عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
دل درد سے بسمل کی طرح لوٹ رہا ہو
سینے پہ تسلی کو ترا ہاتھ دھرا ہو
گر وقت اجل سر تری چوکھٹ پہ جھکا ہو
جتنی ہو قضا ایک ہی سجدے میں ادا ہو
دیکھا انہیں محشر میں تو رحمت نے پکارا
آزاد ہے جو آپﷺ کے دامن سے بندھا ہو
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
دل درد سے بسمل کی طرح لوٹ رہا ہو
سینے پہ تسلی کو ترا ہاتھ دھرا ہو
گر وقت اجل سر تری چوکھٹ پہ جھکا ہو
جتنی ہو قضا ایک ہی سجدے میں ادا ہو
دیکھا انہیں محشر میں تو رحمت نے پکارا
آزاد ہے جو آپﷺ کے دامن سے بندھا ہو
بعض اوقات تو اِک لمحے میں بھر جاتا ہے
غم کا آنسو ہر تکیے میں بھر جاتا ہے
پربت کو آواز لگا کر سو جاتی ہوں
دریا آ کر مشکیزے میں بھر جاتا ہے
پیاس ہماری پانی دیکھ کے بجھ جاتی ہے
شِکم بھی پہلے ہی لقمے میں بھر جاتا ہے
یاد ہے اب تک یاد وہ عالم
مل گئیں نظریں ایک دن باہم
بن گئے ہم خود عشق مجسم
پھر بھی مزاجِ حُسن ہے برہم
مے خانے کا اف یہ عالم
جام و سبو ہیں درہم برہم
کس سلیقے سے دل جلاتا ہے
جو بھی کہتا ہوں مان جاتا ہے
جب اٹھاتا ہوں بزم دل سے اسے
آ کے آنکھوں میں بیٹھ جاتا ہے
جان کر میں سدا نہیں دیتا
عادتاً دل اسے بلاتا ہے
تیرا سلوک مجھ سے ہے اغیار کی طرح
آنکھوں میں جو کھٹکتا ہوں میں خار کی طرح
مبہم ہر ایک بات صنم کی لگے مجھے
اقرار بھی لگے مجھے انکار کی طرح
شطرنج جیسی مجھ کو لگے ہے یہ زندگی
چلنا ہر ایک چال سمجھدار کی طرح
تم نے سچائی کو دکھلا دیا جھوٹا کر کے
تم کو پہچان گئے تم پہ بھروسہ کر کے
ہم کو معلوم ہے کیا ہوتی ہے سورج کی تپش
ہم جھلستے رہے اوروں پہ بھروسہ کر کے
اپنی کوشش سے، پسینہ سے، لہو سے اک دن
ہم چلیں جائیں گے ہموار یہ رستہ کر کے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
سرورِ ابرارﷺ پر لاکھوں سلام
احمدِﷺ مختار پر لاکھوں سلام
گیسوئے واللیل پر تاباں درودﷺ
والضحیٰ رخسار پر لاکھوں سلام
ان کے اہلِ بیت پر اطہر درودﷺ
حرمت اطہار پر لاکھوں سلام
اب دعا بھول گئی اپنا اثر لوٹ چلیں
وہ نہ آیا ہے نہ آئے گا سحر لوٹ چلیں
ہم پہ کیا بیت گئی رات کے ڈھلتے ڈھلتے
کون لیتا ہے یہاں اپنی خبر لوٹ چلیں
کیسا ویران نگر ہے کہ مکانوں میں یہاں
کوئی زنجیر، نہ دیوار، نہ در لوٹ چلیں
دریا پہ بارشوں کا اثر کُچھ نہیں ہوا
مجھ پر بھی سازشوں کا اثر کچھ نہیں ہوا
دُنیا نے کوششیں تو بہت کیں مگر جناب
ان پر سفارشوں کا اثر کچھ نہیں ہوا
دل چِیر کر بھی میں نے دِکھایا اسے مگر
ظالم پہ خواہشوں کا اثر کچھ نہیں ہوا
نہ پوچھو کیسے شب انتظار گزری ہے
بھلا ہو دل کا بہت بے قرار گزری ہے
ہزار مصلحتیں جس میں کار فرما ہوں
وہ اک نگاہ کرم ہم پہ بار گزری ہے
ہے اصطلاح محبت میں جس کا نام جنوں
وہ ایک رسم بڑی پائیدار گزری ہے
کسی صورت لب و لہجہ کی ویرانی نہیں جاتی
غزل سے زندگی کی مرثیہ خوانی نہیں جاتی
ہمارے گھر سے رخصت ہو گئی اجداد کی شوکت
ہماری گُفتگو سے بُوئے سُلطانی نہیں جاتی
صدائیں دے رہی ہیں دیر سے خُوش بختیاں لیکن
نکل کر خواب گاہوں سے تن آسانی نہیں جاتی
چار سو شہر میں مقتل کا سماں ہے اب کے
اپنے سائے پہ بھی قاتل کا گماں ہے اب کے
جو کبھی شہر میں خورشید بکف بھرتا تھا
کوئی بتلائے کہ وہ شخص کہاں ہے اب کے
کہکشاں لفظوں کی ہونٹوں پہ بکھرنے دیجے
دور تک ذہن کی گلیوں میں دھواں ہے اب کے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تا ابد اہلِ نظر کے واسطے تشہیر ہے
آیتِ تطہیر کی منہ بولتی تفسیر ہے
کربلا کے دشت میں پھیلی ہوئی تنویر ہے
سرخروئی بر زمین و آسماں تحریر ہے
عظمتِ خونِ شہیداں کی شفق تصویر ہے
سر کٹا کر جس نے بخشی بندگی کو زندگی
یہ مانا کچھ یہاں ضائع نہیں ہے
مگر وہ مسئلہ سلجھا نہیں ہے
بھلا کیسے محبت کر لیں جاناں
ہوا کیا زخم گر تازہ نہیں ہے
مِرے آنسو تمہارے دل کے بدلے
مِری جاں زندگی سودا نہیں ہے
عشق کام اپنا کر گیا شاید
مر رہا تھا تو مر گیا شاید
منتظِر اب بھی انتظار میں ہے
تھٙک کے وہ منتظر گیا شاید
صرف ویرانیاں ہیں، وحشت ہے
ہم سفر پیشتر گیا شاید
گنہگار شاعر کی بے گناہ نظمیں
کل میری دو نظمیں بازار گئیں
جو جڑواں بہنیں تھیں
مگر واپس نہیں لوٹیں
ان دنوں کرفیو کے باعث
کھلے عام گھومنا ممنوع تھا
لیکن میں نے دن کی رفتار سے تیز بھاگتے ہوئے
کس کو کس کا ساتھ نبھانا ہوتا ہے
وقت کی رو کا صرف بہانا ہوتا ہے
پہلے ایک تجسس بنتا ہے ہم کو
پھر حالات کا تانا بانا ہوتا ہے
میں بچوں کی باتیں غور سے سنتا ہوں
ان باتوں سے ذہن سیانا ہوتا ہے
اپنے گھر سے وطن سے وفا کیجیے
امن ہو قریہ قریہ دُعا کیجیے
جس سے مٹنے لگیں نفرتیں چار سُو
کام کوئی تو ایسا نیا کیجیے
پھول کلیاں سبھی مسکراتی رہیں
پیدا ایسی وطن میں فضا کیجیے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
محبت کی سعادت چاہتا ہوں
شہِ دیں کی اطاعت چاہتا ہوں
ہیں فتنے ہر طرف مولا کرم کر
میں ایماں کی حفاظت چاہتا ہوں
طفیلِ حضرت صدیق اکبرؓ
میں باتوں میں صداقت چاہتا ہوں
ہمارے درمیاں جو فاصلہ ہے
محض کچھ رنگ و بو کا مسئلہ ہے
بڑی تنہائیاں ہیں ذہن میں اب
ہمارے ساتھ میں اک قافلہ ہے
میں ہر منظر میں شامل ہو رہی ہوں
مِرا خود سے نہ کوئی سلسلہ ہے
حسن کو آرائشوں کا جب ہنر بھی دے دیا
دینے والے نے ہمیں ذوقِ نظر بھی دے دیا
حد تو یہ ہے بخش دی اس کو متاعِ شب تمام
روشنی کے واسطے نورِ سحر بھی دے دیا
ششدر و حیراں فلک ہے قتل بھی خود ہی کیا
قتل کا الزام مقتولوں کے سر بھی دے دیا
وقت کی ریت
وقت کی ریت جب آنکھ میں چُبھتی ہے
تو محسوس ہوتا ہے
بُدھا تو سچ کہتا تھا
میرے ہونے کا احساس
سردی میں کپکپاتا ہے
رات کی آنکھوں سے خُون کے قطرے
راہ گم کردہ کو منزل کا پتا دے شاہا
میری بگڑی ہوئی تقدیر بنا دے شاہا
جانے انجانے میں جو جرم ہوئے ہیں مجھ سے
میرے ان جرموں کی فہرست جلا دے شاہا
ریگِ صحرا کی طرح دل یہ مِرا سوزاں ہے
اپنے دامن کی اسے ٹھنڈی ہوا دے شاہا
نہ میں رہا، نہ رہا وقت کا نشاں کوئی
وجود اوڑھ کے بیٹھا رہا گماں کوئی
میں دیکھتا ہی رہا دیکھنے کے ٹوٹنے کو
نہ آنکھ باقی رہی، اور نہ ہی جہاں کوئی
دھمال جاری ہے درگاہ پر ملنگوں کی
خدا کا بندہ ہے بندوں پہ مہرباں کوئی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
پہلے ثنائے خالق کون و مکاں کرو
پھر وجہِ کائناتﷺ کی مدحت بیاں کرو
اصحاب مصطفٰیﷺ کا کرو دل سے احترام
آلؑ نبیﷺ کی یاد سے دل ضوفشاں کرو
گر چاہتے ہو زیست گزر جائے چین سے
پہلے درود پاکﷺ کو وِرد زباں کرو
حیات شمع کی صورت پگھلتی جاتی ہے
شبیں گزرتی ہیں اور عمر ڈھلتی جاتی ہے
ابھی تو ہجر کا یہ پہلا سنگِ میل ہوا
یہ رہگزر تو بہت دور چلتی جاتی ہے
ان آندھیوں میں سلامت نہیں کسی کا چراغ
اک اپنی شمعِ وفا ہے کہ جلتی جاتی ہے
یہ کیسے غم نکھارا جا رہا ہے
فقط اب دن گزارا جا رہا ہے
بڑا ہی پیار کرتے ہیں وہ مجھ سے
بدن یہ کہہ سنوارا جا رہا ہے
ذرا سا کانپ اٹھے ٹھہرے پربت
یہ کس کو یوں پکارا جا رہا ہے
برق رفتار وہ یوں جان جہاں ملتے ہیں
ہم جہاں ہوتے ہیں وہ ہم کو وہاں ملتے ہیں
غم کے مارے تو ملا کرتے ہیں ہم کو اکثر
آج کے دور میں غمخوار کہاں ملتے ہیں
جو کہ ہوتے ہیں بہت مہر و محبت والے
ایسے احباب زمانے میں کہاں ملتے ہیں
مایوس ہو گئے ہیں وہ ان کے جواب سے
دنیا تو چل رہی ہے بس اپنے حساب سے
وہ بے نیاز پھر بھی مخاطب نہیں ہوا
ہم نے اسے پکارا ہے کس کس خطاب سے
خود بے نقاب ہو کے سرِ بزم آ گئے
سب کو یہی امید تھی اک بے حجاب سے
ابھی نہ چھیڑ مرے دل کے تار رہنے دے
ابھی سکوں سے غم ہجر یار رہنے دے
غلط ہے جھوٹ ہے الزام ہے یہ تہمت ہے
نہ بے وفا مجھے کہہ کر پکار رہنے دے
جدا نہ ہو گی مرے دل سے یاد اب اس کی
مٹے گا دل سے نہ غم غمگسار رہنے دے
منظر کا احسان اتارا جا سکتا ہے
آنکھ کو یارا بھوکا مارا جا سکتا ہے
آنگن آنگن آگ اگائی جا سکتی ہے
کمروں میں دریا کا کنارا جا سکتا ہے
کرچی کرچی خواب چمکتا ہے آنکھوں میں
ان سے اب دنیا کو سنوارا جا سکتا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تیرے فراق کے اس میں ہیں رنج و غم مخصوص
"ہے تیرے جلووں کو یہ میری چشم نم مخصوص"
نبیﷺ کے عشق میں سب کچھ ہمیں گوارا ہے
ہمارے واسطے جاناں کے درد و غم مخصوص
میرے نصیب میں لکھدو فقط ثنا خوانی
تمہاری نعت کی خاطر رہے قلم مخصوص
ہو تعظیم ہر ایک ہی بات کی
ہے مشکل بہت یہ روایات کی
یہ بھی بات جذبات کی ہے مِرے
کرے بات کوئی نہ جذبات کی
زمانے کے رنج و الم سے پرے
حسیں اک ہے دنیا خیالات کی
کیا دے گئی فریب کسی کی نظر مجھے
دنیا کا ہوش ہے نہ کچھ اپنی خبر مجھے
جینے کی آرزو ہے نہ مرنے کی آرزو
ایسا دیا ہے عشق نے اک درد سر مجھے
موسیٰ گئے تھے طور پہ جلوے کو دیکھنے
آتا ہے چار سو تِرا جلوہ نظر مجھے
دیر و حرم کے آخری درباں کی طرح ہوں
مندر میں تیرے آخری بھگواں کی طرح ہوں
گر میں نہ ہوں تو چاندنی بھی منعکس نہ ہو
اے چاند تیرے عکس فراواں کی طرح ہوں
میں چاہتوں کے کھیل میں لُٹتا ہوں بار بار
بازارِ عشق میں نرے نقصان کی طرح ہوں
مرے خلاف زباں اپنی کھولنے والے
عجیب لوگ ہیں رازوں کو ڈھونڈنے والے
شکم میں بغض رکھیں اور آنکھ کا روزہ
سماعتوں میں سبھی شہد گھولنے والے
تمہیں خبر ہی نہیں ہے عذابِ قوم شعیب
عقیدتوں کو ترازو میں تولنے والے
کچھ تو ہونا چاہیے جو سلسلہ جاری رہے
اک لمحہ زندگی کا ہم پہ کیوں بھاری رہے
آپ نے جب بھی بلایا ہم نے باتیں مان لیں
کیا برا ہے ایک دن تو آپ کی باری رہے
بن گئے محکوم ہم، ہم کو ہے بس ماننا
کام ہے یہ آپ کا فرمان اب جاری رہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
زیرِ سایۂ گنبد رات کا بسیرا ہے
اور سنہری جالی سے رونما سویرا ہے
جا بجا مدینے میں حاجیوں کا ڈیرا ہے
مصطفٰیؐ کے کوچے میں سائلوں کا پھیرا ہے
رات بھی مدینے کی کتنی خلد منظر ہے
اک ذرا اُجالا ہے، اک ذرا اندھیرا ہے
خود کے سائے سے بھی حیران نظر آتا ہے
اپنے گھر میں بھی وہ مہمان نظر آتا ہے
کس کا چہرہ ہے جو بے ساختہ ہوتا ہے عیاں
خواب بھی آنکھ میں حیران نظر آتا ہے
اس نے بھی کوئی خبر گھر کے اجڑنے کہ نہ لی
جس کی چھت سے مرا دالان نظر آتا ہے
سکھائے پر ترے کیونکر چلیں گے
خود اپنی چال ہم بہتر چلیں گے
اگر چلنا ہی ہے ہم کو جہاں میں
تو ہم سب سے ذرا ہٹ کر چلیں گے
سفر میں لے چلیں گے گھر کو اپنے
یہ در دیوار اور بستر چلیں گے
ایک خدا پر تکیہ کر کے بیٹھ گئے ہیں
دیکھو ہم بھی کیا کیا کر کے بیٹھ گئے ہیں
پوچھ رہے ہیں لوگ ارے وہ شخص کہاں ہے
جانے کون تماشا کر کے بیٹھ گئے ہیں
اترے تھے میدان میں سب کچھ ٹھیک کریں گے
سب کچھ الٹا سیدھا کر کے بیٹھ گئے ہیں
رشتے بنے ہوئے ہیں سبھی کے سبھی کے ساتھ
وابستگی نہیں ہے کسی کی کسی کے ساتھ
ٹوٹا ہے اک ستارہ ابھی آسمان سے
پھر بیوفائی کی ہے کسی نے کسی کے ساتھ
روشن گھروں میں بانٹ دی پھر روشنی تمام
انصاف یہ ہوا ہے مری تیرگی کے ساتھ
ہے کہاں کون ہے کیسا وہ نظر آتا ہے
خود میں کم مجھ میں زیادہ وہ نظر آتا ہے
کیا تعلق ہے مرا اس سے بتاؤں کیسے
ہر دعا میں مجھے چہرہ وہ نظر آتا ہے
تشنگی جب مجھے دیدار کی تڑپائے تو
ایسے حالات میں دریا وہ نظر آتا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
سورۂ فاتحہ کا منظوم ترجمہ
ہے تعریف ساری خدا کے لیے
جو کُن کہہ دے اور ساری دنیا بنے
وہی رب تو سارے جہانوں کا ہے
مکانوں کا ہے، لا مکانوں کا ہے
رحیم اور رحمٰن بھی اس کے نام
چلائے وہی سارے جگ کا نظام
اب کی بیزار ہی لوٹ آئے ہیں گلزاروں سے
رنگ ہی لے گیا کوئی میرے نظاروں سے
اب یہ عالم ہے سناتے ہوئے ڈرتے ہیں نوید
بانٹ لیتے تھے کبھی درد بھی ہم یاروں سے
خود کو پھر کس لیے بتلایا تھا چارہ فرما
اتنا پرہیز اگر تھا تجھے بیماروں سے
باز آئے اس مذاقِ غمِ عاشقی سے ہم
خوش ہم سے زندگی ہے نہ خوش زندگی سے ہم
کچھ اس ادا سے ہو گئی بے گانہ وہ نظر
شکوہ بھی کر سکے نہ کسی کا کسی سے ہم
یہ شانِ دلبری ہے کہ اندازِ احتیاط
گویا نگاہِ حُسن میں ہیں اجنبی سے ہم
راس آئی جب تلک مجھ کو نہ شدت دھوپ کی
میرے دل میں برف صورت تھی محبت دھوپ کی
مجھ کو تو صحرا کے سینے پر اتارا ابر نے
کس لیے مجھ کو پڑی تھی پھر ضرورت دھوپ کی
شام کے سائے نے پر کھولے تو ظلمت چھا گئی
بعد مدت کے نظر آئی تھی صورت دھوپ کی
کیا پوچھتے ہو رنج والم اور طرح کے
یعنی رہے بھرتے وہ دم اور طرح کے
جاتے ہوئے مشکل تھا مسرت میں سنبھلنا
تھے واپسی پہ اپنے قدم اور طرح کے
دنیا سے جسے مطلب تکلیف جدا اس کی
دل والوں کے بس ہوتے ہیں غم اور طرح کے
دل کے نزدیک سے گزرو تو بتا کر جانا
یہ بھی چاہت کی ہے اک رسم نبھا کر جانا
تم مجھے چھوڑ کے جاتے ہو تو جاؤ لیکن
اپنے بھیجے ہوئے خط سارے جلا کر جانا
کیا بتاؤں گا جدائی کا سبب لوگوں کو
جو حقیقت ہے زمانہ کو بتا کر جانا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
قرطاس پر نہ چھوڑ کتابت درود کی
مہمل نہ لکھ قلم سے عبارت درود کی
کرتی ہیں مکھیاں بھی تلاوت درود کی
جو شہد میں ہے ساری حلاوت درود کی
قراٰن نے کہا ہے شفا، کیوں شفا نہ ہو
پھولوں کے اس عرق میں ہے حکمت درود کی
میں اکثر بھول جاتی ہوں
تمہی کو بھول جانا ہے
یہ بارش ہے
اور یہ موسم کی بہاریں
تمہاری یاد دلاتی ہیں
تمہیں یاد کرنے کو
آئین و عدل و منصفِ دوراں فریب ہے
مجرم اگر خواص ہوں زنداں فریب ہے
ظلمت بھی ہے رئیس کی کوٹھی میں پُرفریب
مفلس کے گھر میں ہے جو چراغاں فریب ہے
وہ میری خستگی پہ ہے مسرور ان دنوں
چہرے پہ نقش حسرت و حرماں فریب ہے
ہجر کی رات ہے ویرانہ ہے تنہائی ہے
دل لگانے کی عجب ہم نے سزا پائی ہے
اک نئے عزم نئے جوش کو دیکھا ہم نے
تیرے عاشق میں نئی بات نظر آئی ہے
مل کے ہاتھوں پہ میرا خونِ جگر کہنے لگے
رنگ کیسا مرے ہاتھوں پہ حنا لائی ہے
خطا بھی مجھ سے ہوئی ہے لہو لہو میں ہوں
سزا بھی خود کو ہی دے دے کے سرخرو میں ہوں
اسے یہ فخر کہ بدنام کر دیا مجھ کو
مجھے یہ ناز کہ موضوعِ گفتگو میں ہوں
کبھی کبھی مجھے ایسا گمان ہوتا ہے
وہ میرے سامنے ہے اس کے روبرو میں ہوں
سبک مجھ کو محبت میں یہ کج افتاد کرتا ہے
جو میں ہرگز نہ کرتا وہ مرا ہمزاد کرتا ہے
بکھر کر بھی اسی کو ڈھونڈتی ہیں ہر طرف آنکھیں
جو مجھ کو اک نگہ میں اک سے لاتعداد کرتا ہے
ہوئی ہیں شور دل میں غرق تعبیریں صداؤں کی
مگر اتنی خبر ہے کوئی کچھ ارشاد کرتا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
باغ کے نو نہال پودوں سے
رونق گلستاں پرندوں سے
ذکر اس کا رہے گا کہ زندہ
عشق کا نام اس کے بندوں سے
رو چکے خوب مرنے والوں کو
اب گلے بڑھ چکے ہیں زندوں سے
میری آنکھوں میں جھانکتے جائیں
خُود کو سُولی پہ ٹانکتے جائیں
میرے جیسے قریب آئیں تو
آپ جیسے تو ہانپتے جائیں
میری مرضی دھیان دوں، نہ دوں
آپ چُپ چاپ ناچتے جائیں
یاد آئے ہے بے شمار کوئی
کیوں نہ جائے بھی کوئے یار کوئی
اعتبار اس پہ پھر کِیا میں نے
ہے نہیں جس کا اعتبار کوئی
لاکھ ناصح ہیں آس پاس مِرے
کاش ہو جاتا غمگسار کوئی
ادائے خاص سے مسکرا دیا تو نے
مری حیات کو نغمہ بنا دیا تُو نے
گرا کے برقِ تبسم مِرے دل پر
اک ارتعاشِ مجسم بنا دیا تُو نے
ذرا سا جلوۂ رنگیں کا عکس دکھلا کر
کلی کلی کو گلستاں بنا دیا تُو نے
درمیاں آ رہی ہے نفرت کیوں
جب گلے مل گئے شکایت کیوں
آدمی تم بھی آدمی ہم بھی
پھر ہوئی ختم آدمیت کیوں
ہو گیا عشق آپ کو شاید
عمر اس میں نئی مصیبت کیوں
زندگی کو اڑان میں رکھنا
خواہ کچے مکان میں رکھنا
اپنی منزل دھیان میں رکھنا
اِک توازن اُڑان میں رکھنا
جس میں رقصاں ہوں سوچ کے جگنو
وہ خلا داستان میں رکھنا
ہمیشہ ورغلاتے ہو خدا غارت کرے تم کو
ہمارا دل دکھاتے ہو خدا غارت کرے تم کو
یہ کیا طرز محبت ہے مرادیں غیر کو لیکن
ہمیں الو بناتے ہو خدا غارت کرے تم کو
عدو کو پیش کرتے ہو شراب انگبیں جانم
ہمیں تلچھٹ پلاتے ہو خدا غارت کرے تم کو
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کیسے کر پائے کوئی، منظر کشی معراج کی
عقل کی حد میں نہیں، جلوہ گری معراج کی
میرِ محفل رب تھا اور شاہِؐ دنیٰ اُس کا چراغ
لا مکاں میں انجمن ایسی سجی معراج کی
عشق سے دیکھو تو ایمانی نظر ہو جائے تیز
پڑھ رہی ہے ہر جھلک نعتِ نبیؐ معراج کی
بعد تمہارے کوئی ہمدم کیا ہو گا
مرہم کے ماروں کا مرہم کیا ہو گا
ممکن ہے یہ مجھ کو پاگل بھی کر دے
عشق کا غم ہے اس سے تو کم کیا ہو گا
مُفلس کیا ہیں چلتے پھرتے مُردے ہیں
مُردوں کے مرنے کا ماتم کیا ہو گا
یوں بسایا گیا زمینوں کو
گھر سے بے گھر کیا مکینوں کو
ہاتھ چھوڑ آئے کام کے بدلے
سُکھ مِلا تنگ آستینوں کو
میری عینک سے پڑھ سکو تو پڑھو
دُھول چاٹی ہوئی جبینوں کو
اس تماشائے سرِ عام سے پہلے پہلے
اِذنِ کہرام ہوا بام سے پہلے پہلے
مقتلِ خواب سے اک خاص خبر آئی ہے
آج سو جائیں گے ہم شام سے پہلے پہلے
شکل پیاسوں کی چلو یاد کرو یاد کرو
ہاں ابھی اور اسی جام سے پہلے پہلے
وعدوں سے ہمیں بہلایا گیا
دامن میں نہ کچھ بھی آیا گیا
مانے گا وہاں کون اپنی بات
نبیوں کو جہاں جھٹلایا گیا
بے گھر ہوئے جھنڈ پرندوں کے
جب پیڑوں کو جھلسایا گیا
محبت کا قرینا آ گیا ہے
ہمیں مر مر کے جینا آ گیا ہے
بہ فیض غم ہم اہل دل کے ہاتھوں
دو عالم کا خزینہ آ گیا ہے
تری شادابیوں کا ذکر سن کر
گلوں کو بھی پسینہ آ گیا ہے
تیری سوچ کے عین منافی ہو سکتی ہے
ایک محبت کیسے کافی ہو سکتی ہے
ہجر ملے تو حسن کا چہرہ جل سکتا ہے
پیار ملے تو لڑکی پیاری ہو سکتی ہے
غم کا سورج دیر تلک نہ رکھنا سر پر
زیادہ دھوپ میں رنگت کالی ہو سکتی ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
زمیں کی گود میں ڈالی امانتیں کیا کیا
حسینؑ لائے وفا کی شہادتیں کیا کیا
وہ بات خون سے لکھی نئے حوالوں سے
ابھر کے سامنے آئیں علامتیں کیا کیا
کہیں پہ پرتوِ حیدرؑ، کہیں پہ شکلِ نبیٌ
دکھائی دیتی ہیں صحرا میں صورتیں کیا کیا
دل کہاں ہر کسی سے ملتا ہے
یہ تو بس آپ ہی سے ملتا ہے
تم نہ آئے تو ہم چلے آئے
کیا سمندر ندی سے ملتا ہے
تجربہ جو کبھی بیاں نہ ہوا
آخر زندگی سے ملتا ہے
کیوں تم سے علاج دل شیدا نہیں ہوتا
کیا درد محبت کا مداوا نہیں ہوتا
طوفان بلا خیز ہے ہر اشک محبت
کیوں کر کہیں قطرہ کبھی دریا نہیں ہوتا
ملتا ہی نہیں ساغر مے بادہ کشوں کو
جب تک تِری آنکھوں کا اشارا نہیں ہوتا
اٹھ جائے درمیاں سے جو پردہ حجاب کا
پڑھ لوں کتاب حسن سے مضمون خواب کا
اپنی نظر بھی ڈال دے ساقی شراب میں
دیکھے کوئی تو اس کو ہو دھوکا گلاب کا
ظاہر پہ کر نقاب تو باطن پہ کر نظر
مطلوب ہے نظارا جو اس بے نقاب کا
ضبط فغاں سے آ گئی ہونٹوں پہ جاں تلک
دیکھو گے میرے صبر کی طاقت کہاں تلک
غفلت شعارہا کے تغافل کہاں تلک
جیتا رہے گا کون تِرے امتحاں تلک
وہ میری آرزو تھی جو گھٹ گھٹ کے رہ گئی
وہ دل کی بات تھی جو نہ آئی زباں تلک
مِری جان خانہ بدوش کو وہ سکوں ملا تِرے شہر سے
کہ میں کوچ کرنے کے بعد بھی نہ بچھڑ سکا ترے شہر سے
میں سحاب بن کے ہواؤں میں تجھے ڈھونڈتا تھا فضاؤں میں
سو تِرے مکاں پہ برس پڑا جو گزر ہوا ترے شہر سے
تری رہگزر سے لگاؤ تھا، تِرے آستاں پہ پڑاؤ تھا
تِرا حکم تھا کہ سفر کروں سو میں چل پڑا ترے شہر سے
روشنی
سانحوں میں الٹی ہیں
بستیاں بھی اجڑی ہیں
لوگ بھول جاتے ہیں
سرکشی بلا کی ہے
رہبری قفس میں ہے
انبیاء کے قاتل لوگ
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اللہ نے جب پیکر آدمؑ کو بنایا
پھر نور نبوت سے اسے خوب سجایا
اور جملہ فرشتوں کو دیا حکم آؤ
اس نور کی تعظیم کرو، سر کو جھکاؤ
سنتے ہیں یہ فرمان مَلک جُھک گئے سارے
ابلیس بدستور رہا ایک کنارے
تیرے میرے خواب جُدا
خوابوں کے اسباب جدا
میرے دُشمن تیرے دوست
دونوں کے احباب جدا
تیرا میرا ساتھ ہے یوں
جُوں صحرا سے آب جدا
عشق پر وقت مُشکل پڑا ہے
عُمر چھوٹی ہے سپنا بڑا ہے
جان دے کر چُھڑا لوں گا اک دن
دل تِرے پاس گِروی پڑا ہے
عشق کی عُمر کیا پوچھتی ہو
عقل سے نو مہینے بڑا ہے
یہ دل کی بات ہے کس نے کہی ہے
محبت خود سراسر آگہی ہے
تمہیں کہہ دو کہ میں بالکل نہ سمجھا
نظر جھینپی ہوئی کچھ کہہ رہی ہے
یہ سر پر سایہ گستر خاک صحرا
جنوں بے تاج کی شاہنشہی ہے
اسلاف کا سرمایۂ فن چھوڑ چکے ہیں
جس پہ نہیں مُہر وہ دھن چھوڑ چکے ہیں
کب تک تجھے اوڑھے رہیں اے قدرِ زمانہ
ہم اپنا یہ بوسیدہ کفن چھوڑ چکے ہیں
صحرا میں کہیں تُو بھی ملا تھا یہ نہیں یاد
رستے میں کئی دشت و دمن چھوڑ چکے ہیں
ہمارے پر ہیں شکستہ اڑان باقی ہے
نیا ہے عزم سفر آن بان باقی ہے
تمہارا فیصلہ منظور ہو مجھے کیسے
ابھی تو ہونے کو میرا بیان باقی ہے
یہ کم نہیں کہ زمانے میں آج زندہ ہوں
کہ دو جہاں میں مرا مہربان باقی ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
رب نے مِرا نصیب سنوارا تو میں گیا
طیبہ کی سر زمیں نے پکارا تو میں گیا
صد شکر ہو گئی مِری اس در پہ حاضری
رب نے اثر دعا میں اُتارا تو میں گیا
گرد و نواح کا نہ مجھے ہوش تک رہا
دل نے نبی نبیﷺ جو پکارا تو میں گیا
پہلے تو چاک زخم جگر دیکھتے رہے
پھر دیکھنے والوں کی نظر دیکھتے رہے
تھمنے کہاں دیا تھا ہمیں خواہشات نے
رک رک کے بازوؤں کا ہنر دیکھتے رہے
لب پر کھلے ہوئے تھے تبسم کے پھول پر
جو خاک نظر تھے وہ شرر دیکھتے رہے
حضرتِ دل کا تِرے نام سے اٹھنا گرنا
وہی پہلے کی طرح شام سے اٹھنا گرنا
پھر چلے جائیں گے وہ پھر وہی فرقت ہو گی
کس لیے وصل کے ہنگام سے اٹھنا گرنا
کس کو فرصت ہے یہاں کون اذیت دے گا
وہ تو بس وحشت آلام سے اٹھنا گرنا
عمر گئی الفت زر جی سے الٰہی نہ گئی
مو سفید ہو گئے پر دل کی سیاسی نہ گئی
جی میں ٹھانا تھا کہ ہم ہجر میں جینے کے نہیں
مر گئے آہ یہ بات ہم سے نباہی نہ گئی
عمر گئی ہجر میں دل کرتا ہے مذکور وصال
بات اب تک یہی دیوانے کی واہی نہ گئی
کوئی چپ رہ کے بھی اظہار مکمل کر دے
کوئی جب چاہے مجھے بول کے پاگل کر دے
جب مرا دل ہو میں صحرا کی حمایت کر دوں
اگر اک بار زمانہ مجھے بادل کر دے
اب تو اندر کی خموشی سے بھی خوف آتا ہے
یہ کسی دن نہ اچانک مجھے جنگل کر دے
ہوا میں خوش بھی بہت تھا اسی مذاق سے میں
ہر اک پرندے سے ملتا رہا تپاک سے میں
ستارے مانگنے والو! ذرا سا حوصلہ بھی
فصیل پر ہی بنا دوں فلک کو چاک سے میں
مٹھاس جو ہے بہت ہے ہر ایک رشتے میں
یہ شہد اتار کے لاتا ہوں جیسے آک سے میں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
شبِ غم بھی آخر بسر ہو گئی
تڑپتے تڑپتے سحر ہو گئی
مدینہ کا دیدار مشکل نہیں
نگاہِ عنایت اگر ہو گئی
لیے قلبِ مضطر مدینہ میں پہنچا
تسلی زمیں چوم کر ہو گئی
میں نے جس روز تِری راہ سے ہٹ جانا ہے
تُو نے دنیا میرے قدموں سے لپٹ جانا ہے
مجھ کو لگتا ہے کہ رستے ہی یہاں منزل ہیں
ہر مسافر یونہی رستے سے پلٹ جانا ہے
کب تلک شہرِ تمنا میں بکھرنا ہے مجھے
آخر اک روز مجھے خود میں سمٹ جانا ہے
خول انساں نے سیاست کا چڑھا رکھا ہے
نقلی چہرے کو نقابوں میں چھپا رکھا ہے
آپ آ جائیں تو یہ بزم حسیں ہو جائے
آپ کی یاد سے محفل کو سجا رکھا ہے
ہم کو معلوم ہے دل جوئی کا انجام مگر
ہم نے دشمن کو کلیجے سے لگا رکھا ہے
کچھ زخم مِری روح کے گہرے بھی بہت ہیں
کچھ دل پہ تِری یاد کے پہرے بھی بہت ہیں
کچھ دب گئی مظلوم کی آہ ہنسی میں
کچھ لوگ مِرے شہر کے بہرے بھی بہت ہیں
بہہ جائیں گے برسات میں، یہ دیکھتے رہنا
پلکوں پہ تِری خواب سنہرے بھی بہت ہیں
لوگوں کے غم سنتے سنتے دل پتھر ہو جائے گا
ساری دنیا گھوم چکے ہیں جانے گھر کب آئے گا
دل کی بستی ایسی اجڑی خاک اڑے ہے یادوں کی
کب برکھا کی آمد ہو گی،۔ کب آنچل لہرائے گا
بات ہی سیدھی مان لو سادھو! بے دردوں کی نگری ہے
جو بھی من کی بات سنے گا یہاں وہ غم ہی پائے گا
اب ہر اک خیر میں موجود ہے شر کی صورت
باعث فخر ہوا عیب ہنر کی صورت
ملتی جلتی ہے کھنڈر سے مرے گھر کی صورت
چھت ہے انگنائی سی دیوار ہے در کی صورت
زندگی ختم ہوئی اور یہ حسرت ہی رہی
دل کی قیمت بھی لگاتا کوئی سر کی صورت
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جہاں کا نقش سنوارا حضورؐ کے دم سے
ملا ہے فیض یہ سارا حضور کے دم سے
لگا سکے گا بھلا کون برکتوں کا سراغ
عروج پر ہے ستارا حضور کے دم سے
نگاہ سُوئے مدینہ نجانے کب سے ہے
ہے رحمتوں کا اشارا حضور کے دم سے
زیبرا کراسنگ
میں کھڑی تھی زیبرا کراسنگ پر
اس امید پر شاید
وہ ادھر سے گزرے گا
اور ایک پل رک کر
خود سے وہ یہ بولے گا
اپنی برق رفتاری پر میں خود پشیماں ہوں
در بدر زندگی کے چکر میں
گھومتے ہیں خوشی کے چکر میں
روز کرتے ہیں ایک تازہ گناہ
آخری آخری کے چکر میں
پہلے چکر ابھی نہیں اترے
آ گئے پھر کسی کے چکر میں
چراغ درد جلاؤ کہ روشنی کم ہے
جنوں کی بزم سجاؤ کہ روشنی کم ہے
نہ چھیڑو ذکر تعفن بھرے زمانے کا
گلاب زخم کھلاؤ کہ روشنی کم ہے
نہ جانے چھپ گئی منزل کہاں اندھیروں میں
مرے قریب تر آؤ کہ روشنی کم ہے
صحرا کو دھول، دھول کو صحرا نِگل گیا
اور مجھ کو دردِ یار کا سایہ نگل گیا
بیٹے کو کھا گیا ہوسِ عیش کا قرار
اور بوڑھے باپ کو یہاں بیٹا نگل گیا
کھایا غریبِ شہر نے اک لقمۂ حلال
دھنوان جبکہ ساری ہی دنیا نگل گیا
اُس پہ ہو جائے اثر ایسا کہاں ہونا ہے
جتنا مرضی ہو ہُنر، ایسا کہاں ہونا ہے
تیری سوچوں سے مہکتا ہے مرا شہرِ سخن
کوئی خوشبو کا نگر ایسا کہاں ہونا ہے
ہو تو سکتا ہے کسی دن وہ نظر ڈھونڈے مجھے
ہو تو سکتا ہے مگر ایسا کہاں ہونا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
سارے احکام خدا جن کی زباں میں آئے
منزلت انؐ کی بھلا کس کے گماں میں آئے
مِرے مولاﷺ کا کرم میری زمیں کا اعجاز
سب جہانوں کے امیںﷺ مِرے جہاں میں آئے
آپﷺ کی ذات ہے وہ دائرہِ وصف و کمال
جو تصور میں سمائے نہ گماں میں آئے
خُوشنوائی تیرے نیرنگ سے ڈر لگتا ہے
مرحبا سُنیے تو آہنگ سے ڈر لگتا ہے
ہو کھرا بانٹ تو تُلنے سے نہیں کوئی گُریز
ہاں مگر جُنبشِ پاسنگ سے ڈر لگتا ہے
مصلحت کا یہ کفن رکھتا ہے بے داغ ہمیں
اہلِ ایمان ہیں ہم رنگ سے ڈر لگتا ہے
کہا تھا اس نے مجھ کو سوچنا مہنگا پڑے گا
محبت میں یہی اک مرحلہ مہنگا پڑے گا
کہانی اور کرداروں کو تم اک ساتھ رکھنا
کہیں کچھ رہ گیا جو فاصلہ مہنگا پڑے گا
تعلق توڑنے کا سلسلہ اچھا نہیں ہے
تجھے اس دشمنی کا فیصلہ مہنگا پڑے گا
یہ زندگی سوال تھی، جواب مانگنے لگے
فرشتے آ کے خواب میں حساب مانگنے لگے
اِدھر کِیا کرم کسی پہ، اور اُدھر جتا دیا
نماز پڑھ کے آئے اور شراب مانگنے لگے
تجارتوں کا رنگ بھی عبادتوں میں آ گیا
سلام پھیرتے ہی ہم ثواب مانگنے لگے
بدن تو جل گئے، سائے بچا لیے ہم نے
جہاں بھی دھوپ ملی، گھر بنا لیے ہم نے
اُس امتحان میں سنگین کس طرح اُٹھتی
دُعا کے واسطے جب ہاتھ اُٹھا لیے ہم نے
کٹھن تھی شرطِ رہِ مستقِیم، کیا کرتے
ہر ایک موڑ پہ کتبے سجا لیے ہم نے
لوگ ہلال شام سے بڑھ کر پل میں ماہ تمام ہوئے
ہم ہر برج میں گھٹتے گھٹتے صبح تلک گمنام ہوئے
ان لوگوں کی بات کرو جو عشق میں خوش انجام ہوئے
نجد میں قیس یہاں پر انشاؔ خار ہوئے ناکام ہوئے
کس کا چمکتا چہرا لائیں کس سورج سے مانگیں دھوپ
گھور اندھیرا چھا جاتا ہے خلوت دل میں شام ہوئے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
آپؐ ہیں ختم الرسُل، سلطانِؐ بطحا دائماً
کو بکو ہے “لا نبی بعدی“ کا چرچا، دائماً
ذاتِ اقدسؐ پر ہے قرباں ہر دو عالم کا جمال
حسنِ ہستی، اُن کی ہستی کاہے صدقہ، دائماً
ہے نزولِ قُدسیاں ، شام و سحر دربار پر
عرش کا ہے روضۂ انور پہ سایہ، دائماً
پھر تم رخ زیبا سے نقاب اپنے اٹھا دو
اچھا ہے کہ آئینے کو آئینہ دکھا دو
جب برق کے احساں سے بچانا ہے خودی کو
خود اپنے ہی نالوں سے نشیمن کو جلا دو
وہ سامنے آتے نہیں اچھا تو نہ آئیں
تم جذب محبت سے حجابات اٹھا دو
سُنا ہے جب سے کہ وقت میرا بگڑ رہا ہے
جگہ جگہ سے ہر ایک رشتہ اُدھڑ رہا ہے
جو تیرے ہاتھوں میں آج ہے، کل نہیں رہے گا
تُو جس پہ اِترا رہا ہے اتنا اکڑ رہا ہے
کہیں تعلق بحال کرنے میں ہم لگے ہیں
کہیں کسی سے ہمارا رشتہ بگڑ رہا ہے
زعفرانی کلام
منہ پہ ہر شخص کے تالے ہیں خدا خیر کرے
چپ سبھی بولنے والے ہیں خدا خیر کرے
کیا کہیں ساس سسر سالیاں کوئی بھی نہیں
ساری سسرالوں میں سالے ہیں خدا خیر کرے
مرغ اور مچھلی کو چھونے سے جنہیں پاپ لگے
ان کے ہاتھوں میں بھی بھالے ہیں خدا خیر کرے
زعفرانی کلام نئی تہذیب
نئی تعلیم تو نے حافظے پر کیا اثر ڈالا
کہ یاد آتے نہیں بھولے سے بھی احکام قرآنی
حیا جامے سے باہر ہو گئی اللہ ری آزادی
ابھی تھوڑی سی بڑھنے پائی تھی تعلیم نسوانی
مساوات اس کو کہتے ہیں نئی تہذیب کیا کہنا
کہ یکساں ہو گئی صورت زنانی اور مردانی
بھیڑیے کا مقدمہ
اشرف المخلوقات آدمی
کیا کبھی بھیڑیوں نے ہوس کا شکم
اپنے ہی کمسنوں کے بدن سے بھرا؟
کیا کبھی بھیڑیے اپنی مادہ کی مرضی کو جانے بنا
اس کے نزدیک جاتے دکھائی دئیے؟
کوئی ایسی گواہی ملی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہر دل کی تسلی بھی ہے، ہر غم کی دوا بھی
کیا چیز ہے مولاﷺ تیری خاکِ کفِ پا بھی
ہونے کو تو ہو گی دلِ مضطر کی دوا بھی
اکسیر ہے لیکن تیرےﷺ دامن کی ہوا بھی
لب پر ہے تیراﷺ نام تو کیا اور طلب ہو
اے صل علیٰﷺ یہ تو دوا بھی ہے دُعا بھی
اک اجنبی سے پیار کیا ہائے کیا کِیا
خود دل کو تار تار کیا ہائے کیا کیا
دل کو سکوتِ درد پہ مائل بھی کر لیا
آنکھوں کو آبشار کیا ہائے کیا کیا
جب دل مِرا ہر ایک تمنا سے بھر گیا
پھر تیرا انتظار کیا ہائے کیا کیا
رقص کرتے جھومتے اور جلتے پروانے ملے
مسکراتے موت کے سائے میں دیوانے ملے
اہل دل چلنے لگے جب بھی سوئے دیر و حرم
منتظر اس راہ میں ہر بار مے خانے ملے
دور ماضی جب چراغ یاد سے روشن ہوا
وقت کی کھلتی ہوئی ہر تہ میں افسانے ملے
انتظار
جب برکھا برسے گی
پی کے ملن کے لیے
پھر گوری ترسے گی
جب بادل گرجیں گے
پی کے بنا گوری
تورے نیناں برسیں گے
آج تک اہل زر نہیں بدلے
خود نگر کم نظر نہیں بدلے
راستے پر خطر نہیں بدلے
ہم نے خود جان کر نہیں بدلے
دور تعمیر نو کہیں کیسے
جب یہ دیوار و در نہیں بدلے
تُو کیوں پاس سے اٹھ چلا بیٹھے بیٹھے
ہوا تجھ کو کیا بے وفا بیٹھے بیٹھے
وہ آتے ہی آتے رہے پر قلق سے
مِرا کام ہی ہو گیا بیٹھے بیٹھے
اٹھاتے ہو کیوں اپنی محفل سے مجھ کو
لیا میں نے کیا آپ کا بیٹھے بیٹھے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
خوشا وہ زیست کہ ہوتی ہے بسر نعتوں میں
للّٰہ الحمد کہ ہوں شام و سحر نعتوں میں
اپنے لفظوں میں کہاں تاب وتواں تھی اتنی
ان کی توصیف سے ہیں لعل و گہر نعتوں میں
ان کی یادوں سے بسا لیتا ہوں دل کی بستی
کھلتے جاتے ہیں جو توفیق کے در نعتوں میں
ضبط کرنا جو سیکھ جاتے ہیں
بس وہی لوگ مسکراتے ہیں
جب تصور میں میرے آتے ہیں
یادِ ماضی بھی ساتھ لاتے ہیں
جب میں تنہا قدم بڑھاتی ہوں
چاند تارے بھی ساتھ آتے ہیں
میں اپنی حسرتوں کا گلہ گھونٹتا رہا
ہر شخص مسکرا کے مجھے دیکھتا رہا
افسوس حادثات کی اتنی تھی تیرگی
سایہ بھی اپنا ساتھ وہاں چھوڑتا رہا
دشمن سا ہو گیا ہے مرا نفس اس لیے
میں زندگی کی جنگ سدا ہارتا رہا
آنکھ بے خوابی پہ قرباں دل نثار انتظار
اور ہی ہو گا کوئی شکوہ گزار انتظار
کر دیا ہے کس کے جلوے نے شکار انتظار
میں ہوں اور آٹھوں پہر وہ رہگزار انتظار
کوئی مجھ سے حشر کو ملنے کا وعدہ کر گیا
اک قیامت ہو گئے لیل و نہار انتظار
سنگ دل ہے بے وفا ہے بے مروت ہے تو ہے
لوگ کہتے ہیں مجھے اس سے محبت ہے تو ہے
دل چرانے کی ادا ان کی بہت ہے دل نشیں
چور کی داڑھی میں تنکا، یہ کہاوت ہے تو ہے
میرے دل میں اس کی الفت دوستو بے لوث ہے
اس کی نظروں میں اگر یہ بھی تجارت ہے تو ہے
کبھی ہم پر بھی وہ بت مہرباں ہو جائے نا ممکن
محبت بھی جہاں میں کامراں ہو جائے نا ممکن
کچھ اس ڈھب سے نظامِ گلستاں ہو جائے نا ممکن
بہار آئے کبھی دورِ خزاں ہو جائے نا ممکن
مزا جب ہے کہ ہم کو قابلِ مشقِ ستم سمجھے
مگر اتنا بھی وہ بت مہرباں ہو جائے نا ممکن
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
دل کی حسرت ہے کہ ہر آن مدینے میں رہے
"مجھ خطار کار سا انسان مدینے میں رہے"
دور کیسے وہ رہے آپؐ کے در سے مولاؐ
جس کے ہر درد کا درمان مدینے میں رہے
دیکھے انوارِ حرم اور جمالِ گنبدﷺ
نکہت و رنگ پہ قربان مدینے میں رہے
یہ درد جگر ہے کہ دوا میرے لیے ہے
تو دور ہے مجھ سے یہ سزا میرے لیے ہے
یہ حسن یہ عارض یہ مہکتی ہوئی زلفیں
یہ چال قیامت کی ادا میرے لیے ہے
اے پیرِ مغاں کیا تجھے معلوم نہیں ہے
میخانے میں پُر جامِ وفا میرے لیے ہے
بخت کی جب تختیاں لکھی گئیں
میرے حق میں تلخیاں لکھی گئیں
آپ کو بخشی گئی بادِ صبا
اور مجھ کو آندھیاں لکھی گئیں
ان کے سارے دوش تو بخشے گئے
میری ساری غلطیاں لکھی گئیں
محبت دل میں اس بے داد گر کی
مصیبت ہو گئی ہے عمر بھر کی
کوئی ہو دیکھنے والا تو دیکھے
شبِ غم کس طرح ہم نے بسر کی
جبینِ شوق کے بے تاب سجدے
امانت ہیں تمہارے سنگِ در کی
واقف نہیں ہے تُو مِرے حالِ تباہ سے
خائف ہے آسمان بھی اب میری آہ سے
ڈُوبا ہوا ہے شہر اندھیروں میں اور پھر
اُمیدِ روشنی بھی تو مجھ رو سیاہ سے
اب ظُلمتوں نے ان کو بھی برباد کر دیا
وابستہ تھے جو لوگ یہاں مہر و ماہ سے
تم گئے تو اور کیا رہ جائے گا
موت کا اک آسرا رہ جائے گا
زندگی میں اشکِ غم اور سسکیاں
کیا یہی اک سلسلہ رہ جائے گا
بام پر آ جاؤ تو وہ چاند بھی
دیکھ لینا دیکھتا رہ جائے گا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
نُور و نکہت میں ڈھلی ظلمتِ شب آج کے دن
زیست کو مِل گیا جینے کا سبب آج کے دن
آسماں جُھوم اٹھے، خاک ہنسی، لہرائی
تیری آمد کا تھا انداز عجب آج کے دن
آدمیت کہ مقدّر میں رہی جس کے فُغاں
تیرے آنے سے ہوئی خندہ بہ لب آج کے دن
کن سوچوں میں ڈوب گئے ہو تم بھی نا
خود ہی خود سے بھاگ رہے ہو تم بھی نا
تم کو دیکھے بِن اک پل بھی چین نہیں
ایسے دل میں آن بسے ہو تم بھی نا
لاکھ جتن کر کے دل تم کو بھولا تھا
پھر سے مجھ کو آن ملے ہو تم بھی نا
کیوں بناتے ہو آشیاں لوگو
پھر جو چمکیں گی بجلیاں لوگو
چاندنی رات بھی اندھیری ہے
رنگ بدلا ہے آسماں لوگو
جل چکا ہے نشیمنِ امید
رات گزرے گی اب کہاں لوگو
اس شہرِ بے کمال میں کچھ تو کمال کر
دم توڑتی حیات کی سانسیں بحال کر
جاتے ہوئے وہ شخص مجھے قید کر گیا
رستے میں رکھ گیا مِری آنکھیں نکال کر
جب پہلی بار وہ مجھے اپنا نہیں لگا
رکھا ہوا ہے میں نے وہ لمحہ سنبھال کر
گمراہ ہو کے رہ گئے فرقوں میں بٹ گئے
وہ قافلے جو جادۂ الفت سے ہٹ گئے
اس حُسنِ التفات کے قربان جائیے
دیکھا مجھے تو سائے سے اپنے لپٹ گئے
ہم آج بھی ہیں عشق کا اک نقشِ تابناک
ہم وہ نہیں جو راہِ محبت سے ہٹ گئے
بغض و نفرت نہ عداوت کا کوئی پھول اگا
دل کے آنگن میں محبت کا کوئی پھول اگا
اپنی بربادئ دل کا نہ گلہ کر اے دوست
غم کی ٹہنی پہ مسرّت کا کوئی پھول اگا
دیکھ رُسوا نہ کہیں کر دے زمانے میں تجھے
منصب و جاہ نہ دولت کا کوئی پھول اگا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تصویر تِری دل میں ہر سُو ہی لگائی ہے
دھڑکن نے تِری خاطر کیا بزم سجائی ہے
دھڑکن کی صدا میں ہے تیرا ہی فقط چرچا
تیرے لیے ہی دل کا اندازِ نوائی ہے
ہے تُو ہی حسیں جگ میں تقریر نہیں اس پر
"ہم عشق کے بندے ہیں کیوں بات بڑھائی ہے"
ایک سوال
مِرا زندگی سے سوال ہے
کہ وفا میں کیوں یہ ملال ہے
ہوئیں کیوں وہ قُربتیں رائیگاں
جو بہار شب میں تھیں گُلفشاں
مِرے خواب کس نے مٹا دئیے
مِرے گیت کس نے چُرا لیے
آزار
جس نے آزار دیا ہے
اسے راحت دو
کہ راحت کی سیڑھی سے
گزر کر ہی
وہ آزار کی خندق میں
گر سکے گا
ان کی باتوں کو تولتا ہوں میں
پھر زباں اپنی کھولتا ہوں میں
کیوں نہ میٹھا ہو نیم نفرت کا
پیار کا رس جو گھولتا ہوں میں
دوش دینے سے پہلے اوروں کو
عیب اپنا ٹٹولتا ہوں میں
اس کا انتظار کیا آخری شمار تک
ہم نے جس کو کھو دیا آخری شمار تک
چاند اس مقام سے اک قدم نہ ہٹ سکا
میں ہی ڈوبتا گیا آخری شمار تک
چاندنی میں ایک سانس لی تھی اتنا یاد ہے
اور پھر اندھیرا تھا آخری شمار تک
دل کا لہو ذرا سا فضا میں اچھال دو
فنکار ہو تو فن کو اچھوتا خیال دو
ماضی کو بھول جاؤ، ثبوتِ کمال دو
یا خود ہی سوچو اور وجوہِ زوال دو
ہو جستجو تو منزلیں ہر ہر قدم پہ ہیں
دل سے خیالِ ختم سفر ہی نکال دو
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
سُخن کے باب میں مدح و ثنا ضروری ہے
حسین ماتھے پہ جھُومر سجا ضروری ہے
نماز کامل و اکمل درودِ پاکﷺ سے ہے
دُعا کے پر کو بھی صلیِ علیٰ ضروری ہے
مری زبان میں لکنت ہے یا رسول اللہﷺ
بیانِ شوق کو تیری رضا ضروری ہے
حرفِ حق بن کے کتابوں میں مِلوں گی تم سے
میں تو خُوشبو کے صحیفوں میں ملوں گی تم سے
راہ کی دُور ہُوا کرتی ہے جن سے ظُلمت
ایسے تابندہ چراغوں میں ملوں گی تم سے
میرے چہرے سے جھلکتی ہے حیا کی تابش
اپنی حُرمت کے حجابوں میں ملوں گی تم سے
مِرے لہو کو مِرے زخم کی دوا کہیے
جلے مکاں کے دھوئیں کو ہی اب صبا کہیے
بلکتے شہر کی گلیوں سے اگنے والی سحر
سحر نہیں ہے اسے رات کی قضا کہیے
لہو رلاتی رہی جو وفا کی تعبیریں
وفا نہ کہیے اسے اب اسے جفا کہیے
عقل کی اِک نہ سنی عشق کو اُستاد کِیا
ہم نے لبیک کہا، دل نے جو اِرشاد کیا
اُس نے لیلیٰ کبھی ہیر اور کبھی شیریں بن کر
ہم کو مجنوں، کبھی رانجھا، کبھی فرہاد کیا
اِک شکاری کو تِرے غم نے بنایا قیدی
اِک پرندے کو تِرے عشق نے آزاد کِیا
دعا کی نرم پناہوں میں جا کے لیٹ گیا
میں بھیک مانگتے شاہوں میں جا کے لیٹ گیا
گزشتہ رات زمانے کی آنکھ لگتے ہی
میں ایک چاند کی باہوں میں جا کے لیٹ گیا
ہر اک زبان پہ غیبت کے پھنسی پھوڑے تھے
سو کار خیر گناہوں میں جا کے لیٹ گیا
یاد پردیس میں اس شخص کی کیا آئی ہے
جیسے صحرا میں محبت کی صدا آئی ہے
اپنی قسمت میں سکوں نام کی ریکھا ہی نہ تھی
جو خوشی آئی ہے وہ بن کے سزا آئی ہے
ہائے وہ لمحہ بھی کیا لمحہ تھا جس لمحے میں
لے کے پیغام تیرا بادِ صبا آئی ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
دیکھ لوں خلد کا منظر وہ سہانا اک بار
کاش ہو جائے مِرا طیبہ میں جانا اک بار
کاش مل جائے نبیﷺ کا وہ زمانہ اک بار
ان کی خوشبو سے مہک جائے گھرانا اک بار
دل تڑپتا ہے مدینے کی زیارت کے لیے
کاش ہو جائے کوئی حج کا بہانہ اک بار
تنہائی کو میلہ کر دو
میرا سپنا سچا کر دو
انگلی رکھ دو میرے لب پر
میری بات کو میٹھا کر دو
آنکھ کے منظر میں آ بیٹھو
ہر منظر ہو اُجلا کر دو
ان کی قبائے زر انہیں کیا کیا بنا گئی
اپنی پھٹی قمیص ہنر کو بھی کھا گئی
اے عمرِ تیز گام! یہ کیا ہو گیا تجھے
تُو بھی خیال و خواب کی باتوں میں آ گئی
راہِ طلب تو پہلے ہی دشوار تھی اور اب
اک آخری امید بھی رستہ دکھا گئی
مجھے دن رات فکر آشیاں معلوم ہوتی ہے
کہ برگشتہ نگاہ باغباں معلوم ہوتی ہے
جو دل آزاد ہو تو ہر جگہ حاصل ہے آزادی
قفس میں بھی بہار گلستاں معلوم ہوتی ہے
پئے گل گشت شاید آج وہ جان بہار آیا
چمن کی پتی پتی گلستاں معلوم ہوتی ہے
نہ دولت کام آئے گی نہ طاقت کام آئے گی
شرافت ہے کھرا سکہ، شرافت کام آئے گی
نہ دیکھیں ہم بھری آنکھوں سے اپنے ہاتھ کے چھالے
کریں محبت مِرے بھائی! کہ محنت کام آئے گی
رہیں جس حال میں لیکن چلیں ہم راستہ سیدھا
یہی اپنی روش روزِ قیامت کام آئے گی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کچھ نہیں کرتا مسیحا تو دوا دیتا ہے
کام رب کا ہے شفا دینا، شفا دیتا ہے
صبح ہوتے ہیں اجالوں کا پتا دیتا ہے
وہ جو سورج ہے چراغوں کو بجھا دیتا ہے
میرا محبوب مجھے کیسی سزا دیتا ہے
وار کرتا نہیں نظروں سے گرا دیتا ہے
تم
تم اگر زخم ہوتے
تو بھر جاتے کب کے
اگر رنج ہوتے
تو میں بھول جاتی
اگر پاپ ہوتے
تو دھو ڈالتی میں
ہم نے اس شہر میں جینے کا ہنر ضائع کیا
منزلیں ایسی ملی ہیں کہ سفر ضائع کیا
شعر بے ربطی افکار سے بوجھل ٹھہرے
ناز تھا جس پہ وہ اندازِ نظر ضائع کیا
تختۂ گل میں لہو رنگ ہے کانٹوں کی بہار
جانے کیا سوچ کے یہ خون جگر ضائع کیا
رستے لپیٹ کر سبھی منزل پہ لائے ہیں
کھوئے سفر ہی باندھ کے ساحل پہ لائے ہیں
پہلے تو ڈھونڈ ڈھانڈ کے لائے وجود کو
اور پھر ہنکا کے ذات کو محمل پہ لائے ہیں
اٹھتی ہے ہر فرات میں اک موجِ اضطراب
جب بھی وہ کارواں رہ قاتل پہ لائے ہیں
کیا بجھاتا پیاس پیاسے کی دہانہ ریت کا
لے اڑا آبِ حقیقت ہر فسانہ ریت کا
نامرادی کے لیے ناداں بڑھا اس کی طرف
دور سے دیکھا جو عکسِ مشفقانہ ریت کا
آسماں نے لے لیا آغوش میں بحرِ سراب
اس زمیں پر تن گیا اک شامیانہ ریت کا
بھیج ساون کی گھٹا پانی پلا
یا کسی دریا کو لا پانی پلا
گم تھا صحرا میں خیالِ آب جو
خواب میں کہتا رہا پانی پلا
جتنے بادل ہیں تیری مٹھی میں ہیں
اے ہوا! سُن اے ہوا، پانی پلا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
دشت پہ موج پہ دریا پہ حکومت تیری
چاند تاروں میں نظر آتی ہے قدرت تیری
پھول کلیوں میں تِری کاریگری ہےظاہر
ذرے ذرے میں نمایاں میں ہوئی حِکمت تیری
تِرے الطاف و عنایات کی بارش ہم پر
ہم گنہگاروں پہ ہر آن ہے رحمت تیری
ادھورے خواب
سب کچھ ہوتے ہوئے بھی
کچھ نہیں پاس
ادھورے ہیں خواب
ادھوری ہے پیاس
نہ کوئی حسرت باقی
اور نہ ہے کوئی آس
آرزو
شام کے سائے بہت گہرے ہوئے
نیند پلکوں کے دریچوں سے
مِری آنکھوں کو بوجھل کر گئی
خواب میں تم تھیں
تمہارے قرب کا احساس تھا
خواب جب ٹوٹا تو میں تھا
یہ زخمِ دل ہرا ہونے کا مطلب
دوبارہ سامنا ہونے کا مطلب
ہمارے بیچ قربت ہی نہیں تھی
ہمارے پھر جدا ہونے کا مطلب
تمہاری بھی حفاظت ہم کریں گے
تمہارے پھر خدا ہونے کا مطلب
پھر تِرا کوزہ گر بھرم رکھا
خاک نے چاک پر قدم رکھا
میں نے رکھی تھیں راہ پر آنکھیں
اور بدلے میں اس نے نم رکھا
درد کا ہو رہا تھا بٹوارا
اپنے حصے کا اس نے کم رکھا
سائل بھی ہیں اس دور میں کاسے بھی بہت ہیں
مل جائیں تو اب جُھوٹے دلاسے بھی بہت ہیں
اللہ! یہ گھبرا کے کہیں زہر نہ پی لیں
کچھ لوگ مِرے شہر میں پیاسے بھی بہت ہیں
میں دیکھ رہا ہوں جو چراغوں کے نئے زخم
شکوے نئے موسم کی ہوا سے بھی بہت ہیں
کیسی برکت تِرے درود میں ہے
اک ستارہ مِرے وجود میں ہے
وسوسے، ڈر، گُمان ہیں سب ہیچ
اک یقیں اب مِرے ورود میں ہے
سرحدوں پر بھی ہے نظر میری
دائرہ کار بھی حدود میں ہے
عمر بھر میں تو امانت میں خیانت نہ کروں
صبر اور شکر کروں تیری شکایت نہ کروں
درد مظلوم کا سینے میں بسا لوں اپنے
بھول کر بھی کبھی ظالم کی حمایت نہ کروں
تیری مرضی میں ہی شامل رہے مرضی میری
کام کوئی بھی بِنا تیری اجازت نہ کروں
دل میں آسیبِ تمنّا کو چُھپانے والے
ساتھ میں رو لے کبھی مجھ کو رُلانے والے
لاکھ تعویذ بندھے، خوب دعائیں مانگیں
مگر آئے ہی نہیں لوٹ کے آنے والے
کیا گزرتی ہے مِرے دل پہ جُدائی میں تِری
تجھ کو احساس بھی ہے چھوڑ کے جانے والے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جدھر دیکھو جمال مصطفیٰﷺ کی ضوفشانی ہے
جہاں دیکھو یتیمِﷺ آمنہ کی نعت خوانی ہے
خلوصِ دل ہی کام آتا ہے دربارِ رسالتﷺ میں
جو آنسو تھا وہ موتی ہے، جو پانی تھا وہ پانی ہے
تمہاری سیرتوں میں ہے کوئی رنگ ان کی سیرت کا
تمہارے پاس کیا عشقِ محمدﷺ کی نشانی ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
یوں تو گرچہ نہیں امکان مدینے میں رہے
"مجھ خطار کار سا انسان مدینے میں رہے"
ہو کرم انﷺ کا تو عاصی کا مقدر جاگے
اور قسمت ہو مہربان مدینے میں رہے
شہرِ طیبہ کو یہ اعزاز رہا ہے حاصل
شمعِ حق کے قدردان مدینے میں رہے
میری آنکھوں میں خواب رہنے دو
دشتِ دل میں سراب رہنے دو
دو قدم میرے ساتھ بھی جاناں
واپسی کے عذاب رہنے دو
اس وفا کا جواز پیش کرو
اور سارے حساب رہنے دو
چاند نگریا دھوکا دے گی شاعر کو معلوم نہ تھا
نظم و غزل کی جوت جلے گی ایسا تو مقسوم نہ تھا
شہرِ ستم میں رہنے والے جانے کہاں روپوش ہوئے
ہاتھ میں سب کے تیغِ ستم تھی جہاں کوئی مظلوم نہ تھا
دل دے کے چاہت پا لینا، چاہت دے کر کربِ جہاں
لیکن وہ نادان نہیں تھا میں بھی کچھ معصوم نہ تھا
ذہن برگشتہ ہے خلقت کی فراوانی سے
شہر کے شور کا اک رشتہ ہے ویرانی سے
عیش کوشانِ جہاں اس کا مزا کیا پائیں
مدحتِ لطف و کرم ہوتی ہے ناداری سے
شہر و بازار میں ہے شور کہ مردے جاگے
اک قیامت ہے بپا تیری شناسائی سے
امن و سکون، چین کی خاطر ترس گئی
دنیا ستمگروں کے شکنجے میں کس گئی
بے تاب ہو کے چار سُو جلنے لگی فضا
شعلوں کی آگ وقت کے پھولوں میں بس گئی
گلشن میں پھول کھلنے کا احساس لُٹ گیا
نفرت کی ہوا چوس کے غنچوں کا رس گئی
کبھی صحرا کبھی خیمہ کبھی گھر دیتا ہے
وہ جو دیتا ہے تو پھر کشتیاں بھر دیتا ہے
ہم تو بس دل کو سنبھالا سا دئیے جاتے ہیں
یہ وہی ہے جو تڑپنے کا جگر دیتا ہے
میں اسے دل کی نگاہوں سے پڑھا کرتا ہوں
وہ مجھے آنکھ نہیں، ذوقِ نظر دیتا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
حشر میں عشقِ شہِ کونینﷺ دے گا فائدہ
اے خدا میرے مقدر میں بھی لکھنا فائدہ
امتِ خیرالوری میں خلق کر کے، حشر تک
مصطفیٰﷺ کے امتی کو حق نے بخشا فائدہ
اک عمل کرنے کے بدلے نیکیاں ملتی ہیں دس
مصطفیٰﷺ کے امتی لیتے ہیں کتنا فائدہ
میں جانتی ہوں بہت کچھ وفا کے بارے میں
نہ ذکر کیجیے میری ادا کے بارے میں
کوئی بھی آئے تو اس سے ضرور پوچھیں گے
ہم اپنے گاؤں کی آب و ہوا کے بارے میں
کٹی ہو دھوپ کی شدت میں جس کی عمر تمام
وہ کیا بتائے گا بادِ صبا کے بارے میں
دنیا کی رہ پہ یار ہمارا بھی چل پڑا
جس ٹیک پر تھے ہم وہ سہارا بھی چل پڑا
آنکھیں بندھی ہوئی تھیں مناظر کی ڈور سے
کشتی چلی تو ساتھ کنارا بھی چل پڑا
حالانکہ آزمایا ہوا تھا وہ ایک بار
لیکن میں اس کے ساتھ دوبارہ بھی چل پڑا
زبان سنگ سے مجھ کو پکارتے جاؤ
یہ قرض بھی مِرے سر سے اتارتے جاؤ
ہر ایک رات ہے منسوب کوئے قاتل سے
یہ رات بھی سرِ مقتل گزارتے جاؤ
حروف بارِ حکایت اٹھا نہیں سکتے
ورق ورق کوئی چہرہ اتارتے جاؤ
نشاط و غم سے زمانے کے ہے جو بیگانہ
مِری نگاہ میں ہشیار ہے وہ دیوانہ
یہ کس نے دیکھ لیا مدھ بھری نگاہوں سے
چھلک پڑا ہے تمنا کا میری پیمانہ
نگاہِ شوق سے الفت کی پوچھ کیفیت
زباں سنا نہیں سکتی ہے دل کا افسانہ
تو گفتگو کے شوق میں مجھ کو نڈھال کر
میں کچھ نہ کہہ سکوں مجھے اتنے سوال کر
دریا سموئے بیٹھا تھا آنکھوں کے دشت میں
جب جب کہا گیا مجھے کوئی کمال کر
ہارے ہوئے ہے شخص کو ہیڈ اور ٹیل کیا
کس کو دکھا رہا ہے تُو سکہ اچھال کر
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
حرفوں نے مِرے بھیک جو پائی تِرے در کی
کرتے ہیں سدا مدح سرائی ترے در کی
یہ مدح و ثنا صوت و صدا شعر و ادب سب
یہ اذن و عطا خاص کمائی ترے در کی
جچتے ہی نہیں قصرِ شہی اس کی نظر میں
قدرت نے جسے راہ دکھائی ترے در کی
کرتے ہیں اعتراض کہ ہم بولتے نہیں
ہم بولنے لگیں تو صنم بولتے نہیں
خاموش رہنا چاہیں تو رہتے ہیں دیر تک
جب بولنے پہ آئیں تو کم بولتے نہیں
بچنے کا صرف ایک طریقہ ہے احتیاط
چوروں کے چلتے وقت قدم بولتے نہیں
خموشی بھی زبانِ مدعا معلوم ہوتی ہے
محبت التجا ہی التجا معلوم ہوتی ہے
مجھے تو اپنی بربادی کا شکوہ ہے مقدر سے
یہ میں نے کب کہا ان کی خطا معلوم ہوتی ہے
مجھے برباد غم ہو کر تِرے در تک پہنچنا ہے
یہ بربادی مِری خود رہنما معلوم ہوتی ہے
دودھ کی نہریں نکالیں جانفشانی بھی کریں
اب نہیں ممکن کہ ہم پتھر کو پانی بھی کریں
عزم سارے طاق پر تم نے سجا کر رکھ دئیے
اور پھر اُمید ہم سے، پاسبانی بھی کریں
مصلحت آمیزیاں سب غیر مُمکن کچھ نہیں
تم کہو تو وقت کو ہم پانی پانی بھی کریں
ثواب کچھ نہ ملا بس گناہ کرتے رہے
تمام عمر یوں ہی دل تباہ کرتے رہے
عجب نہیں کہ بہک جاؤ راہ سے اپنی
یوں ہی ہر اک سے جو تم رسم و راہ کرتے رہے
ہمیں تو راس بالآخر اندھیرے آ ہی گئے
وہ عمر بھر طلب مہر و ماہ کرتے رہے
نہ جس کا کوئی سہارا ہو وہ کدھر جائے
نہ آئے موت تو بے موت کیسے مر جائے
میں اس خیال سے ان سے گلا نہیں کرتا
کہیں نہ پھول سے چہرے کا رنگ اتر جائے
تو ہی بتا دے مجھے بے کسیٔ منزل شوق
جو راہ سے بھی نہ واقف ہو وہ کدھر جائے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
توحید کا ساون ہے برسا سرکارِﷺ مدینہ آئے ہیں
گلزارِ نبوت مہک اُٹھا سرکارِﷺ مدینہ آئے ہیں
اب فرش کا عرش تلک قد ہے، نبیوں کے نبی کی آمد ہے
بشریت کا سر اونچا ہوا سرکارِﷺ مدینہ آئے ہیں
ظلمت نے موت کا سوچ لیا، خود اپنا چہرہ نوچ لیا
ہر سمت سویرا جاگ گیا سرکارِﷺ مدینہ آئے ہیں
گردشِ وقت کی رفتار کے بعد
گرچہ الہام کا دروازہ نہیں وا ہوتا
کوئی زِیرک ہے جو سمجھا دے مجھے
کون سی شے ہے پسِ پردہ
مسلسل اب تک
جو میرے دل کو
کھینچتا ہے جنگ میں شمشیر کیا
اب رہی شمشیر کی توقیر کیا
منہدم کر دے گی تیرے خواب کو
پوچھتا ہے خواب کی تعبیر کیا
میں تو خود ہوں اپنی وحشت کا اسیر
تُو مجھے پہنائے گا زنجیر کیا
یہ سزا ہے کہ دعا ہے کیا ہے
عشق نعمت ہے بلا ہے کیا ہے
داغِ خوں، رنگِ حنا ہے کیا ہے
تیرے دامن پہ لگا ہے کیا ہے
شور ہے دل کی صدا ہے کیا ہے
کوئی دستک ہے ہوا ہے کیا ہے
دل مبارک ہوں تجھ کو غم اس کے
ہیں کرم کی طرح ستم اس کے
جس کو اچھا لگے نہ جام سفال
ہاتھ میں دے دو جام جم اس کے
رونقیں بڑھ گئیں مرے گھر کی
ہیں مبارک بہت قدم اس کے
آپ کے شہر میں آ کر یہ سزا پائی ہے
انگلیاں اٹھتی ہیں سب کہتے ہیں سودائی ہے
اب وہ وحشت ہے نہ وہ بادیہ پیمائی ہے
تیرا بیمار ہے اور گوشۂ تنہائی ہے
اس تماشہ گہ ایجاد میں اے دیدہ ورو
جو تماشہ ہے وہی اپنا تماشائی ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تربت شہ عالمﷺ کی نظروں میں سمائی ہے
بینائی مِری اس نے آنکھوں کی بڑھائی ہے
یاں ابتر و اعلیٰ کی تکرار ہے لا حاصل
"ہم عشق کے بندے ہیں کیوں بات بڑھائی ہے"
پردہ رُوئے جاناں سے ہٹتے ہی دو عالم کا
ہر ذرہ ہے دیوانہ ہر شخص فدائی ہے
دھوپ کا نام جو ہے سایہ تو سایہ ہی سہی
آپ کہتے ہیں اگر ایسا تو ایسا ہی سہی
ہم بھی جینے کا محبت میں تماشہ کر لیں
زندگی جو ہے تماشہ تو تماشہ ہی سہی
کیوں نہ یہ مرتے ہوئے لمحے غنیمت جانوں
لمحوں کا ایسا ہی ہے لاشہ تو لاشہ ہی سہی
غم کا آنسو ہو تو آنکھوں کو خوشی ملتی ہے
خشک لکڑی کو تو دیمک بھی بڑی لگتی ہے
گھر سے یوں ہی نہیں مانوس ہواؤں کا گزر
ایک کھڑکی ہے جو ساحل کی طرف کُھلتی ہے
کب تقاضا ہے کہ تم دور تلک ساتھ رہو
یہ تو گاڑی ہے کسی موڑ پہ رُک سکتی ہے
جگر کا خون دلِ داغدار ان کے لیے
میں وقف کر چکا یہ لالہ زار ان کے لیے
چمن پہ دونوں کا حق ہے مگر ہے فرق اتنا
خزاں ہمارے لیے ہے، بہار ان کے لیے
جنہیں خبر نہ ہوئی آج تک مِرے دل کی
تڑپ رہا ہے دلِ بے قرار ان کے لیے
خوشی تلاش نہ کر آدمی کے چہرے پر
اداسیاں ہیں بہت زندگی کے چہرے پر
نہ جانے کس کی نظر کھا گئی سکونِ نظر
کہ اضطراب سا ہے اب خوشی کے چہرے پر
اندھیری رات میں جینے کے لوگ عادی ہیں
نقاب ڈال دو خود روشنی کے چہرے پر
پہچان کم ہوئی نہ شناسائی کم ہوئی
باقی ہے زخم زخم کی گہرائی کم ہوئی
سلگا ہوا ہے زیست کا صحرا افق افق
چہروں کی دل کشی گئی زیبائی کم ہوئی
دوری کا دشت جس کے لیے سازگار تھا
آنگن میں قرب کے وہ شناسائی کم ہوئی
یہ ریگزار اگر راہگزر کا حصہ ہے
تو پھر یہ آبلہ پائی سفر کا حصہ ہے
یہ ساری فتنہ گری ایک حرفِ کذب کی ہے
تمام آگ اسی اک شرر کا حصہ ہے
بحال کر گیا سانسیں کسی کا دستِ شفا
یہ باقی عمر اُسی چارہ گرکا حصہ ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
رکھا ہے مدینے کا سفر سمتِ نظر میں
اشکوں کے خزانے ہیں مِرے زادِ سفر میں
بخشی مِرے دل کو تِری رحمت نے یہ رقت
امیدِ شفاعت ہے مِرے دیدۂ تر میں
وہ نُور تھا رُخ پر جو کرے آنکھ کو خِیرہ
ہے آپ کے جلوے کی جھلک شمس و قمر میں
گمنام
ہم نے کتنے دیپ جلائے
ہم نے کتنے نقش بنائے
ہم نے کتنے پھول کھلائے
چلتے چلتے آئے یہاں تک
سوزِ نہاں تک
سُود و زیاں تک
وحشت بھی چیخنے لگی گھر بار دیکھ کر
ڈرتا ہوں روز سایۂ دیوار دیکھ کر
گھر کی سفیدی چاٹ گئیں غم کی دیمکیں
مکڑی نے جالے بُن دئیے آثار دیکھ کر
خمدار قوس ہے کہ بدن اسکا کیا کہیں
رکتا ہے دل سبھی کا یہ پرکار دیکھ کر
امید ان کی کم ہی سہی آرزو تو ہے
منزل ہمیں ملے نہ ملے جستجو تو ہے
امرت کی آرزو نے کہو تم کو کیا دیا
ہم لوگ زہر نوش سہی آبرو تو ہے
دنیا میں ہم کچھ ایسے تہی دست بھی نہیں
اجداد کا ہماری رگوں میں لہو تو ہے
چہل پہل ہے نہ تابندگی ہے گلیوں میں
میں ڈھونڈتا ہوں کہاں زندگی ہے گلیوں میں
کہ بام و در سے یہاں وحشتیں ٹپکتی ہیں
عجب طرح کی سراسیمگی ہے گلیوں میں
سمٹ گئی ہے گھروں تک ہی رونقِ دنیا
خزاں مزاج سی پژمردگی ہے گلیوں میں
کھلونوں کی دُکاں پر درد کا شہکار لایا ہوں
یہ کچھ آنسو ہیں جن کو بیچنے بازار آیا ہوں
سناؤں تو یہ ڈر ہے آپ پر بارِ گراں ہو گا
وہ اک سادہ سا افسانہ جسے آنکھوں میں پایا ہوں
ذرا نظریں اٹھا کر مسکرا کر دیکھ تو لیجے
بڑی امید لے کر آپ کی محفل میں آیا ہوں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جس کو گنبد کے نظارے مل گئے
اس کو جینے کے سہارے مل گئے
سرورِ کونینﷺ کی نظرِ کرم
غم کے طوفاں میں کنارے مل گئے
تاج شاہی کی اسے پرواہ نہیں
جس کو رحمت کے اشارے مل گئے
باغی پرندے
مندروں کی گھنٹیاں شور پیدا کرتی ہیں
سات پھیرے یا تین دفعہ سر کا ہلانا
مسجدوں، مندروں میں سناٹا بڑھا دیتا ہے
گِرجا گھروں کے اندر ایک دوسرے میں پیوست ہونٹ
شہر کی تاریکی کو بڑھا دیتے ہیں
ہم سب پہ نحوست سی برستی تو نہیں ہے
بستی مِری فرعون کی بستی تو نہیں ہے
لگتا ہے کہ اک بار "انا البرق" کہا تھا
جلنا ہی مِرا مقصدِ ہستی تو نہیں ہے
مانا کہ اُجالوں سے ہیں مانوس سبھی لوگ
ہر آنکھ نظارے کو ترستی تو نہیں ہے
یہ زندگی کا ہے اک سانحہ کہیں کس سے
ہمارے بیچ میں ہے فاصلہ کہیں کس سے
تمام رات تو الجھ سوار تھی مجھ پر
تبھی میں دیر سے شاید اٹھا کہیں کس سے
ہمارے پاس میں دولت کی ہے کمی شاید
ہر ایک شخص ہے ہم سے جدا کہیں کس سے
تمام شہر ہی تکتا ہے دشمنوں کی طرح
کبھی تو ہم سے کوئی ملتا دوستوں کی طرح
بچھڑ کے شاخ سے سوکھے ہوئے حسیں پتے
بھٹک رہے ہیں ہواؤں میں پاگلوں کی طرح
کبھی پہاڑ سے، وادی سے، ریت، پتھر سے
ہر ایک راہ سے گزرا ہوں پانیوں کی طرح
غور کرتے ہیں تو فطرت کا پتہ چلتا ہے
دشت، ٹیلوں کے تعاقب میں ہوا رکھتا ہے
بڑھتی جاتی ہے چراغوں کو بُجھانے سے نگاہ
لگتے لگتے یہ ہُنر ہاتھ کہیں لگتا ہے
ہم تِرے پاس بہانے سے چلے آتے ہیں
تِیر کو فاصلہ طے کرنا نہیں پڑتا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
صرف اک دو نہیں، قرآن کے پارے سارے
مدحِ سرکارﷺ میں خالق نے اُتارے سارے
احمدﷺ و حامد و محمود و محمدﷺ کی طرح
ہیں سکوں بخش شہاﷺ نام تمہارے سارے
اک تِرا نام ہی کام آیا مصیبت میں شہاﷺ
ورنہ برگشتہ ملے جو تھے ہمارے، سارے
نہیں ہیں دَیر و حرم صاحب نظر کے لیے
مچل رہی ہے جبیں تیرے سنگِ در کے لیے
ہمارے پاؤں کے بوسے لیے ستاروں نے
تمہاری راہ میں نکلے جو ہم سفر کے لیے
یہ کیسی انجمنِ ناز ہے کہ دیوانے
ترس رہے ہیں قرارِ دل و نظر کے لیے
اس بزم میں میرا کوئی دمساز نہیں ہے
شاہیں ہوں مگر طاقت پرواز نہیں ہے
اے ذوق طلب مجھ کو تری داد کا شکوہ
مانا کہ ابھی تو مِرا ہمراز نہیں ہے
تکمیل طلب ہے ابھی الفت کا فسانہ
شوخی نہیں وحشت نہیں انداز نہیں ہے
گلستاں لٹ گیا ہر برگ و ثمر قتل ہوا
اب کے امیدوں کا ایک ایک شجر قتل ہوا
جلتے سائے مِرے ہمراہ چلے شہر بہ شہر
منزلیں خاک ہوئیں،۔ اور سفر قتل ہوا
ڈھونڈتا پھرتا ہوں ہر موڑ پہ صورت اپنی
کیا تماشہ ہے کہ ہر موڑ پہ گھر قتل ہوا