کچھ کہ تھی پیش آئی
قسمت میں ازل ہی سے لکھی تھی پریشانی
دل اس کو دیا میں نے یہ کس کو دیا میں نے
غفلت سی مِری غفلت، نادانی سی نادانی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تضمین بر کلام رضا
آس دل میں ہے مِرے جلوۂ خضرائی کی
آنکھ سے حسرتیں گِرتی ہیں تمنّائی کی
میں نے غم، غم نے مِرے ساتھ شناسائی کی
’’ قافلے نے سُوئے طیبہ کمر آرائی کی‘‘
’’مشکل آسان الٰہی مِری تنہائی کی‘‘
ہے غم سے دل فگار غزل کس طرح کہوں
آنکھیں ہیں اشکبار، غزل کس طرح کہوں
گھیرے ہوئے ہیں موت کی پرچھائیاں مجھے
ہوں زندگی پہ بارِ، غزل کس طرح کہوں
آ، شاہدِ بہارِ وفا، جانِ زندگی
دامن ہے تار تار، غزل کس طرح کہوں
دعائیں مانگنے والوں کا انتشار ہے کیا
یہ ماہ و سال کا اڑتا ہوا غبار ہے کیا
کوئی سبب ہے کہ یا رب سکون ہے اتنا
مجھے خبر ہی نہیں ہے کہ انتظار ہے کیا
اگر ہو دور تو قائم ہے دید کا رشتہ
اگر قریب ہو منظر تو اختیار ہے کیا
کوئی خوشی نہ کوئی غم ہے کیا کیا جائے
بڑا عجیب سا عالم ہے کیا کیا جائے
ذرا سکوں ہو میسر تو کوئی بات بنے
یہاں تو گردش پیہم ہے کیا کیا جائے
کہیں سے چیخ بھی اٹھی تو رہ گئی دب کر
کہ گھنگھرؤں کی چھما چھم ہے کیا کیا جائے
خراب حال وفا کو رلائے جاتے ہیں
نظر چرائے ہوئے مسکرائے جاتے ہیں
وفا شعار سہی غیر مجھ سے کیوں کہیے
یہ روز کس لیے قصے سنائے جاتے ہیں
وفا کی قدر تری انجمن میں کیوں ہوتی
فریب غیر کے نقشے جمائے جاتے ہیں
جاگتے جاگتے عمر بسر ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے
پل میں شب فرقت کی سحر ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے
جن لوگوں نے جان کے میرا گھر کچھ پتھر پھینکیں ہیں
وہ ان کا اپنا ہی گھر ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے
آج تو بس پتھر ہی پتھر اپنے سرہانے ہیں لیکن
کل ان کی آغوش میں سر ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
بے سبب لرزے میں کب شہرِ مدینہ آیا
زخم ایسا تھا کہ برچھی کو پسینہ آیا
کیا پشیمانی سہی پانی پہ قبضہ کر کے
ہاتھ میں تیرے نہ ساحل نہ سفینہ آیا
کیوں نہیں سینے پہ وہ سرخ نشاں کھینچتا ہے
جس کی قسمت میں محرم کا مہینہ آیا
دل بے تاب کا آنا ستم ہے
تڑپ کر پھر مچل جانا ستم ہے
مجھے سمجھا رہی ہے غیرت دل
وفا سے تیرا پھر جانا ستم ہے
وہ رہ کر چٹکیاں لیتے ہیں کیا کیا
ستم ہے دل میں بھی آنا ستم ہے
ہم اپنی محبت کا تماشا نہیں کرتے
کرتے ہیں اگر کچھ تو دکھاوا نہیں کرتے
یہ سچ ہے کہ دنیا کی روش ٹھیک نہیں ہے
کچھ ہم بھی تو دنیا کو گوارا نہیں کرتے
اک بار تو مہمان بنیں گھر پہ ہمارے
یہ ان سے گزارش ہے تقاضا نہیں کرتے
میں ہوں فلک کا مسافر سفر میں سورج ہے
قدم قدم پہ مری رہگزر میں سورج ہے
تمام چہرے جہاں میں اسی کے مظہر ہیں
گزرتے وقت کی شام ع سحر میں سورج ہے
ہے فکر و فہم میں اک آسماں اجالوں کا
حصارِ شب میں ہوں لیکن نظر میں سورج ہے
کس کو سنائیں اور کہیں کیا کسی سے ہم
سب کچھ لٹا کے بیٹھ گئے ہیں ابھی سے ہم
اپنی ہی کچھ خبر ہے نہ دنیا سے واسطہ
رہتے ہیں سب کے ساتھ مگر اجنبی سے ہم
یوں تو چراغ ہم نے بہت سے جلائے تھے
محروم پھر بھی رہتے رہے روشنی سے ہم
تبسم لب پہ آنکھوں میں محبت کی کہانی ہے
تمہاری ہر ادا میں اک نشاط کامرانی ہے
بہت ہی مختصر اپنی حدیث زندگانی ہے
ترے عارض کے جلوے ہیں مرا خواب جوانی ہے
اسی ساغر میں ساقی دیکھ آب زندگانی ہے
کہ موج مے میں پنہاں راز عمر جاودانی ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
یہ پلتا جا رہا ہے اعتماد سینے میں
پہنچ ہی جاؤں گا میں خیر سے مدینے میں
کبھی تو سانس معطر مدینے میں ہو گی
کبھی تو جان پڑے گی ہمارے جینے میں
وہ دیں گے گنبد خضرا کا عکس آنکھوں کو
وہ بدلیں گے مرے کنکر کبھی نگینے میں
بے حجابانہ کبھی دعوت دیدار بھی دے
لذت عشق بھی دے عشق کا آزار بھی دے
مسند علم و ادب پر متمکن فرما
نغمہ و شعر بھی دے خامۂ گلکار بھی دے
طاق ہر بزم میں رکھ شمع بنا کر مجھ کو
اور پروانہ صفت لذت آزار بھی دے
اسی کو حق ہے تمنائے لطف یار کرے
جو آپ اپنی محبت پہ اعتبار کرے
بہت بجا یہ ترا مشورہ ہے اے واعظ
بھری بہار میں پرہیز بادہ خوار کرے
فسردگی سے بدل دے شگفتگی دل کی
جو چاہے ایک اشارے میں چشمِ یار کرے
جو مجھ پہ قرض ہے واجب اسے اتار نہ لوں
ملے خوشی بھی جو کوئی تو مستعار نہ لوں
یہ مجھ سے ہو نہیں سکتا کڑی مسافت میں
ہو سر میں شوق مگر خوفِ ریگزار نہ لوں
غنیمِ شہر کی سازش ہے مُنکشف مجھ پر
مصالحت کا اب احسان بار بار نہ لوں
عشق میں ڈوبا تو پھر میں نہ دوبارہ نکلا
یہ وہ دریا تھا کہ جس کا نہ کنارہ نکلا
اک فقط تجھ سے ہی امید فراموشی تھی
تجھ سے اے دل نہ مگر کام ہمارا نکلا
جان و دل پہ مرے بن آئی ہے اس الفت میں
عشق کے سودے میں کیوں اتنا خسارہ نکلا
خیال پرسش فردا سے گھبرانا نہیں آتا
گنہ کرتا ہوں لیکن مجھ کو پچھتانا نہیں آتا
یقین دعویٔ الفت نہیں مانا نہیں آتا
مگر یہ بھی تو ہے جھوٹوں کو جھٹلانا نہیں آتا
طبیعت ہے غیور ایسی کہ تشنہ کام رہتا ہوں
لگی لپٹی کسی کی سن کے پی جانا نہیں آتا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
قلبِ مضطر کو ملے چین اے شاہِ کونین
ہو کرم صدقۂ سبطین اے شاہِ کونینﷺ
میرا ہر دن بھی گزرتا ہے تری یادوں میں
ہجر میں روتی ہے ہر رین اے شاہِ کونین
مانگتے رہتے ہیں نظارہ طیبہ ہر دم
میرے یہ ترسے ہوئے نین اے شاہِ کونین
جنت آباد کو ویران کرتے جائیں گے
گلستاں کو پاسباں شمشان کرتے جائیں گے
خانۂ جنت میں آدم زاد کا مسکن نہ ہو
اس غرض سے خود کو وہ شیطان کرتے جائیں گے
تم لگا کر آگ گلشن کو بھلے کر دو تباہ
ہم تو آتشدان کو گلدان کرتے جائیں گے
کوئی استخارہ اشارہ نہیں ہے
مِرے زخم کا کوئی چارہ نہیں ہے
تمہارے مطابق نہیں چل سکے گا
یہ دل ہے ہمارا تمہارا نہیں ہے
یوں دیکھیں تو میرا سبھی کچھ لٹا ہے
مجھے اک طرح سے خسارا نہیں ہے
طور پر کہیے تو کیا آپ نے موسیٰ دیکھا
حسن کو پردے میں دیکھا کہ بے پردہ دیکھا
زیرِ خنجر بھی زباں پر ہے مِری نام تِرا
دیکھا اک دوست کا اے دوست! کلیجہ دیکھا
دکھ میں نیند آئی مجھے بھی تو خضرا کی قسم
خواب میں میں نے سدا ایک ہی مکھڑا دیکھا
یہ دوڑ دھوپ بہ ہر صبح و شام کس کے لیے
بس ایک نام کی خاطر یہ نام کس کے لیے
مِرا وجود بصد اہتمام کس کے لیے
تمام عمر جلا صبح و شام کس کے لیے
یہاں تو کوئی نہیں اونگھتے دیوں کے سوا
بھرا ہے تم نے محبت کا جام کس کے لیے
بام و در یاد نہیں راہگزر یاد نہیں
ایسے اجڑے ہیں کہ رودادِ سفر یاد نہیں
کس نے دیکھا تھا تباہی کا وہ منظر کیا تھا
جلتی شاخوں پہ پرندوں کی نظر یاد نہیں
ہم تمنا کے طلسمات میں الجھے ہوئے لوگ
ایسے بھٹکے ہیں ہمیں اپنا ہی گھر یاد نہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
بہار لطف نظارے جھلک، جھلک اس کی
جہانِ رنگ میں ساری دھنک، دھنک اس کی
کنول، گلاب، چنبیلی یہ رات کی رانی
چمن کے سارے گلوں کی مہک، مہک اس کی
یہ آفتاب، قمر اور برق برق سحاب
یہ جھلملاتے ستارے چمک، دمک اس کی
خاموشی شور کرتی ہے
کبھی بیلے کی ان بیلوں کو چھوؤ تو
جو ان دیکھی مسافت کے جزیروں پر
تمہارے نام کی دنیاؤں کو آباد کرتی ہیں
سخن ایجاد کرتی ہیں
سرِ شب رقص کرتی جھلملاتی چاندنی
اور آنکھ کی یہ پُتلیاں دیکھو
لطف غیروں پہ عام ہوتے ہیں
ظلم ہم پر تمام ہوتے ہیں
یار ہونے کو عام ہوتے ہیں
نفس کے سب غلام ہوتے ہیں
زندگی سے جو پیار کرتے ہیں
موت سے ہمکلام ہوتے ہیں
یہ مصلحت اندیش کرم یاد رہے گا
ساقی تری نظروں کا بھرم یاد رہے گا
غم یاد رہے گا نہ الم یاد رہے گا
اک حاصل غم ربط بہم یاد رہے گا
بتخانے کی عظمت کا پتہ جس سے ملا ہے
وہ حادثۂ دیر و حرم یاد رہے گا
گماں مجھ کو تھا انساں ہو گیا ہوں
خبر کیا تھی میں شیطاں ہو گیا ہوں
ہوا کچھ اس طرح کی چل رہی ہے
بہت اندر سے ویراں ہو گیا ہوں
اچانک دوست ہندو ہو گئے ہیں
اچانک میں مسلماں ہو گیا ہوں
جس کو سمجھ رہے تھے مِرے یار، وہ نہیں
ہے اور کوئی راہ کی دیوار، وہ نہیں
ہے آنکھ جس کی طالبِ دیدار، وہ نہیں
اچھا تو ہے مگر مجھے درکار وہ نہیں
یہ دل ہوا ہے جس کا گرفتار، وہ نہیں
سب سے حسیں وہی سہی دلدار وہ نہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
دل درد سے بسمل کی طرح لوٹ رہا ہو
سینے پہ تسلی کو ترا ہاتھ دھرا ہو
گر وقت اجل سر تری چوکھٹ پہ جھکا ہو
جتنی ہو قضا ایک ہی سجدے میں ادا ہو
دیکھا انہیں محشر میں تو رحمت نے پکارا
آزاد ہے جو آپﷺ کے دامن سے بندھا ہو
بعض اوقات تو اِک لمحے میں بھر جاتا ہے
غم کا آنسو ہر تکیے میں بھر جاتا ہے
پربت کو آواز لگا کر سو جاتی ہوں
دریا آ کر مشکیزے میں بھر جاتا ہے
پیاس ہماری پانی دیکھ کے بجھ جاتی ہے
شِکم بھی پہلے ہی لقمے میں بھر جاتا ہے
یاد ہے اب تک یاد وہ عالم
مل گئیں نظریں ایک دن باہم
بن گئے ہم خود عشق مجسم
پھر بھی مزاجِ حُسن ہے برہم
مے خانے کا اف یہ عالم
جام و سبو ہیں درہم برہم
کس سلیقے سے دل جلاتا ہے
جو بھی کہتا ہوں مان جاتا ہے
جب اٹھاتا ہوں بزم دل سے اسے
آ کے آنکھوں میں بیٹھ جاتا ہے
جان کر میں سدا نہیں دیتا
عادتاً دل اسے بلاتا ہے
تیرا سلوک مجھ سے ہے اغیار کی طرح
آنکھوں میں جو کھٹکتا ہوں میں خار کی طرح
مبہم ہر ایک بات صنم کی لگے مجھے
اقرار بھی لگے مجھے انکار کی طرح
شطرنج جیسی مجھ کو لگے ہے یہ زندگی
چلنا ہر ایک چال سمجھدار کی طرح
تم نے سچائی کو دکھلا دیا جھوٹا کر کے
تم کو پہچان گئے تم پہ بھروسہ کر کے
ہم کو معلوم ہے کیا ہوتی ہے سورج کی تپش
ہم جھلستے رہے اوروں پہ بھروسہ کر کے
اپنی کوشش سے، پسینہ سے، لہو سے اک دن
ہم چلیں جائیں گے ہموار یہ رستہ کر کے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
سرورِ ابرارﷺ پر لاکھوں سلام
احمدِﷺ مختار پر لاکھوں سلام
گیسوئے واللیل پر تاباں درودﷺ
والضحیٰ رخسار پر لاکھوں سلام
ان کے اہلِ بیت پر اطہر درودﷺ
حرمت اطہار پر لاکھوں سلام
اب دعا بھول گئی اپنا اثر لوٹ چلیں
وہ نہ آیا ہے نہ آئے گا سحر لوٹ چلیں
ہم پہ کیا بیت گئی رات کے ڈھلتے ڈھلتے
کون لیتا ہے یہاں اپنی خبر لوٹ چلیں
کیسا ویران نگر ہے کہ مکانوں میں یہاں
کوئی زنجیر، نہ دیوار، نہ در لوٹ چلیں
دریا پہ بارشوں کا اثر کُچھ نہیں ہوا
مجھ پر بھی سازشوں کا اثر کچھ نہیں ہوا
دُنیا نے کوششیں تو بہت کیں مگر جناب
ان پر سفارشوں کا اثر کچھ نہیں ہوا
دل چِیر کر بھی میں نے دِکھایا اسے مگر
ظالم پہ خواہشوں کا اثر کچھ نہیں ہوا
نہ پوچھو کیسے شب انتظار گزری ہے
بھلا ہو دل کا بہت بے قرار گزری ہے
ہزار مصلحتیں جس میں کار فرما ہوں
وہ اک نگاہ کرم ہم پہ بار گزری ہے
ہے اصطلاح محبت میں جس کا نام جنوں
وہ ایک رسم بڑی پائیدار گزری ہے
کسی صورت لب و لہجہ کی ویرانی نہیں جاتی
غزل سے زندگی کی مرثیہ خوانی نہیں جاتی
ہمارے گھر سے رخصت ہو گئی اجداد کی شوکت
ہماری گُفتگو سے بُوئے سُلطانی نہیں جاتی
صدائیں دے رہی ہیں دیر سے خُوش بختیاں لیکن
نکل کر خواب گاہوں سے تن آسانی نہیں جاتی
چار سو شہر میں مقتل کا سماں ہے اب کے
اپنے سائے پہ بھی قاتل کا گماں ہے اب کے
جو کبھی شہر میں خورشید بکف بھرتا تھا
کوئی بتلائے کہ وہ شخص کہاں ہے اب کے
کہکشاں لفظوں کی ہونٹوں پہ بکھرنے دیجے
دور تک ذہن کی گلیوں میں دھواں ہے اب کے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تا ابد اہلِ نظر کے واسطے تشہیر ہے
آیتِ تطہیر کی منہ بولتی تفسیر ہے
کربلا کے دشت میں پھیلی ہوئی تنویر ہے
سرخروئی بر زمین و آسماں تحریر ہے
عظمتِ خونِ شہیداں کی شفق تصویر ہے
سر کٹا کر جس نے بخشی بندگی کو زندگی
یہ مانا کچھ یہاں ضائع نہیں ہے
مگر وہ مسئلہ سلجھا نہیں ہے
بھلا کیسے محبت کر لیں جاناں
ہوا کیا زخم گر تازہ نہیں ہے
مِرے آنسو تمہارے دل کے بدلے
مِری جاں زندگی سودا نہیں ہے
عشق کام اپنا کر گیا شاید
مر رہا تھا تو مر گیا شاید
منتظِر اب بھی انتظار میں ہے
تھٙک کے وہ منتظر گیا شاید
صرف ویرانیاں ہیں، وحشت ہے
ہم سفر پیشتر گیا شاید
گنہگار شاعر کی بے گناہ نظمیں
کل میری دو نظمیں بازار گئیں
جو جڑواں بہنیں تھیں
مگر واپس نہیں لوٹیں
ان دنوں کرفیو کے باعث
کھلے عام گھومنا ممنوع تھا
لیکن میں نے دن کی رفتار سے تیز بھاگتے ہوئے
کس کو کس کا ساتھ نبھانا ہوتا ہے
وقت کی رو کا صرف بہانا ہوتا ہے
پہلے ایک تجسس بنتا ہے ہم کو
پھر حالات کا تانا بانا ہوتا ہے
میں بچوں کی باتیں غور سے سنتا ہوں
ان باتوں سے ذہن سیانا ہوتا ہے
اپنے گھر سے وطن سے وفا کیجیے
امن ہو قریہ قریہ دُعا کیجیے
جس سے مٹنے لگیں نفرتیں چار سُو
کام کوئی تو ایسا نیا کیجیے
پھول کلیاں سبھی مسکراتی رہیں
پیدا ایسی وطن میں فضا کیجیے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
محبت کی سعادت چاہتا ہوں
شہِ دیں کی اطاعت چاہتا ہوں
ہیں فتنے ہر طرف مولا کرم کر
میں ایماں کی حفاظت چاہتا ہوں
طفیلِ حضرت صدیق اکبرؓ
میں باتوں میں صداقت چاہتا ہوں
ہمارے درمیاں جو فاصلہ ہے
محض کچھ رنگ و بو کا مسئلہ ہے
بڑی تنہائیاں ہیں ذہن میں اب
ہمارے ساتھ میں اک قافلہ ہے
میں ہر منظر میں شامل ہو رہی ہوں
مِرا خود سے نہ کوئی سلسلہ ہے
حسن کو آرائشوں کا جب ہنر بھی دے دیا
دینے والے نے ہمیں ذوقِ نظر بھی دے دیا
حد تو یہ ہے بخش دی اس کو متاعِ شب تمام
روشنی کے واسطے نورِ سحر بھی دے دیا
ششدر و حیراں فلک ہے قتل بھی خود ہی کیا
قتل کا الزام مقتولوں کے سر بھی دے دیا
وقت کی ریت
وقت کی ریت جب آنکھ میں چُبھتی ہے
تو محسوس ہوتا ہے
بُدھا تو سچ کہتا تھا
میرے ہونے کا احساس
سردی میں کپکپاتا ہے
رات کی آنکھوں سے خُون کے قطرے
راہ گم کردہ کو منزل کا پتا دے شاہا
میری بگڑی ہوئی تقدیر بنا دے شاہا
جانے انجانے میں جو جرم ہوئے ہیں مجھ سے
میرے ان جرموں کی فہرست جلا دے شاہا
ریگِ صحرا کی طرح دل یہ مِرا سوزاں ہے
اپنے دامن کی اسے ٹھنڈی ہوا دے شاہا
نہ میں رہا، نہ رہا وقت کا نشاں کوئی
وجود اوڑھ کے بیٹھا رہا گماں کوئی
میں دیکھتا ہی رہا دیکھنے کے ٹوٹنے کو
نہ آنکھ باقی رہی، اور نہ ہی جہاں کوئی
دھمال جاری ہے درگاہ پر ملنگوں کی
خدا کا بندہ ہے بندوں پہ مہرباں کوئی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
پہلے ثنائے خالق کون و مکاں کرو
پھر وجہِ کائناتﷺ کی مدحت بیاں کرو
اصحاب مصطفٰیﷺ کا کرو دل سے احترام
آلؑ نبیﷺ کی یاد سے دل ضوفشاں کرو
گر چاہتے ہو زیست گزر جائے چین سے
پہلے درود پاکﷺ کو وِرد زباں کرو
حیات شمع کی صورت پگھلتی جاتی ہے
شبیں گزرتی ہیں اور عمر ڈھلتی جاتی ہے
ابھی تو ہجر کا یہ پہلا سنگِ میل ہوا
یہ رہگزر تو بہت دور چلتی جاتی ہے
ان آندھیوں میں سلامت نہیں کسی کا چراغ
اک اپنی شمعِ وفا ہے کہ جلتی جاتی ہے
یہ کیسے غم نکھارا جا رہا ہے
فقط اب دن گزارا جا رہا ہے
بڑا ہی پیار کرتے ہیں وہ مجھ سے
بدن یہ کہہ سنوارا جا رہا ہے
ذرا سا کانپ اٹھے ٹھہرے پربت
یہ کس کو یوں پکارا جا رہا ہے
برق رفتار وہ یوں جان جہاں ملتے ہیں
ہم جہاں ہوتے ہیں وہ ہم کو وہاں ملتے ہیں
غم کے مارے تو ملا کرتے ہیں ہم کو اکثر
آج کے دور میں غمخوار کہاں ملتے ہیں
جو کہ ہوتے ہیں بہت مہر و محبت والے
ایسے احباب زمانے میں کہاں ملتے ہیں
مایوس ہو گئے ہیں وہ ان کے جواب سے
دنیا تو چل رہی ہے بس اپنے حساب سے
وہ بے نیاز پھر بھی مخاطب نہیں ہوا
ہم نے اسے پکارا ہے کس کس خطاب سے
خود بے نقاب ہو کے سرِ بزم آ گئے
سب کو یہی امید تھی اک بے حجاب سے
ابھی نہ چھیڑ مرے دل کے تار رہنے دے
ابھی سکوں سے غم ہجر یار رہنے دے
غلط ہے جھوٹ ہے الزام ہے یہ تہمت ہے
نہ بے وفا مجھے کہہ کر پکار رہنے دے
جدا نہ ہو گی مرے دل سے یاد اب اس کی
مٹے گا دل سے نہ غم غمگسار رہنے دے
منظر کا احسان اتارا جا سکتا ہے
آنکھ کو یارا بھوکا مارا جا سکتا ہے
آنگن آنگن آگ اگائی جا سکتی ہے
کمروں میں دریا کا کنارا جا سکتا ہے
کرچی کرچی خواب چمکتا ہے آنکھوں میں
ان سے اب دنیا کو سنوارا جا سکتا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تیرے فراق کے اس میں ہیں رنج و غم مخصوص
"ہے تیرے جلووں کو یہ میری چشم نم مخصوص"
نبیﷺ کے عشق میں سب کچھ ہمیں گوارا ہے
ہمارے واسطے جاناں کے درد و غم مخصوص
میرے نصیب میں لکھدو فقط ثنا خوانی
تمہاری نعت کی خاطر رہے قلم مخصوص
ہو تعظیم ہر ایک ہی بات کی
ہے مشکل بہت یہ روایات کی
یہ بھی بات جذبات کی ہے مِرے
کرے بات کوئی نہ جذبات کی
زمانے کے رنج و الم سے پرے
حسیں اک ہے دنیا خیالات کی
کیا دے گئی فریب کسی کی نظر مجھے
دنیا کا ہوش ہے نہ کچھ اپنی خبر مجھے
جینے کی آرزو ہے نہ مرنے کی آرزو
ایسا دیا ہے عشق نے اک درد سر مجھے
موسیٰ گئے تھے طور پہ جلوے کو دیکھنے
آتا ہے چار سو تِرا جلوہ نظر مجھے
دیر و حرم کے آخری درباں کی طرح ہوں
مندر میں تیرے آخری بھگواں کی طرح ہوں
گر میں نہ ہوں تو چاندنی بھی منعکس نہ ہو
اے چاند تیرے عکس فراواں کی طرح ہوں
میں چاہتوں کے کھیل میں لُٹتا ہوں بار بار
بازارِ عشق میں نرے نقصان کی طرح ہوں
مرے خلاف زباں اپنی کھولنے والے
عجیب لوگ ہیں رازوں کو ڈھونڈنے والے
شکم میں بغض رکھیں اور آنکھ کا روزہ
سماعتوں میں سبھی شہد گھولنے والے
تمہیں خبر ہی نہیں ہے عذابِ قوم شعیب
عقیدتوں کو ترازو میں تولنے والے
کچھ تو ہونا چاہیے جو سلسلہ جاری رہے
اک لمحہ زندگی کا ہم پہ کیوں بھاری رہے
آپ نے جب بھی بلایا ہم نے باتیں مان لیں
کیا برا ہے ایک دن تو آپ کی باری رہے
بن گئے محکوم ہم، ہم کو ہے بس ماننا
کام ہے یہ آپ کا فرمان اب جاری رہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
زیرِ سایۂ گنبد رات کا بسیرا ہے
اور سنہری جالی سے رونما سویرا ہے
جا بجا مدینے میں حاجیوں کا ڈیرا ہے
مصطفٰیؐ کے کوچے میں سائلوں کا پھیرا ہے
رات بھی مدینے کی کتنی خلد منظر ہے
اک ذرا اُجالا ہے، اک ذرا اندھیرا ہے
خود کے سائے سے بھی حیران نظر آتا ہے
اپنے گھر میں بھی وہ مہمان نظر آتا ہے
کس کا چہرہ ہے جو بے ساختہ ہوتا ہے عیاں
خواب بھی آنکھ میں حیران نظر آتا ہے
اس نے بھی کوئی خبر گھر کے اجڑنے کہ نہ لی
جس کی چھت سے مرا دالان نظر آتا ہے
سکھائے پر ترے کیونکر چلیں گے
خود اپنی چال ہم بہتر چلیں گے
اگر چلنا ہی ہے ہم کو جہاں میں
تو ہم سب سے ذرا ہٹ کر چلیں گے
سفر میں لے چلیں گے گھر کو اپنے
یہ در دیوار اور بستر چلیں گے
ایک خدا پر تکیہ کر کے بیٹھ گئے ہیں
دیکھو ہم بھی کیا کیا کر کے بیٹھ گئے ہیں
پوچھ رہے ہیں لوگ ارے وہ شخص کہاں ہے
جانے کون تماشا کر کے بیٹھ گئے ہیں
اترے تھے میدان میں سب کچھ ٹھیک کریں گے
سب کچھ الٹا سیدھا کر کے بیٹھ گئے ہیں
رشتے بنے ہوئے ہیں سبھی کے سبھی کے ساتھ
وابستگی نہیں ہے کسی کی کسی کے ساتھ
ٹوٹا ہے اک ستارہ ابھی آسمان سے
پھر بیوفائی کی ہے کسی نے کسی کے ساتھ
روشن گھروں میں بانٹ دی پھر روشنی تمام
انصاف یہ ہوا ہے مری تیرگی کے ساتھ
ہے کہاں کون ہے کیسا وہ نظر آتا ہے
خود میں کم مجھ میں زیادہ وہ نظر آتا ہے
کیا تعلق ہے مرا اس سے بتاؤں کیسے
ہر دعا میں مجھے چہرہ وہ نظر آتا ہے
تشنگی جب مجھے دیدار کی تڑپائے تو
ایسے حالات میں دریا وہ نظر آتا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
سورۂ فاتحہ کا منظوم ترجمہ
ہے تعریف ساری خدا کے لیے
جو کُن کہہ دے اور ساری دنیا بنے
وہی رب تو سارے جہانوں کا ہے
مکانوں کا ہے، لا مکانوں کا ہے
رحیم اور رحمٰن بھی اس کے نام
چلائے وہی سارے جگ کا نظام
اب کی بیزار ہی لوٹ آئے ہیں گلزاروں سے
رنگ ہی لے گیا کوئی میرے نظاروں سے
اب یہ عالم ہے سناتے ہوئے ڈرتے ہیں نوید
بانٹ لیتے تھے کبھی درد بھی ہم یاروں سے
خود کو پھر کس لیے بتلایا تھا چارہ فرما
اتنا پرہیز اگر تھا تجھے بیماروں سے
باز آئے اس مذاقِ غمِ عاشقی سے ہم
خوش ہم سے زندگی ہے نہ خوش زندگی سے ہم
کچھ اس ادا سے ہو گئی بے گانہ وہ نظر
شکوہ بھی کر سکے نہ کسی کا کسی سے ہم
یہ شانِ دلبری ہے کہ اندازِ احتیاط
گویا نگاہِ حُسن میں ہیں اجنبی سے ہم
راس آئی جب تلک مجھ کو نہ شدت دھوپ کی
میرے دل میں برف صورت تھی محبت دھوپ کی
مجھ کو تو صحرا کے سینے پر اتارا ابر نے
کس لیے مجھ کو پڑی تھی پھر ضرورت دھوپ کی
شام کے سائے نے پر کھولے تو ظلمت چھا گئی
بعد مدت کے نظر آئی تھی صورت دھوپ کی
کیا پوچھتے ہو رنج والم اور طرح کے
یعنی رہے بھرتے وہ دم اور طرح کے
جاتے ہوئے مشکل تھا مسرت میں سنبھلنا
تھے واپسی پہ اپنے قدم اور طرح کے
دنیا سے جسے مطلب تکلیف جدا اس کی
دل والوں کے بس ہوتے ہیں غم اور طرح کے
دل کے نزدیک سے گزرو تو بتا کر جانا
یہ بھی چاہت کی ہے اک رسم نبھا کر جانا
تم مجھے چھوڑ کے جاتے ہو تو جاؤ لیکن
اپنے بھیجے ہوئے خط سارے جلا کر جانا
کیا بتاؤں گا جدائی کا سبب لوگوں کو
جو حقیقت ہے زمانہ کو بتا کر جانا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
قرطاس پر نہ چھوڑ کتابت درود کی
مہمل نہ لکھ قلم سے عبارت درود کی
کرتی ہیں مکھیاں بھی تلاوت درود کی
جو شہد میں ہے ساری حلاوت درود کی
قراٰن نے کہا ہے شفا، کیوں شفا نہ ہو
پھولوں کے اس عرق میں ہے حکمت درود کی
میں اکثر بھول جاتی ہوں
تمہی کو بھول جانا ہے
یہ بارش ہے
اور یہ موسم کی بہاریں
تمہاری یاد دلاتی ہیں
تمہیں یاد کرنے کو
آئین و عدل و منصفِ دوراں فریب ہے
مجرم اگر خواص ہوں زنداں فریب ہے
ظلمت بھی ہے رئیس کی کوٹھی میں پُرفریب
مفلس کے گھر میں ہے جو چراغاں فریب ہے
وہ میری خستگی پہ ہے مسرور ان دنوں
چہرے پہ نقش حسرت و حرماں فریب ہے
ہجر کی رات ہے ویرانہ ہے تنہائی ہے
دل لگانے کی عجب ہم نے سزا پائی ہے
اک نئے عزم نئے جوش کو دیکھا ہم نے
تیرے عاشق میں نئی بات نظر آئی ہے
مل کے ہاتھوں پہ میرا خونِ جگر کہنے لگے
رنگ کیسا مرے ہاتھوں پہ حنا لائی ہے
خطا بھی مجھ سے ہوئی ہے لہو لہو میں ہوں
سزا بھی خود کو ہی دے دے کے سرخرو میں ہوں
اسے یہ فخر کہ بدنام کر دیا مجھ کو
مجھے یہ ناز کہ موضوعِ گفتگو میں ہوں
کبھی کبھی مجھے ایسا گمان ہوتا ہے
وہ میرے سامنے ہے اس کے روبرو میں ہوں
سبک مجھ کو محبت میں یہ کج افتاد کرتا ہے
جو میں ہرگز نہ کرتا وہ مرا ہمزاد کرتا ہے
بکھر کر بھی اسی کو ڈھونڈتی ہیں ہر طرف آنکھیں
جو مجھ کو اک نگہ میں اک سے لاتعداد کرتا ہے
ہوئی ہیں شور دل میں غرق تعبیریں صداؤں کی
مگر اتنی خبر ہے کوئی کچھ ارشاد کرتا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
باغ کے نو نہال پودوں سے
رونق گلستاں پرندوں سے
ذکر اس کا رہے گا کہ زندہ
عشق کا نام اس کے بندوں سے
رو چکے خوب مرنے والوں کو
اب گلے بڑھ چکے ہیں زندوں سے
میری آنکھوں میں جھانکتے جائیں
خُود کو سُولی پہ ٹانکتے جائیں
میرے جیسے قریب آئیں تو
آپ جیسے تو ہانپتے جائیں
میری مرضی دھیان دوں، نہ دوں
آپ چُپ چاپ ناچتے جائیں
یاد آئے ہے بے شمار کوئی
کیوں نہ جائے بھی کوئے یار کوئی
اعتبار اس پہ پھر کِیا میں نے
ہے نہیں جس کا اعتبار کوئی
لاکھ ناصح ہیں آس پاس مِرے
کاش ہو جاتا غمگسار کوئی
ادائے خاص سے مسکرا دیا تو نے
مری حیات کو نغمہ بنا دیا تُو نے
گرا کے برقِ تبسم مِرے دل پر
اک ارتعاشِ مجسم بنا دیا تُو نے
ذرا سا جلوۂ رنگیں کا عکس دکھلا کر
کلی کلی کو گلستاں بنا دیا تُو نے
درمیاں آ رہی ہے نفرت کیوں
جب گلے مل گئے شکایت کیوں
آدمی تم بھی آدمی ہم بھی
پھر ہوئی ختم آدمیت کیوں
ہو گیا عشق آپ کو شاید
عمر اس میں نئی مصیبت کیوں
زندگی کو اڑان میں رکھنا
خواہ کچے مکان میں رکھنا
اپنی منزل دھیان میں رکھنا
اِک توازن اُڑان میں رکھنا
جس میں رقصاں ہوں سوچ کے جگنو
وہ خلا داستان میں رکھنا
ہمیشہ ورغلاتے ہو خدا غارت کرے تم کو
ہمارا دل دکھاتے ہو خدا غارت کرے تم کو
یہ کیا طرز محبت ہے مرادیں غیر کو لیکن
ہمیں الو بناتے ہو خدا غارت کرے تم کو
عدو کو پیش کرتے ہو شراب انگبیں جانم
ہمیں تلچھٹ پلاتے ہو خدا غارت کرے تم کو
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کیسے کر پائے کوئی، منظر کشی معراج کی
عقل کی حد میں نہیں، جلوہ گری معراج کی
میرِ محفل رب تھا اور شاہِؐ دنیٰ اُس کا چراغ
لا مکاں میں انجمن ایسی سجی معراج کی
عشق سے دیکھو تو ایمانی نظر ہو جائے تیز
پڑھ رہی ہے ہر جھلک نعتِ نبیؐ معراج کی
بعد تمہارے کوئی ہمدم کیا ہو گا
مرہم کے ماروں کا مرہم کیا ہو گا
ممکن ہے یہ مجھ کو پاگل بھی کر دے
عشق کا غم ہے اس سے تو کم کیا ہو گا
مُفلس کیا ہیں چلتے پھرتے مُردے ہیں
مُردوں کے مرنے کا ماتم کیا ہو گا
یوں بسایا گیا زمینوں کو
گھر سے بے گھر کیا مکینوں کو
ہاتھ چھوڑ آئے کام کے بدلے
سُکھ مِلا تنگ آستینوں کو
میری عینک سے پڑھ سکو تو پڑھو
دُھول چاٹی ہوئی جبینوں کو
اس تماشائے سرِ عام سے پہلے پہلے
اِذنِ کہرام ہوا بام سے پہلے پہلے
مقتلِ خواب سے اک خاص خبر آئی ہے
آج سو جائیں گے ہم شام سے پہلے پہلے
شکل پیاسوں کی چلو یاد کرو یاد کرو
ہاں ابھی اور اسی جام سے پہلے پہلے
وعدوں سے ہمیں بہلایا گیا
دامن میں نہ کچھ بھی آیا گیا
مانے گا وہاں کون اپنی بات
نبیوں کو جہاں جھٹلایا گیا
بے گھر ہوئے جھنڈ پرندوں کے
جب پیڑوں کو جھلسایا گیا
محبت کا قرینا آ گیا ہے
ہمیں مر مر کے جینا آ گیا ہے
بہ فیض غم ہم اہل دل کے ہاتھوں
دو عالم کا خزینہ آ گیا ہے
تری شادابیوں کا ذکر سن کر
گلوں کو بھی پسینہ آ گیا ہے
تیری سوچ کے عین منافی ہو سکتی ہے
ایک محبت کیسے کافی ہو سکتی ہے
ہجر ملے تو حسن کا چہرہ جل سکتا ہے
پیار ملے تو لڑکی پیاری ہو سکتی ہے
غم کا سورج دیر تلک نہ رکھنا سر پر
زیادہ دھوپ میں رنگت کالی ہو سکتی ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
زمیں کی گود میں ڈالی امانتیں کیا کیا
حسینؑ لائے وفا کی شہادتیں کیا کیا
وہ بات خون سے لکھی نئے حوالوں سے
ابھر کے سامنے آئیں علامتیں کیا کیا
کہیں پہ پرتوِ حیدرؑ، کہیں پہ شکلِ نبیٌ
دکھائی دیتی ہیں صحرا میں صورتیں کیا کیا
دل کہاں ہر کسی سے ملتا ہے
یہ تو بس آپ ہی سے ملتا ہے
تم نہ آئے تو ہم چلے آئے
کیا سمندر ندی سے ملتا ہے
تجربہ جو کبھی بیاں نہ ہوا
آخر زندگی سے ملتا ہے
کیوں تم سے علاج دل شیدا نہیں ہوتا
کیا درد محبت کا مداوا نہیں ہوتا
طوفان بلا خیز ہے ہر اشک محبت
کیوں کر کہیں قطرہ کبھی دریا نہیں ہوتا
ملتا ہی نہیں ساغر مے بادہ کشوں کو
جب تک تِری آنکھوں کا اشارا نہیں ہوتا
اٹھ جائے درمیاں سے جو پردہ حجاب کا
پڑھ لوں کتاب حسن سے مضمون خواب کا
اپنی نظر بھی ڈال دے ساقی شراب میں
دیکھے کوئی تو اس کو ہو دھوکا گلاب کا
ظاہر پہ کر نقاب تو باطن پہ کر نظر
مطلوب ہے نظارا جو اس بے نقاب کا
ضبط فغاں سے آ گئی ہونٹوں پہ جاں تلک
دیکھو گے میرے صبر کی طاقت کہاں تلک
غفلت شعارہا کے تغافل کہاں تلک
جیتا رہے گا کون تِرے امتحاں تلک
وہ میری آرزو تھی جو گھٹ گھٹ کے رہ گئی
وہ دل کی بات تھی جو نہ آئی زباں تلک
مِری جان خانہ بدوش کو وہ سکوں ملا تِرے شہر سے
کہ میں کوچ کرنے کے بعد بھی نہ بچھڑ سکا ترے شہر سے
میں سحاب بن کے ہواؤں میں تجھے ڈھونڈتا تھا فضاؤں میں
سو تِرے مکاں پہ برس پڑا جو گزر ہوا ترے شہر سے
تری رہگزر سے لگاؤ تھا، تِرے آستاں پہ پڑاؤ تھا
تِرا حکم تھا کہ سفر کروں سو میں چل پڑا ترے شہر سے
روشنی
سانحوں میں الٹی ہیں
بستیاں بھی اجڑی ہیں
لوگ بھول جاتے ہیں
سرکشی بلا کی ہے
رہبری قفس میں ہے
انبیاء کے قاتل لوگ
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اللہ نے جب پیکر آدمؑ کو بنایا
پھر نور نبوت سے اسے خوب سجایا
اور جملہ فرشتوں کو دیا حکم آؤ
اس نور کی تعظیم کرو، سر کو جھکاؤ
سنتے ہیں یہ فرمان مَلک جُھک گئے سارے
ابلیس بدستور رہا ایک کنارے
تیرے میرے خواب جُدا
خوابوں کے اسباب جدا
میرے دُشمن تیرے دوست
دونوں کے احباب جدا
تیرا میرا ساتھ ہے یوں
جُوں صحرا سے آب جدا
عشق پر وقت مُشکل پڑا ہے
عُمر چھوٹی ہے سپنا بڑا ہے
جان دے کر چُھڑا لوں گا اک دن
دل تِرے پاس گِروی پڑا ہے
عشق کی عُمر کیا پوچھتی ہو
عقل سے نو مہینے بڑا ہے
یہ دل کی بات ہے کس نے کہی ہے
محبت خود سراسر آگہی ہے
تمہیں کہہ دو کہ میں بالکل نہ سمجھا
نظر جھینپی ہوئی کچھ کہہ رہی ہے
یہ سر پر سایہ گستر خاک صحرا
جنوں بے تاج کی شاہنشہی ہے
اسلاف کا سرمایۂ فن چھوڑ چکے ہیں
جس پہ نہیں مُہر وہ دھن چھوڑ چکے ہیں
کب تک تجھے اوڑھے رہیں اے قدرِ زمانہ
ہم اپنا یہ بوسیدہ کفن چھوڑ چکے ہیں
صحرا میں کہیں تُو بھی ملا تھا یہ نہیں یاد
رستے میں کئی دشت و دمن چھوڑ چکے ہیں
ہمارے پر ہیں شکستہ اڑان باقی ہے
نیا ہے عزم سفر آن بان باقی ہے
تمہارا فیصلہ منظور ہو مجھے کیسے
ابھی تو ہونے کو میرا بیان باقی ہے
یہ کم نہیں کہ زمانے میں آج زندہ ہوں
کہ دو جہاں میں مرا مہربان باقی ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
رب نے مِرا نصیب سنوارا تو میں گیا
طیبہ کی سر زمیں نے پکارا تو میں گیا
صد شکر ہو گئی مِری اس در پہ حاضری
رب نے اثر دعا میں اُتارا تو میں گیا
گرد و نواح کا نہ مجھے ہوش تک رہا
دل نے نبی نبیﷺ جو پکارا تو میں گیا
پہلے تو چاک زخم جگر دیکھتے رہے
پھر دیکھنے والوں کی نظر دیکھتے رہے
تھمنے کہاں دیا تھا ہمیں خواہشات نے
رک رک کے بازوؤں کا ہنر دیکھتے رہے
لب پر کھلے ہوئے تھے تبسم کے پھول پر
جو خاک نظر تھے وہ شرر دیکھتے رہے
حضرتِ دل کا تِرے نام سے اٹھنا گرنا
وہی پہلے کی طرح شام سے اٹھنا گرنا
پھر چلے جائیں گے وہ پھر وہی فرقت ہو گی
کس لیے وصل کے ہنگام سے اٹھنا گرنا
کس کو فرصت ہے یہاں کون اذیت دے گا
وہ تو بس وحشت آلام سے اٹھنا گرنا
عمر گئی الفت زر جی سے الٰہی نہ گئی
مو سفید ہو گئے پر دل کی سیاسی نہ گئی
جی میں ٹھانا تھا کہ ہم ہجر میں جینے کے نہیں
مر گئے آہ یہ بات ہم سے نباہی نہ گئی
عمر گئی ہجر میں دل کرتا ہے مذکور وصال
بات اب تک یہی دیوانے کی واہی نہ گئی
کوئی چپ رہ کے بھی اظہار مکمل کر دے
کوئی جب چاہے مجھے بول کے پاگل کر دے
جب مرا دل ہو میں صحرا کی حمایت کر دوں
اگر اک بار زمانہ مجھے بادل کر دے
اب تو اندر کی خموشی سے بھی خوف آتا ہے
یہ کسی دن نہ اچانک مجھے جنگل کر دے
ہوا میں خوش بھی بہت تھا اسی مذاق سے میں
ہر اک پرندے سے ملتا رہا تپاک سے میں
ستارے مانگنے والو! ذرا سا حوصلہ بھی
فصیل پر ہی بنا دوں فلک کو چاک سے میں
مٹھاس جو ہے بہت ہے ہر ایک رشتے میں
یہ شہد اتار کے لاتا ہوں جیسے آک سے میں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
شبِ غم بھی آخر بسر ہو گئی
تڑپتے تڑپتے سحر ہو گئی
مدینہ کا دیدار مشکل نہیں
نگاہِ عنایت اگر ہو گئی
لیے قلبِ مضطر مدینہ میں پہنچا
تسلی زمیں چوم کر ہو گئی
میں نے جس روز تِری راہ سے ہٹ جانا ہے
تُو نے دنیا میرے قدموں سے لپٹ جانا ہے
مجھ کو لگتا ہے کہ رستے ہی یہاں منزل ہیں
ہر مسافر یونہی رستے سے پلٹ جانا ہے
کب تلک شہرِ تمنا میں بکھرنا ہے مجھے
آخر اک روز مجھے خود میں سمٹ جانا ہے
خول انساں نے سیاست کا چڑھا رکھا ہے
نقلی چہرے کو نقابوں میں چھپا رکھا ہے
آپ آ جائیں تو یہ بزم حسیں ہو جائے
آپ کی یاد سے محفل کو سجا رکھا ہے
ہم کو معلوم ہے دل جوئی کا انجام مگر
ہم نے دشمن کو کلیجے سے لگا رکھا ہے
کچھ زخم مِری روح کے گہرے بھی بہت ہیں
کچھ دل پہ تِری یاد کے پہرے بھی بہت ہیں
کچھ دب گئی مظلوم کی آہ ہنسی میں
کچھ لوگ مِرے شہر کے بہرے بھی بہت ہیں
بہہ جائیں گے برسات میں، یہ دیکھتے رہنا
پلکوں پہ تِری خواب سنہرے بھی بہت ہیں
لوگوں کے غم سنتے سنتے دل پتھر ہو جائے گا
ساری دنیا گھوم چکے ہیں جانے گھر کب آئے گا
دل کی بستی ایسی اجڑی خاک اڑے ہے یادوں کی
کب برکھا کی آمد ہو گی،۔ کب آنچل لہرائے گا
بات ہی سیدھی مان لو سادھو! بے دردوں کی نگری ہے
جو بھی من کی بات سنے گا یہاں وہ غم ہی پائے گا
اب ہر اک خیر میں موجود ہے شر کی صورت
باعث فخر ہوا عیب ہنر کی صورت
ملتی جلتی ہے کھنڈر سے مرے گھر کی صورت
چھت ہے انگنائی سی دیوار ہے در کی صورت
زندگی ختم ہوئی اور یہ حسرت ہی رہی
دل کی قیمت بھی لگاتا کوئی سر کی صورت
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جہاں کا نقش سنوارا حضورؐ کے دم سے
ملا ہے فیض یہ سارا حضور کے دم سے
لگا سکے گا بھلا کون برکتوں کا سراغ
عروج پر ہے ستارا حضور کے دم سے
نگاہ سُوئے مدینہ نجانے کب سے ہے
ہے رحمتوں کا اشارا حضور کے دم سے
زیبرا کراسنگ
میں کھڑی تھی زیبرا کراسنگ پر
اس امید پر شاید
وہ ادھر سے گزرے گا
اور ایک پل رک کر
خود سے وہ یہ بولے گا
اپنی برق رفتاری پر میں خود پشیماں ہوں
در بدر زندگی کے چکر میں
گھومتے ہیں خوشی کے چکر میں
روز کرتے ہیں ایک تازہ گناہ
آخری آخری کے چکر میں
پہلے چکر ابھی نہیں اترے
آ گئے پھر کسی کے چکر میں
چراغ درد جلاؤ کہ روشنی کم ہے
جنوں کی بزم سجاؤ کہ روشنی کم ہے
نہ چھیڑو ذکر تعفن بھرے زمانے کا
گلاب زخم کھلاؤ کہ روشنی کم ہے
نہ جانے چھپ گئی منزل کہاں اندھیروں میں
مرے قریب تر آؤ کہ روشنی کم ہے
صحرا کو دھول، دھول کو صحرا نِگل گیا
اور مجھ کو دردِ یار کا سایہ نگل گیا
بیٹے کو کھا گیا ہوسِ عیش کا قرار
اور بوڑھے باپ کو یہاں بیٹا نگل گیا
کھایا غریبِ شہر نے اک لقمۂ حلال
دھنوان جبکہ ساری ہی دنیا نگل گیا
اُس پہ ہو جائے اثر ایسا کہاں ہونا ہے
جتنا مرضی ہو ہُنر، ایسا کہاں ہونا ہے
تیری سوچوں سے مہکتا ہے مرا شہرِ سخن
کوئی خوشبو کا نگر ایسا کہاں ہونا ہے
ہو تو سکتا ہے کسی دن وہ نظر ڈھونڈے مجھے
ہو تو سکتا ہے مگر ایسا کہاں ہونا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
سارے احکام خدا جن کی زباں میں آئے
منزلت انؐ کی بھلا کس کے گماں میں آئے
مِرے مولاﷺ کا کرم میری زمیں کا اعجاز
سب جہانوں کے امیںﷺ مِرے جہاں میں آئے
آپﷺ کی ذات ہے وہ دائرہِ وصف و کمال
جو تصور میں سمائے نہ گماں میں آئے
خُوشنوائی تیرے نیرنگ سے ڈر لگتا ہے
مرحبا سُنیے تو آہنگ سے ڈر لگتا ہے
ہو کھرا بانٹ تو تُلنے سے نہیں کوئی گُریز
ہاں مگر جُنبشِ پاسنگ سے ڈر لگتا ہے
مصلحت کا یہ کفن رکھتا ہے بے داغ ہمیں
اہلِ ایمان ہیں ہم رنگ سے ڈر لگتا ہے
کہا تھا اس نے مجھ کو سوچنا مہنگا پڑے گا
محبت میں یہی اک مرحلہ مہنگا پڑے گا
کہانی اور کرداروں کو تم اک ساتھ رکھنا
کہیں کچھ رہ گیا جو فاصلہ مہنگا پڑے گا
تعلق توڑنے کا سلسلہ اچھا نہیں ہے
تجھے اس دشمنی کا فیصلہ مہنگا پڑے گا
یہ زندگی سوال تھی، جواب مانگنے لگے
فرشتے آ کے خواب میں حساب مانگنے لگے
اِدھر کِیا کرم کسی پہ، اور اُدھر جتا دیا
نماز پڑھ کے آئے اور شراب مانگنے لگے
تجارتوں کا رنگ بھی عبادتوں میں آ گیا
سلام پھیرتے ہی ہم ثواب مانگنے لگے
بدن تو جل گئے، سائے بچا لیے ہم نے
جہاں بھی دھوپ ملی، گھر بنا لیے ہم نے
اُس امتحان میں سنگین کس طرح اُٹھتی
دُعا کے واسطے جب ہاتھ اُٹھا لیے ہم نے
کٹھن تھی شرطِ رہِ مستقِیم، کیا کرتے
ہر ایک موڑ پہ کتبے سجا لیے ہم نے
لوگ ہلال شام سے بڑھ کر پل میں ماہ تمام ہوئے
ہم ہر برج میں گھٹتے گھٹتے صبح تلک گمنام ہوئے
ان لوگوں کی بات کرو جو عشق میں خوش انجام ہوئے
نجد میں قیس یہاں پر انشاؔ خار ہوئے ناکام ہوئے
کس کا چمکتا چہرا لائیں کس سورج سے مانگیں دھوپ
گھور اندھیرا چھا جاتا ہے خلوت دل میں شام ہوئے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
آپؐ ہیں ختم الرسُل، سلطانِؐ بطحا دائماً
کو بکو ہے “لا نبی بعدی“ کا چرچا، دائماً
ذاتِ اقدسؐ پر ہے قرباں ہر دو عالم کا جمال
حسنِ ہستی، اُن کی ہستی کاہے صدقہ، دائماً
ہے نزولِ قُدسیاں ، شام و سحر دربار پر
عرش کا ہے روضۂ انور پہ سایہ، دائماً
پھر تم رخ زیبا سے نقاب اپنے اٹھا دو
اچھا ہے کہ آئینے کو آئینہ دکھا دو
جب برق کے احساں سے بچانا ہے خودی کو
خود اپنے ہی نالوں سے نشیمن کو جلا دو
وہ سامنے آتے نہیں اچھا تو نہ آئیں
تم جذب محبت سے حجابات اٹھا دو
سُنا ہے جب سے کہ وقت میرا بگڑ رہا ہے
جگہ جگہ سے ہر ایک رشتہ اُدھڑ رہا ہے
جو تیرے ہاتھوں میں آج ہے، کل نہیں رہے گا
تُو جس پہ اِترا رہا ہے اتنا اکڑ رہا ہے
کہیں تعلق بحال کرنے میں ہم لگے ہیں
کہیں کسی سے ہمارا رشتہ بگڑ رہا ہے
زعفرانی کلام
منہ پہ ہر شخص کے تالے ہیں خدا خیر کرے
چپ سبھی بولنے والے ہیں خدا خیر کرے
کیا کہیں ساس سسر سالیاں کوئی بھی نہیں
ساری سسرالوں میں سالے ہیں خدا خیر کرے
مرغ اور مچھلی کو چھونے سے جنہیں پاپ لگے
ان کے ہاتھوں میں بھی بھالے ہیں خدا خیر کرے
زعفرانی کلام نئی تہذیب
نئی تعلیم تو نے حافظے پر کیا اثر ڈالا
کہ یاد آتے نہیں بھولے سے بھی احکام قرآنی
حیا جامے سے باہر ہو گئی اللہ ری آزادی
ابھی تھوڑی سی بڑھنے پائی تھی تعلیم نسوانی
مساوات اس کو کہتے ہیں نئی تہذیب کیا کہنا
کہ یکساں ہو گئی صورت زنانی اور مردانی
بھیڑیے کا مقدمہ
اشرف المخلوقات آدمی
کیا کبھی بھیڑیوں نے ہوس کا شکم
اپنے ہی کمسنوں کے بدن سے بھرا؟
کیا کبھی بھیڑیے اپنی مادہ کی مرضی کو جانے بنا
اس کے نزدیک جاتے دکھائی دئیے؟
کوئی ایسی گواہی ملی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہر دل کی تسلی بھی ہے، ہر غم کی دوا بھی
کیا چیز ہے مولاﷺ تیری خاکِ کفِ پا بھی
ہونے کو تو ہو گی دلِ مضطر کی دوا بھی
اکسیر ہے لیکن تیرےﷺ دامن کی ہوا بھی
لب پر ہے تیراﷺ نام تو کیا اور طلب ہو
اے صل علیٰﷺ یہ تو دوا بھی ہے دُعا بھی
اک اجنبی سے پیار کیا ہائے کیا کِیا
خود دل کو تار تار کیا ہائے کیا کیا
دل کو سکوتِ درد پہ مائل بھی کر لیا
آنکھوں کو آبشار کیا ہائے کیا کیا
جب دل مِرا ہر ایک تمنا سے بھر گیا
پھر تیرا انتظار کیا ہائے کیا کیا
رقص کرتے جھومتے اور جلتے پروانے ملے
مسکراتے موت کے سائے میں دیوانے ملے
اہل دل چلنے لگے جب بھی سوئے دیر و حرم
منتظر اس راہ میں ہر بار مے خانے ملے
دور ماضی جب چراغ یاد سے روشن ہوا
وقت کی کھلتی ہوئی ہر تہ میں افسانے ملے
انتظار
جب برکھا برسے گی
پی کے ملن کے لیے
پھر گوری ترسے گی
جب بادل گرجیں گے
پی کے بنا گوری
تورے نیناں برسیں گے
آج تک اہل زر نہیں بدلے
خود نگر کم نظر نہیں بدلے
راستے پر خطر نہیں بدلے
ہم نے خود جان کر نہیں بدلے
دور تعمیر نو کہیں کیسے
جب یہ دیوار و در نہیں بدلے
تُو کیوں پاس سے اٹھ چلا بیٹھے بیٹھے
ہوا تجھ کو کیا بے وفا بیٹھے بیٹھے
وہ آتے ہی آتے رہے پر قلق سے
مِرا کام ہی ہو گیا بیٹھے بیٹھے
اٹھاتے ہو کیوں اپنی محفل سے مجھ کو
لیا میں نے کیا آپ کا بیٹھے بیٹھے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
خوشا وہ زیست کہ ہوتی ہے بسر نعتوں میں
للّٰہ الحمد کہ ہوں شام و سحر نعتوں میں
اپنے لفظوں میں کہاں تاب وتواں تھی اتنی
ان کی توصیف سے ہیں لعل و گہر نعتوں میں
ان کی یادوں سے بسا لیتا ہوں دل کی بستی
کھلتے جاتے ہیں جو توفیق کے در نعتوں میں
ضبط کرنا جو سیکھ جاتے ہیں
بس وہی لوگ مسکراتے ہیں
جب تصور میں میرے آتے ہیں
یادِ ماضی بھی ساتھ لاتے ہیں
جب میں تنہا قدم بڑھاتی ہوں
چاند تارے بھی ساتھ آتے ہیں
میں اپنی حسرتوں کا گلہ گھونٹتا رہا
ہر شخص مسکرا کے مجھے دیکھتا رہا
افسوس حادثات کی اتنی تھی تیرگی
سایہ بھی اپنا ساتھ وہاں چھوڑتا رہا
دشمن سا ہو گیا ہے مرا نفس اس لیے
میں زندگی کی جنگ سدا ہارتا رہا
آنکھ بے خوابی پہ قرباں دل نثار انتظار
اور ہی ہو گا کوئی شکوہ گزار انتظار
کر دیا ہے کس کے جلوے نے شکار انتظار
میں ہوں اور آٹھوں پہر وہ رہگزار انتظار
کوئی مجھ سے حشر کو ملنے کا وعدہ کر گیا
اک قیامت ہو گئے لیل و نہار انتظار
سنگ دل ہے بے وفا ہے بے مروت ہے تو ہے
لوگ کہتے ہیں مجھے اس سے محبت ہے تو ہے
دل چرانے کی ادا ان کی بہت ہے دل نشیں
چور کی داڑھی میں تنکا، یہ کہاوت ہے تو ہے
میرے دل میں اس کی الفت دوستو بے لوث ہے
اس کی نظروں میں اگر یہ بھی تجارت ہے تو ہے
کبھی ہم پر بھی وہ بت مہرباں ہو جائے نا ممکن
محبت بھی جہاں میں کامراں ہو جائے نا ممکن
کچھ اس ڈھب سے نظامِ گلستاں ہو جائے نا ممکن
بہار آئے کبھی دورِ خزاں ہو جائے نا ممکن
مزا جب ہے کہ ہم کو قابلِ مشقِ ستم سمجھے
مگر اتنا بھی وہ بت مہرباں ہو جائے نا ممکن
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
دل کی حسرت ہے کہ ہر آن مدینے میں رہے
"مجھ خطار کار سا انسان مدینے میں رہے"
دور کیسے وہ رہے آپؐ کے در سے مولاؐ
جس کے ہر درد کا درمان مدینے میں رہے
دیکھے انوارِ حرم اور جمالِ گنبدﷺ
نکہت و رنگ پہ قربان مدینے میں رہے
یہ درد جگر ہے کہ دوا میرے لیے ہے
تو دور ہے مجھ سے یہ سزا میرے لیے ہے
یہ حسن یہ عارض یہ مہکتی ہوئی زلفیں
یہ چال قیامت کی ادا میرے لیے ہے
اے پیرِ مغاں کیا تجھے معلوم نہیں ہے
میخانے میں پُر جامِ وفا میرے لیے ہے
بخت کی جب تختیاں لکھی گئیں
میرے حق میں تلخیاں لکھی گئیں
آپ کو بخشی گئی بادِ صبا
اور مجھ کو آندھیاں لکھی گئیں
ان کے سارے دوش تو بخشے گئے
میری ساری غلطیاں لکھی گئیں
محبت دل میں اس بے داد گر کی
مصیبت ہو گئی ہے عمر بھر کی
کوئی ہو دیکھنے والا تو دیکھے
شبِ غم کس طرح ہم نے بسر کی
جبینِ شوق کے بے تاب سجدے
امانت ہیں تمہارے سنگِ در کی
واقف نہیں ہے تُو مِرے حالِ تباہ سے
خائف ہے آسمان بھی اب میری آہ سے
ڈُوبا ہوا ہے شہر اندھیروں میں اور پھر
اُمیدِ روشنی بھی تو مجھ رو سیاہ سے
اب ظُلمتوں نے ان کو بھی برباد کر دیا
وابستہ تھے جو لوگ یہاں مہر و ماہ سے
تم گئے تو اور کیا رہ جائے گا
موت کا اک آسرا رہ جائے گا
زندگی میں اشکِ غم اور سسکیاں
کیا یہی اک سلسلہ رہ جائے گا
بام پر آ جاؤ تو وہ چاند بھی
دیکھ لینا دیکھتا رہ جائے گا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
نُور و نکہت میں ڈھلی ظلمتِ شب آج کے دن
زیست کو مِل گیا جینے کا سبب آج کے دن
آسماں جُھوم اٹھے، خاک ہنسی، لہرائی
تیری آمد کا تھا انداز عجب آج کے دن
آدمیت کہ مقدّر میں رہی جس کے فُغاں
تیرے آنے سے ہوئی خندہ بہ لب آج کے دن
کن سوچوں میں ڈوب گئے ہو تم بھی نا
خود ہی خود سے بھاگ رہے ہو تم بھی نا
تم کو دیکھے بِن اک پل بھی چین نہیں
ایسے دل میں آن بسے ہو تم بھی نا
لاکھ جتن کر کے دل تم کو بھولا تھا
پھر سے مجھ کو آن ملے ہو تم بھی نا
کیوں بناتے ہو آشیاں لوگو
پھر جو چمکیں گی بجلیاں لوگو
چاندنی رات بھی اندھیری ہے
رنگ بدلا ہے آسماں لوگو
جل چکا ہے نشیمنِ امید
رات گزرے گی اب کہاں لوگو
اس شہرِ بے کمال میں کچھ تو کمال کر
دم توڑتی حیات کی سانسیں بحال کر
جاتے ہوئے وہ شخص مجھے قید کر گیا
رستے میں رکھ گیا مِری آنکھیں نکال کر
جب پہلی بار وہ مجھے اپنا نہیں لگا
رکھا ہوا ہے میں نے وہ لمحہ سنبھال کر